Friday, 12 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Noorul Ain Muhammad
  4. Siasat Mein Virasat, Aam Beti Ki Jad o Jehad

Siasat Mein Virasat, Aam Beti Ki Jad o Jehad

سیاست میں وراثت، عام بیٹی کی جدوجہد

پاکستان میں جب خواتین کی ترقی، بااختیار بنانے اور مساوی مواقع کی بات ہوتی ہے تو اکثر مثالیں ان خواتین کی دی جاتی ہیں جو اعلیٰ سیاسی عہدوں یا اہم سرکاری مناصب تک پہنچتی ہیں۔ آصفہ بھٹو زرداری کا بلامقابلہ قومی اسمبلی پہنچنا، مریم نواز کا وزیراعلیٰ پنجاب بننا، یا بڑے سیاسی خاندانوں کی خواتین کا پارلیمان تک رسائی حاصل کرنا یقیناً اہم سیاسی واقعات ہیں۔ لیکن ان واقعات کے ساتھ ایک تلخ حقیقت بھی موجود ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

ملک کی عام بیٹی، جو ایک متوسط یا غریب گھرانے سے تعلق رکھتی ہے، برسوں تعلیم حاصل کرتی ہے، ماسٹرز کی ڈگری لیتی ہے، مختلف امتحانات اور انٹرویوز سے گزرتی ہے، مگر اس کے باوجود اسے 15 یا 20 ہزار روپے ماہانہ کی ملازمت بھی مشکل سے ملتی ہے۔ اس کے برعکس بعض افراد محض خاندانی سیاسی پس منظر کی وجہ سے اقتدار اور اختیار کے ایوانوں تک پہنچ جاتے ہیں۔

یہ مسئلہ کسی ایک شخصیت یا جماعت تک محدود نہیں۔ پاکستان کی سیاست میں خاندانی اور موروثی نظام کئی دہائیوں سے موجود ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں میں قیادت اور اہم عہدے اکثر مخصوص خاندانوں کے گرد گھومتے نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عام شہری، خصوصاً نوجوان، یہ سوال پوچھتے ہیں کہ کیا کامیابی کا معیار صلاحیت اور محنت ہے یا خاندانی شناخت؟

اصل بحث یہ نہیں ہونی چاہیے کہ کوئی خاتون سیاست میں کیوں آئی یا کسی عہدے پر کیوں پہنچی۔ خواتین کو سیاست سمیت ہر شعبے میں آگے بڑھنے کا مکمل حق حاصل ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ملک کے تمام شہریوں، خصوصاً خواتین، کو یکساں مواقع میسر ہیں؟ کیا ایک عام گھرانے کی پڑھی لکھی لڑکی بھی انہی مواقع تک رسائی رکھتی ہے جو ایک طاقتور سیاسی خاندان کی بیٹی کو حاصل ہوتے ہیں؟

جب ایک باصلاحیت نوجوان برسوں ملازمت کی تلاش میں دربدر پھرتا ہے اور دوسری طرف طاقت اور اثر و رسوخ کے ذریعے راستے آسان ہوتے دکھائی دیتے ہیں تو معاشرے میں احساسِ محرومی بڑھتا ہے۔ یہ احساس صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ نظام پر اعتماد کے بحران کو بھی جنم دیتا ہے۔

جمہوری معاشروں کی طاقت اس بات میں ہوتی ہے کہ وہاں ترقی اور قیادت کے دروازے ہر فرد کے لیے کھلے ہوں۔ اگر کامیابی کا انحصار صرف خاندانی پس منظر پر ہو تو محنت، قابلیت اور تعلیم کی اہمیت کمزور پڑ جاتی ہے۔ ایک مضبوط اور منصفانہ نظام وہی ہے جہاں عام پاکستانی کی بیٹی بھی اپنی صلاحیت، محنت اور قابلیت کی بنیاد پر وہ مقام حاصل کر سکے جس کا خواب وہ دیکھتی ہے۔

پاکستان کو آج ایسے نظام کی ضرورت ہے جہاں کسی کے لیے راستے صرف اس کے نام، خاندان یا سیاسی تعلقات کی وجہ سے ہموار نہ ہوں، بلکہ ہر شہری کو آگے بڑھنے کا برابر موقع ملے۔ کیونکہ حقیقی ترقی تب ہی ممکن ہے جب اقتدار کے ایوانوں اور روزگار کے میدانوں میں کامیابی کا معیار وراثت نہیں بلکہ اہلیت ہو۔

Check Also

Ambar Bail Ki Uljhi Bailen (2)

By Zafar Syed