Friday, 12 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Sarfraz Saeed Khan
  4. Zara Band e Qaba Dekh

Zara Band e Qaba Dekh

ذرا بند قبا دیکھ

اوماہا نبراسکا میں کرئیٹن یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کا پُرانا نام سینٹ جوزف میڈیکل ہاسپٹل تھا۔ ایک بہت بڑا اور معتبر نام جہاں سب مکمل ٹیم کی صورت میں کام کرتے۔ ہاتھ سے ہاتھ ملا کر اور کاندھے سے کاندھا جوڑ کر۔ مریضوں کی کوشش ہوتی کہ نئے طلباء اور ریزیڈنٹ ان سے سیکھیں اور بڑی خندہ پیشانی سے نہ صرف اجازت دیتے بلکہ یہ پیغام دیتے کہ آنے والا وقت ہم سب کے لئیے اہم ہے

ایک دن غالباََ میں انٹرنل میڈیسن یا نیورولوجی میں کام کر رہا تھا کہ stroke یعنی فالج کا ایک مریض آیا۔ مریض ہماری دنیا کے حصے سے تھے اور بلڈ پریشر کے مریض تھے۔ ایک معروف سرجری کی اسپیشلٹی کے ڈاکٹر تھے اور جتنا یاد ہے اُن کا جواں سال صاحبزادہ بھی ڈاکٹر تھا۔ ہائی بلڈ پریشر نے Stroke کی شکل بدلی اور کم و بیش ایک طرف مکمل بے حس و حرکت ہوگئی۔ بعض اوقات زیادہ بیمار مریضوں کو ایسے کمرے دئیے جاتے ہیں جو نرسنگ اسٹیشن کے بالکل سامنے ہوں تاکہ کسی فوری ضرورت میں چند لمحوں کی بھی تاخیر نہ ہو۔ جس وقت میں دروازے پر پہنچا تو ایک ہاتھ سے لکھا ہوا پلے کارڈ منہ چڑا رہا تھا "No Medical Students"۔ میں تو ڈیوٹی ریزیڈنٹ تھا اور مجھے معائنہ تو کرنا ہی تھا۔ جب میں اندر داخل ہوا تو کنبہ کا کنبہ موجود تھا اور خوش گپیاں چل رہی تھیں لیکن ان کا اصرار تھا کہ کوئی میڈیکل اسٹوڈنٹ جو اُن کا وقت "ضائع" کرتا ہے، وہ موجود نہیں ہوگا۔ یہ اپنے دامن سے آگے نہ دیکھنے کی ایک ایک واضح اور بدنما مثال تھی۔

اتنی نہ بڑھا پاکیٔ داماں کی حکایت
دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ

(شیفتہ)

مجھے زندگی کا ایک بہت بڑا سبق میری اہلیہ نے سکھایا۔ ہم انڈیانا میں رہتے ہیں جہاں بہار بہت خوشگوار ہوتی ہے اور ہمارے گھر کے آس پاس کچھ خرگوش رہتے ہیں۔ مجھے تھوڑا بہت باغبانی کا شوق تھا اور ٹیولپ اور گلاب میرے پسندیدہ پھول تھے۔ ساری بہار خوش نظر ٹیولپ لگتے رہتے اور دیکھنے میں رنگ برنگ ٹیولپ بہت بھلے لگتے۔ بچے ابھی چھوٹے تھے اور ایک آدھ مرتبہ باہر گئے لیکن جب واپس پہنچے تو ٹیولپ مسلے ہوئے لگے۔ مجھے شک تو بچوں پر ہوا لیکن اس کے بعد ٹیولپ غائب ہونا شروع ہو گئے۔ ادھر اُدھر ذکر ہوا تو معلوم ہوا کہ خرگوش حضرات ٹیولپ بہت پسند فرماتے ہیں اور آ کر ہڑپ کر جاتے ہیں۔

باغبانی کی دکانوں پر خرگوشوں سے بچاؤ کا ایک سپرے ملتا ہے اور میں نے وہ لینے کا ارادہ کیا لیکن مجھے امبر نے رسان سے سمجھایا کہ جس طرح ہمیں خوش ذائقہ غذا اشتہا آور لگتی ہے، خرگوشوں کی بھی پسند ہے۔ اُن کو ان کی پسندیدہ غذا کھانے سے مت روکیں۔ ٹیولپوں کی آخری رسومات یعنی کریا کرم تو ہوگیا لیکن ایک بہت اچھا اخلاقی سبق سیکھ لیا۔ ہر شخص اگر ایک چھوٹی سی اچھائی کر ڈالے تو دنیا رہنے کو بہتر جگہ ہو جائے۔ ہمارے ہمسائے خرگوش اب بھی رہتے ہیں اور اب تو کچھ بے تکلف بھی ہو چُکے ہیں۔

1990 کی دہائی تھی اور ابھی میڈیکل سائنس اتنی ترقی نہیں کر سکی تھی لیکن ہم ابھی سیکھ رہے تھے۔ ایک رات میں پی آئی سی میں کام کر رہا تھا اور ایک صاحب اپنے خاندان کے ساتھ آئے۔ ان کے دل کی دھڑکن بے ترتیب تھی اور عموماََ ایسے معاملوں میں آؤٹ پیشنٹ علاج کیا جاتا ہے لیکن انہی دنوں میں میں نے پڑھا کہ بعض اوقات دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی ہارٹ اٹیک کی پہلی علامت ہو سکتی ہے۔ ایمرجنسی میں بیڈ بھرے ہوئے تھے لیکن اس تازہ تازہ سیکھی ہوئی بات نے مجھے یہ کہنے پر مجبور کیا کہ آپ گھر مت جائیے اور آج کی رات کسی اسپتال میں گزار لیجئیے۔ بظاہر ایک متمول خاندان تھا اور ایک بہتر اسپتال میں چلے گئے۔ دو ایک دن بعد بستر خالی ہوئے تو ان کو دوبارہ داخل کیا۔ ان کے بھائی نے عندیہ دیا کہ میری بات کا احترام کرتے ہوئے وہ داخل ہو گئے تھے اور رات گئے ان پر ہارٹ اٹیک ہوا۔ اسپتال میں موجود تھے اور جان بچ گئی۔ شکرگزاری ان کے چہرے مہرے سے عیاں تھی۔ ایک انسانی جان بچ گئی۔

ہم نیاگرا فالز دیکھنے جا رہے تھے اور اوماہا سے آٹھ گھنٹے کے فاصلے پر شکاگو تھا جہاں ایک پاکستانی ریستوران بہت مشہور و معروف تھا۔ ہم چند ماہ پہلے بھی یہیں کھانا کھانے آئے تھے اور کھانے سے نمک عنقا تھا۔ میں نے نرمی سے بتانے کی کوشش کی لیکن وہ صاحب بہت خفا ہوئے اور دیوار کے پیچھے سے اُن کی خفگی بھری آواز آئی کہ یہ صاحب کہہ رہے ہیں کہ نمک نہیں ہے (اپنی عزت کو مد نظر رکھتے ہوئے گفتگو کے الفاظ بہتر کر دئیے گئے ہیں) کہتے چلے گئے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد کچھ سکوت آمیز خاموشی چھا گئی اور آخر کار ایک آواز اُبھری "آہو نمک تے واقعی نہیں ہیغا" یعنی نمک تو واقعی نہیں ہے۔ اس کے بعد راوی نے کچھ چین لکھا۔

پاکستانی روایات کے عین مطابق ہم نے سبق سیکھنے سے پرہیز کیا اور اس مرتبہ بھی دوبارہ اسی ریستوران کا راستہ لیا۔ اپنی درخشاں روایات کو قائم رکھتے ہوئے اس مرتبہ نیاگرا فالز لے جانے کیلئے کچھ کھانے بشمول کباب آرڈر کئیے۔ جب کھانے کا موقع آیا تو کباب میٹھے نکلے یا ہو سکتا ہے کہ ڈش کا نام ہی "کباب شیریں دہن" ہو لیکن نام اور ذائقے کی تبدیلی کا ہمیں بتانا بھول گئے۔ قہر درویش برجان درویش، واپسی نہ تو ممکن تھی اور نہ ہی بحث کی خواہش تھی۔ کچھ عرصے بعد ریستوران بند ہونے کی خبر پہنچی۔

ہمارے بچپن میں کہا جاتا تھا کہ دیگ کے چند ہی چاول دیکھے جاتے ہیں۔ بہت سی سینہ بہ سینہ روایات میں سالوں پُرانی فراست گُندھی ہوئی ملتی ہے۔ زندگی میں بہت سے لوگ دوسرا موقع دینے کا قائل نہیں ہوتے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم اپنی غلطیوں کو ساحل سمندر پر موجود ریت پر لکھ رہے ہیں اور چند لہریں اس کو مٹا ڈالیں گی کیونکہ ہم اپنے آپ کو معاف کرنا پسند کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے باقی دنیا ایسے نہیں دیکھتی اور ہماری ریت پر لکھی غلطیوں کو سانچے میں ڈھال کر اُن غلطیوں کو سنگلاخ چٹانوں پر کھود ڈالتی ہے جو اُن کے لئیے اور باقی دنیا کیلئے اُن مٹ نقوش چھوڑتے چلی جاتی ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ ہماری ذرا سی غیر محتاط غلطی ہمارے متعلق لوگوں کی رائے کو مکمل تبدیل اور دریا بُرد کر ڈالتی ہے اور یہی زیادہ تر دنیا کا عمومی اصول ہے اور یہی پیشہ ورانہ مہارت کی اصل بنیاد ہے۔

غلطی معاف ہو سکتی ہے لیکن عادت نہیں۔ غلطی کو نہ ماننے کی عادت اور اس پر ناروا اصرار، آپ کو اور آپ کی ساکھ، شہرت اور عزت کو دو کوڑی کا کر چھوڑتا ہے خصوصا" اگر آپ میں اپنی غلطی کو ماننے اور اس کو درست کرنے کی اہلیت اور ہمت نہ ہو۔

کوشش کریں کہ غلطی مت کیجئے لیکن اگر کر لیں تو ہمت کرکے مان لیں اور معذرت کر لیں۔ کل ایک نیا دن روشن اور چمکدار دھوپ کے ساتھ طلوع ہوگا، ایک نئے موقعہ کے ساتھ

"Mistakes are always forgivable, if one has the courage to admit them. " - Bruce Lee

Check Also

Apni Pehchan Ke Sath Jeene Ka Haq

By Komal Shahzadi