Friday, 12 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Kashif Zia
  4. Muash e Nabvi (3)

Muash e Nabvi (3)

معاش نبوی ﷺ (3)

آنے والے اوراق میں ہم ان ذرائع کی تفصیل کر رہے ہیں جن سے حضرت محمد ﷺ کو رزق حاصل ہوا لیکن اس سے قبل ایک بات بتلا دیں کہ علماء نے اس موضوع پر مستقل تحقیقات کی ہیں، خود ہمارے زمانہ کے عظیم سیرت نگار مرحوم ڈاکٹر یاسین صاحب مظہر صدیقی نے ایک کتاب "معاش نبوی" لکھی جس میں حضرت محمد ﷺ کے ذرائع آمدن و خرچ کو صحیح احادیث سے جمع کیا ہے۔ ڈیڑھ سو صفحات کی یہ کتاب دلچسپ معلومات سے پر ہے اور یہ مضمون ہم اسی کے حوالہ سے پیش کر رہے ہیں۔

حضرت ﷺ کی ابتدائی پرورش آپ کی والدہ، دائی حلیمہ اور حضرت عبدالمطلب و ابو طالب نے کی، آپ ﷺ یتیم تھے، محبوب خدا تھے، چاند سے زیادہ حسین تھے، ان حضرات نے کس محبت و الفت و احتیاط کا برتاؤ کیا ہوگا اندازہ کیا جا سکتا ہے، ابو طالب کی بیوی یعنی آپ کی چچی فاطمہ بنت اسد ہاشمی آپ کے لیے خصوصی طور پر کھانا بچا کر رکھتیں، زمانہ وہ تھا کہ بسا اوقات آپ صبح کے وقت چاہ زم زم پہ تشریف لے جاتے اور سیراب ہوتے، آب زم زم میں اللہ تعالی نے بھوک و پیاس مٹانے کی صفت رکھی ہے۔

آپؑ کی معاشی زندگی کا آغاز (اجرت پہ) بکریاں چرانے سے ہوا، عربی شرفاء کے بچے بکریاں چرایا کرتے تھے لیکن اجرت پہ، کہتے ہیں اس سے عاجزی پیدا ہوتی ہے، گزشتہ انبیاء نے بھی یہ کام کیا۔

سیرت نگاروں کا اندازہ ہے سترہ یا اٹھارہ برس کی عمر میں آپ نے تجارت شروع کی۔ یہ ہی پیشہ خاندان، برادری بلکہ پورے شہر کا تھا، تجارتی شرکاء میں سائب، قیس بن سائب اور عبداللہ بن ابی الحمساء کا نام ملتا ہے، ان حضرات نے آخری نبی کی راست گوئی، دیانت داری، وعدہ وفائی اور حسن معاملہ کی شہادت دی ہے۔

اسی سلسلہ میں یمن و شام کے دو سفر چچا کے ساتھ ہوئے، بعض بازاروں (جیسے جعاشہ وغیرہ) میں موجودگی ثابت ہوتی ہے، بحرین سے قبیلہ عبد قیس کا وفد آیا، آپ نے تمام علاقوں کا حال پوچھا، وہ حیران ہوئے، فرمایا "میں تمہارے ملک کے چپے چپے سے واقف ہوں" (گمان ہے یہ واقفیت اسفار کی بدولت ہوئی ہوگی)۔

اندازہ ہے کہ بیس برس کی عمر میں آپ حضرت خدیجہؓ کا سامان تجارت لے کر گئے، اس سے قبل تجارتی ساکھ بن گئی ہوگی، کیوں کہ حضرت خدیجہ تجربہ کار تاجرہ تھیں، انہوں نے ذمہ دار اور قابل اعتماد شخص ہی کو منتخب کیا ہوگا، بعض اہل علم کی رائے ہے مال تجارت لے جانے کی یہ نوبت ایک سے زیادہ مرتبہ آئی۔

آپ کا پہلا نکاح بھی حضرت خدیجہ سے ہوا، نکاح کے وقت دولہا و دلہن کی عمریں بالترتیب پچیس اور چالیس برس تھیں، یہ شادی اگلے پچیس برس یعنی حضرت خدیجہ کی وفات تک قائم رہی، اس عرصہ میں ام المومنین نے اپنا شغل تجارت نہ چھوڑا بلکہ قائم رکھا، آپؑ نے اپنی محنت و قابلیت سے تجارتی ترقی میں اھلیہ کی مدد کی۔

حافظ ابن القیم نے "زاد المعاد" میں عجیب بات لکھی ہے کہ "حضرت ﷺ نے تجارت کی کم لیکن کروائی زیادہ ہے" (اس زمانہ میں دستور تھا اور اب بھی ہے کہ کسی شخص سے اجرت کی رقم طے کرکے مال تجارت اس کے حوالہ کیا جاتا، وہ بیچ کر آتا تو طے شدہ رقم دے کر باقی منافع خود رکھ لیا جاتا)۔

تجارت افراد و اقوام کے امیر ہونے کا بہترین ذریعہ ہے، اس کا ایک فائدہ یہ بھی کہ تاجر ملازم کی بہ نسبت اپنے وقت کا خود مالک ہوتا ہے، اگر وقت بچ جائے تو وہ پسند کے کام میں صرف کر سکتا ہے۔

حضرتؑ کے بعض اصحاب (جیسے ابوبکر و عمر و عثمان و طلحہ و زبیر بن عوامؓ) بھی تاجر پیشہ تھے، شاید آپ نے ان سے کوئی کبھی تجارتی معاملہ کیا ہو (لیکن اس امر کی تفصیلات نہیں ملتیں)۔

خاندانی ترکے میں سے بھی نبی رحمت ﷺ کو حصہ ملا، والد عبداللہ بن عبدالمطلب نے ایک تلوار، ایک باندی (حضرت ام ایمنؓ)، پانچ اونٹ اور ایک بکریوں کا ریوڑ چھوڑا۔ جب کہ والدہ کی طرف سے مکہ کا آبائی مکان ملا، اس مبارک مکان میں آپ ہجرت کے وقت تک قیام پذیر رہے اور والد کی تلوار ہجرت کے سفر میں ساتھ تھی۔

Check Also

Carl Sagan Ke Naam

By Umar Farooq