Lesco Aur Bijli Ka Azab (1)
لیسکو اور بجلی کا عذاب (1)

چند دن پہلے چنیوٹ کے ایک سکول میں پنکھے بند رکھنے کی وجہ سے حکمرانوں کا خون کھول گیا تھا اور پھر چند گھنٹے کے بعد ہی سکول کے مالک کے خلاف حکومتی مدعیت میں پرچہ درج ہوگیا تھا۔ دوسری طرف حالت یہ ہے کہ خود وزیر اعلٰی پنجاب کا حلقہ پچھلے پندرہ دن سے بجلی کے بدترين بحران کا شکار ہے جہاں دو دو دن تک بجلی غائب رہتی ہے۔ جب سے گرمی کا موسم شروع ہوا ہے تو کوئی رات ایسی نہیں گزری جب تین سے چار گھنٹے بجلی غائب نہ ہوتی ہو اور پچھلے پورے ہفتہ میں گوالہ کالونی، پاک عرب سوسائٹی، شاداب کالونی، چندرائے روڈ، محبوب گارڈن جو وزیر اعلٰی پنجاب کے حلقے میں شامل ہیں بیس بیس گھنٹے مسلسل بجلی سے محروم رہے ہیں۔
گزشتہ پیر کی رات کو کوٹ لکھپت گرڈ کو مرمت کے لئے بند کیا گیا اور رات ایک بجے بجلی جب بحال ہوئی تو جانے کیا گیا کہ پورے علاقہ میں ٹرانسفارمرز دھماکے سے پھٹنے لگے اور شاداب چوک سمیت کئی جگہ آگ لگ گئی اور شاداب کالونی کے آٹھ ٹرانسفارمر بند ہو گئے جبکہ تین ٹرانسفارمر ناکارہ ہوگئے اور ایسی ہی حالت پاک عرب، شاداب روڈ اور انڈسٹریل روڈ کے ٹرانسفارمرز کے ساتھ پیش آئی اور حمزہ ٹاؤن سب ڈویژن کے اطلاعات کے مطابق اٹھارہ ٹرانسفارمر تباہ ہوئے اور یہ سب اس گرڈ کی مرمت کے بعد بحال ہونے والی بجلی کا نتیجہ تھا۔
اس پوری رات حمزه ٹاؤن سب ڈویژن کا بڑا علاقہ بجلی سے محروم رہا اور رات کو دس بجے سے بند ہونے والی بجلی صبح دس بجے بحال ہوئی اور جو ٹرانسفارمر خراب ہوئے ان کی لیسکو سب ڈویژن کے آفس نے ذمہ داری لینے سے انکار کردیا۔ اب یہ حکومت اور لیسکو حکام کی ذمہ داری ہے کہ وہ تحقیقات کریں کہ ایسا کیا ہوا تھا کہ مین ٹیننس کے فوری بعد اتنے بڑے پیمانے پر بجلی کی تنصیبات کو نقصان پہنچا جس سے شہریوں کو کروڑوں روپے کا جھٹکا لگا اور ٹرانسفارمرز مرمت کرنے والی ورکشاپس کی چاندی ہوگئی۔
اس حالت میں دو دن تک اکثر علاقوں کے لوگ بجلی اور پانی کے بغیر سخت گرمی میں بلکتے رہے اور معصوم بچوں سمیت بیمار بزرگ بھی گرمی کے ہاتھوں پریشان رہے لیکن آج چار دن بعد بھی کسی ذمہ دار کے خلاف نہ تو کاروائی ہوئی اور نہ ہی پرچہ کاٹا گیا بلکہ اس تباہی کے بعد ذمہ دار ایس ڈی او اور اس کے عملہ کی بے حسی آسمانوں پر پہنچ گئی تھی۔ پریشان حال لوگ ان کو فون کرتے رہے اور کوئی ان کی بات سننے کو تیار نہیں تھا بلکہ اپنے پارٹنرز جنہوں نے ٹرانسفارمرز کی مرمت کی ورکشاپس بنا رکھی ہیں ان سے رابطہ کرنے کے مشورے دیتے رہے۔
اس ساری صورتحال سے لوگوں نے مقامی ایم این اے اور وزير اعلٰی پنجاب کے ذرائع کو بھی آگاہ کیا۔ جنہوں نے لیسکو حکام کو کاروائی کے لئے کہا لیکن اس کے باوجود ایس ڈی او حمزہ ٹاؤن نے کوئی کاروائی نہیں کی بلکہ ایک فون کرکے کہا کہ ہماری کوئی ذمہ داری نہیں ہے آپ جانیں اور آپ کا کام۔ البتہ انھوں نے یہ ضرور کہا کہ جب ٹرانسفارمر مرمت ہوگیا تو آپ مجھے بتائیے گا اور میں پندرہ منٹ میں اہلکار بھیج کر بجلی بند کروانے میں آپ کی مدد کردوں گا۔ اس رات جب ساڑھے نو بجے سے لے کر صبح چار بجے تک ایس ڈی او کو کوئی درجن بھر کالیں کرکے درخواست کی گئی کہ براہ کرم لائن مين کو بھیج کر کام کروادیں اور ہر بار ایس ڈی او نے کہا کہ پندرہ منٹ دے دیں ابھی اہلکار پہنچ رہے ہیں اور ساڑھے چھ گھنٹے میں کوئی اہلکار وہاں نہ پہنچا۔ اس کے بعد ٹرانسفارمر مرمت کرنے والے شخص نے رہائشیوں سے پانچ ہزار روپے فالتو وصول کرکے بجلی بند کروائی اور ٹرانسفارمر انسٹال ہوا۔
رہائشیوں نے بتایا کہ ایس ڈی او جو رات کو فون سنتا رہا ہے وہ بھی ایم این اے کا دباؤ تھا ورنہ یہ لوگ تو کسی صارف کی بات تک سننے کو تیار نہیں ہوتے ہیں اور رات کے وقت بجلی کی خرابی کا مطلب ہے کہ لوگ اب ساری رات جاگ کر گزاریں گے۔ حمزہ ٹاؤن سب ڈویژن میں چھ ٹرالی ٹرانسفارمر موجود تھے جنہیں کسی ٹرانسفارمر کی خرابی کی صورت میں لگا کر عارضی بجلی بحال کی جاتی تھی اور وہ ٹرانسفارمر بھی بیچ کھائے گئے ہیں جس کی سزا کے طور پر ایک لائن سپرنٹنڈنٹ کے خلاف انکوائری بھی چل رہی ہے اور یہ انکوائری بھی چند دن کے لئے کھاتے بند کرنے کے لئے کی جائے گی پھر سب ہضم ہونے کے بعد کام ویسے ہی چلتا رہے گا کیونکہ مذکورہ لائن سپرنٹنڈنٹ کے خلاف پہلے بھی کئی سنگين الزامات موجود ہیں جن کے باوجود وہ اسی سب ڈویژن میں غیر قانونی کنکشن بانٹتا رہا ہے۔
لیسکو ایک سروسز فراہم کرنے والا محکمہ ہے جو میٹر، تاروں، کھمبوں اور ٹرانسفارمرز کے پیسے صارفین سے وصول کرتا ہے اور ان تنصیبات کی خرابی کے وقت بھی سارا خرچہ صارفین کے ذمے ڈال دیتا ہے اور درمیان میں جو سروسز فراہم کرنے کی ذمہ داری ہے اس کے پیسے بھی وصول کرتا ہے اور بجلی کی سپلائی کے خرچے بھی عوام سے لیتا ہے جبکہ کسی خرابی کی صورت میں مرمت کے لئے بجلی کی بندش کی بھی رشوت وصول کی جاتی ہے۔
اس محکمے نے شہریوں کے ساتھ بدمعاشی کا رویہ روا رکھا ہوا ہے کہ کسی بھی تنصیبات کو رہائشی خود ٹھیک کرنا چاہیں تو ان کو دھمکیاں دی جاتی ہیں اور بڑے بڑے جرمانے ڈالے جاتے ہیں جبکہ خود ان کے اہلکار کئی کئی دن تک خرابی کو دور کرنے کے لئے پہنچتے نہیں ہیں۔ اگر ٹرانسفارمر کی ڈی بھی لگانی ہو تو بغیر پیسوں کا وعدہ کئے یہ لوگ نہیں آتے ہیں۔ لیسکو نے ایمرجنسی ہیلپ لائن قائم کررکھی ہے اور یہ اس قدر غیر موثر ہے کہ اس پر کی گئی شکایت پر کوئی کاروائی نہیں ہوتی ہے۔ حمزہ ٹاؤن ہی کے علاقہ میں ایس ڈی او اور غیر قانونی کنسٹرکشن مافیا کا گٹھ جوڑ ہے جو کھیتوں میں زمین لے کر غير قانوني گھر بناتے ہیں اور ایس ڈی او کی منظوری سے ان کے میٹر لگاتا جاتے ہیں۔
شاداب کالونی کے منظور شدہ سسٹم سے اس وقت بھی لمبی تاروں کے گچھوں کے گچھے کھینچ کر کئی سو میٹر دور بجلی پہنچائی جاتی ہے اور شکایت کے باوجود ایس ڈی او کاروائی نہیں کرتے اور اگر بڑا دباؤ آنے پر کچھ غير قانوني کنکشن کاٹتے بھی ہیں تو دو دن بعد مزید پیسے وصول کرکے دوبارہ لگا دیتے ہیں۔ اس علاقہ میں آج بھی تاریں کھینچ کر اور کنڈے لگا کر بجلی چوری ہوتی ہے جس کو ایس ڈی او کا عملہ تحفظ دیتا ہے اور یہاں تک کہ فیک میٹر لگاتا کر بجلی چوری ہوگی ہے جس کے بارے میں ایس ڈی او کو تفصیلی معلومات فراہم کی گئی ہیں لیکن کسی قسم کی کاروائی نہ ہونے کا مطلب ہے کہ چوکیدار چوروں کے ساتھ ملا ہوا ہے۔۔
جاری ہے۔۔

