Friday, 12 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Umar Farooq
  4. Carl Sagan Ke Naam

Carl Sagan Ke Naam

کارل سیگن کے نام

آج کی یہ تحریر خاص ہے کیونکہ یہ تحریر کارل سیگن کے نام ہے۔ کارل سیگن صرف ایک سائنس دان نہیں تھے۔ وہ ایک ایسے شخص تھے جو کائنات کی وسعتوں کو اپنی مٹھی میں بھر کر عام آدمی کے سامنے رکھ دیتے اور کہتے تھے: دیکھو، یہ تمہاری کہانی ہے۔ یہ تم ہو۔ 1934 میں نیویارک کے بروکلین میں پیدا ہونے والے کارل کا بچپن عام بچوں جیسا نہیں تھا۔ والدین غریب تھے، گھر چھوٹا تھا مگر ایک رات، جب ان کے والد انہیں ایک پارک میں لے گئے اور پہلی بار انہوں نے سچ میں ستارے دیکھے، تو کچھ بدل گیا۔ اس رات نے کارل سیگن کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ بعد میں انہوں نے لکھا کہ اس رات انہیں احساس ہوا کہ سورج بھی ایک ستارہ ہے۔ بس قریب ہے اور اگر سورج ایک ستارہ ہے، تو شاید ان لاکھوں ستاروں کے پاس بھی اپنی زمینیں ہیں۔ اپنی دنیائیں ہیں۔ یہ سوال بچپن میں پوچھا گیا تھا جو آگے چل کر پوری زندگی کا محور بن گیا۔ شکاگو یونیورسٹی سے طبیعیات اور فلکیات میں ڈگری حاصل کی، پھر کورنل یونیورسٹی میں پروفیسر بنے مگر کارل سیگن کبھی صرف کلاس روم تک محدود نہیں رہے۔ وہ مانتے تھے کہ سائنس اگر صرف لیبارٹری کی دیواروں میں بند ہوجائے تو بھلا کس کام کی؟ اسے عام آدمی تک پہنچنا چاہیے۔

1980 کی بات ہے۔ امریکہ میں ٹیلی ویژن ابھی اپنے عروج پر تھا۔ کارل سیگن نے ایک ایسی ٹیلی ویژن سیریز بنانے کا فیصلہ کیا جو پہلے کبھی نہیں بنی تھی "Cosmos: A Personal Voyage"۔ تیرہ اقساط۔ ہر قسط کائنات کے کسی ایک راز کو کھولتی تھی، مگر انداز ایسا تھا جیسے کوئی دوست چائے پیتے ہوئے بتا رہا ہو۔ اس سیریز کو صرف امریکہ میں چھ کروڑ لوگوں نے دیکھا۔ پوری دنیا میں یہ تعداد ساٹھ کروڑ سے اوپر چلی گئی۔ یہ وہ دور تھا جب انٹرنیٹ نہیں تھا، سوشل میڈیا نہیں تھا پھر بھی Cosmos ایک عالمی رجحان بن گئی۔ کیوں؟ کیونکہ کارل نے سائنس کو خشک حقائق کی فہرست نہیں بنایا انہوں نے اسے ایک داستان بنایا۔ "کائنات ہمارے اندر ہے۔ ہم ستاروں کی مٹی سے بنے ہیں۔ ہم کائنات کا وہ ذریعہ ہیں جس کے ذریعے کائنات خود کو جاننے لگی ہے۔ "یہ فقرہ دوبارہ پڑھیں: کائنات خود کو آپ کے ذریعے جان رہی ہے۔

کاسموس میں ایک مشہور منظر ہے جب کارل سیگن اپنے تصوراتی "کاسمک کیلنڈر" کا ذکر کرتے ہیں۔ جہاں پوری کائنات کی تاریخ کو ایک سال میں سمیٹا گیا ہے۔ اس حساب سے ڈائنوسار سال کے آخر دسمبر میں آئے اور پوری انسانی علم وفکر کی تاریخ، تمام جنگیں، تمام شعر، تمام فلسفہ نے آخری رات کے آخری چند سیکنڈوں میں جنم لیا۔ یہ دریافت ایک تھپڑ تھا۔ ہمارے تکبر کے منہ پر۔ 1990 کی بات ہے۔ خلائی جہاز وائیجر ون زمین سے چھ ارب کلومیٹر دور جا چکا تھا۔ کارل سیگن نے ناسا کو قائل کیا کہ کیمرہ پلٹ کر زمین کی تصویر لی جائے۔ ناسا نے انکار کردیا۔ کہا کہ یہ کوئی سائنسی مقصد نہیں ہے۔ کارل نے پھر بھی ہار نہیں مانی۔ برسوں لابنگ کی۔ جب آخرکار وہ تصویر آئی، تو ہماری زمین ایک چھوٹا سا دھبہ تھی ایک پیلا، دھندلا نقطہ۔

اس تصویر پر کارل سیگن نے جو لکھا، وہ شاید انسانی تاریخ کی سب سے حکمت بھری تحریر ہے۔ "وہ دیکھو وہ نقطہ۔ وہ ہے یہاں۔ وہ گھر ہے۔ وہ ہم ہیں۔ اس پر ہر وہ شخص جسے تم نے کبھی جانا، ہر وہ انسان جس نے کبھی جیا اور محبت کی، ہر بادشاہ اور کسان، ہر بچہ اور بوڑھا سب نے اسی چھوٹے سے دھبے پر اپنی زندگی گزاری۔ ہماری تمام تاریخ، ہماری تمام فتح و شکست، ہمارے تمام مذہب اور علم سب اس سورج کی روشنی میں تیرتے ایک ذرے پر ہوئے۔ ہماری ساری اہمیت، ہماری ساری اکڑ، ہماری ساری سوچیں روشنی کے اس چھوٹے سے نقطے میں کیا رہ جاتی ہیں؟"یہ الفاظ پڑھ کر دل ٹھٹھر جاتا ہے مگر اس ٹھٹھرن میں کوئی مایوسی نہیں، بلکہ ایک عجیب قسم کی آزادی ہے۔ کارل سیگن یہ کہنا چاہتے تھے کہ ہماری چھوٹی چھوٹی دشمنیاں، ہمارے قومی غرور، ہماری جنگیں یہ سب اس کائنات کے سامنے کتنے بے معنی ہیں۔

بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ سائنس دان خشک ہوتے ہیں، مذہب اور روحانیت کے مخالف ہوتے ہیں۔ کارل سیگن اس تصور کو توڑتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ جو شخص کائنات کو دیکھ کر حیران نہ ہو، جو ستاروں کو دیکھ کر سرجھکا نہ سکے وہ یا تو کور نظر ہے یا پتھر دل۔ "سائنس نہ صرف علم کی روشنی سے ہم آہنگ ہے بلکہ گہرے روحانی احساس کا بھی ایک ذریعہ ہے۔ جب ہم یہ جانتے ہیں کہ کائنات کتنی وسیع ہے، کتنا پرانا وقت ہے تو دل میں جو کچھ اٹھتا ہے، اسے میں عبادت کے علاوہ کیا کہوں؟" وہ نہ خدا کے انکاری تھے، نہ توہم پرستی کے حامی۔ وہ ایک درمیانی راستے پر چلتے تھے شکی مگر متجسس، سائنسی مگر حساس۔

ان کا مشہور قول تھا: "غیر معمولی دعوے غیر معمولی ثبوت مانگتے ہیں"۔ یعنی کوئی بھی بات بلا دلیل نہ مانو۔ سوال بند نہ کرو۔ ان کی کتاب "The Demon-Haunted World" اسی موضوع پر ہے کہ توہم پرستی اور اندھا یقین کس طرح ذہنوں کو غلام بنا لیتا ہے اور سائنسی سوچ کس طرح اس غلامی سے آزاد کرتی ہے۔ یہ کتاب آج بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی 1995 میں تھی۔ شایدآج اس سے بھی زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔

1977 میں ناسا نے دو خلائی جہاز Voyager 1 اور Voyager 2 لانچ کیے۔ ان میں ایک سونے کا ریکارڈ رکھا گیا۔ Golden Record. یہ کارل سیگن کا خیال تھا۔ اس ریکارڈ پر پچپن زبانوں میں انسانی آوازیں تھیں، موسیقی تھی باخ اور بیتھووین سے لے کر ہندوستانی راگ تک اور انسانی دل کی دھڑکن بھی۔ خیال یہ تھا کہ اگر کبھی کوئی اجنبی تہذیب اس جہاز تک پہنچے، تو وہ جانیں کہ کائنات کے اس کونے میں ایک ایسی مخلوق رہتی ہے جو موسیقی سمجھتی ہے، محبت کرتی ہے، سوچتی ہے۔ یہ ایک بوتل میں ڈالا ہوا خط تھا۔ کائنات کے سمندر میں پھینکا ہوا۔ کتنا خوبصورت جنون ہے یہ کارل کا۔

1996 میں محض باسٹھ برس کی عمر میں کارل سیگن کینسر سے چل بسے۔ کتنے کم وقت میں کتنا کچھ کیا۔ پانچ سو سے زیادہ سائنسی مقالے، بیس سے زیادہ کتابیں، ایک ناول "Contact" جو بعد میں فلم بنی اور Cosmos جو آج بھی دیکھی جاتی ہے۔ 2014 میں Neil deGrasse Tyson نے Cosmos کی نئی سیریز بنائی اور اپنے استاد کارل سیگن کو خراجِ تحسین دیتے ہوئے بتایا کہ جب وہ سترہ سال کے تھے، کارل سیگن نے انہیں کارنیل یونیورسٹی بلایا، پورا دن ساتھ گزارا اور کہا: سائنس کو آگے بڑھاؤ۔ یہ ایک ملاقات تھی جس نے ایک اور سیگن بنا دیا۔ "کہیں ایسی دنیائیں ہیں جہاں آسمان، صبح اور رات دونوں وقت ستاروں سے بھرا ہوتا ہے۔ کہیں ایسی دنیائیں ہیں جہاں سورج اتنا بڑا ہے کہ وہ ہمارے پورے نظامِ شمسی کو نگل لے۔ فطرت ہماری تخیل سے بڑھ کر امیر ہے"۔

کارل سیگن کی اصل وراثت یہ نہیں کہ انہوں نے کیا دریافت کیا بلکہ یہ ہے کہ انہوں نے کروڑوں لوگوں کے دلوں میں تجسس کی ایک آگ جلائی۔ انہوں نے بچوں کو، ان پڑھ لوگوں کو، کسانوں کو، مزدوروں کو سب کو بتایا کہ کائنات کا سوال صرف سائنس دانوں کا نہیں، یہ ہم سب کا سوال ہے۔

تم بھی آسمان دیکھو۔

سوال پوچھو۔

کارل سیگن نے یہی کہا تھا۔

اگر تم نے کبھی رات کو ستارے دیکھ کر سوچا ہو یہ کیا ہیں، کتنے دور ہیں، کیا ان کے پاس بھی کوئی ہے جو انہیں دیکھتا ہے تو جانو کہ اس لمحے میں تم کارل سیگن کے ہمسفر ہو۔

Check Also

Carl Sagan Ke Naam

By Umar Farooq