Friday, 12 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Kiran Arzoo Nadeem
  4. Dr. Mahnoor Aur Bohat Se Doosre Waqiat

Dr. Mahnoor Aur Bohat Se Doosre Waqiat

ڈاکٹر ماہ نور اور بہت سے دوسرے واقعات

ہمارا معاشرہ کس نہج پر جا رہا ہے۔ پچھلے دنوں اوپر نیچے ایسے واقعات ہوئے ہیں جن کے متعلق بہت سے سوالات اٹھتے ہیں۔ ایک واقعہ تو کوئٹہ کی لیڈی ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب پھینکنے کا ہے، جس پر ایک لفٹ آپریٹر نے تیزاب پھینکا اور دوسرا واقعہ جھنگ میں ایک طالبہ کے ساتھ تین نوجونواں کی زیادتی کا ہے۔

اس وقت جو سب سے بڑا سوال اٹھتا ہے وہ تربیت کا ہے۔ ہم اپنی نوجوان نسل کی تربیت ٹھیک طرح سے نہیں کر پا رہے۔

ہم نے چھوٹے چھوٹے بچوں کے ہاتھوں میں موبائل دے رکھے ہیں اور کوئی روک تھام نہیں، بچوں کا جو دل چاہتا ہے وہ موبائل میں دیکھتے ہیں اچھا یا برا اس بات کی پرواہ کئیے بغیر اور بیشتر والدین اس بات میں تسلی محسوس کرتے ہیں کہ وہ کم از کم گھر کے اندر بیٹھے ہوئے ہیں، لیکن وہ جو کچھ دیکھ رہے ہوتے ہیں اور جس طرح ان کے اخلاق تباہ ہو رہے ہیں۔ ان کا ذمہ دار کون ہے؟

نوجوانوں کی تربیت کی ذمہ داری سب سے پہلے ماں باپ پر ہوتی ہے۔ پھر معاشرہ اور ریاست سب ذمہ دار ہیں۔ ہمارے نوجوان ریاست مدینہ کا لفظ کثرت سے استعمال کرتے ہیں۔ ریاست مدینہ راتوں رات نہیں بن گئی تھی۔ حضور ﷺ کی تربیت تھی اور انھوں نے ایسے گوہر نایاب امت مسلمہ کو دئیے کہ آج تک مسلمان ہی نہیں غیر مسلم بھی اس ریاست اور ان کے افراد کا زکر کرتے ہیں۔

اگر ہمیں اس بات کا یقین ہو کہ ہمارا ہر عمل بے شک وہ رائی کے برابر ہی کیوں نہ ہو وہ نتیجہ پیدا کرکے رہتا ہے۔ ہر عمل کا نتیجہ ہماری ذات پر مرتب ہوتا ہے وہ زات جس نے آگے جانا ہے، وہ زات جو کبھی مرتی نہیں ہے، جسم سے الگ ہو کر اگلی دنیا کا سفر کرتی ہے۔

ذات، روح یا اقبال کی خودی۔

ہماری اگلی زندگی منحصر ہوتی ہے اس ذات کی نشوونما پر جو ہم نے اس دنیا میں کی ہوتی ہے۔

پھر وہ بات دوہراتی چلی جاؤں کہ اگر ہم اپنی نوجوانوں کی تربیت ٹھیک طرح سے کرنے کے قابل ہو جائیں تو پھر سڑکوں پر پولیس بیٹھانے کی بھی ضرورت نہ رہے، لیکن سوال یہ ہے کہ یہ تربیت کیسے ہو؟

حضرت ابوبکرؓ کے دور خلافت میں حضرت ابو بکرنے حضرت عمر کو مدینہ کا چیف جسٹس مقرر کیا۔ سال بھر حضرت عمر کے پاس کوئی مقدمہ نہ آیا تو اس عہدے کو ختم کرنا پڑا۔

یہ حضور ﷺکی تربیت کا نتیجہ تھا۔

دور فاروقی میں عمرو بن عاص نے ایک دفعہ ایک ذمی کو خزاک اللہ کہہ دیا جس کا مطلب تھا کہ خدا تجھے زلیل کرے، جب اپنی غلطی کا احساس ہوا تو اپنا استعفی پیش کر دیا کہ میں اس منصب کا اہل نہیں۔

جب احتساب خویش کی یہ حالت ہو تو کوئی جرم کس طرح سر زد ہو سکتا تھا۔

ہم تو بہت خوش قسمت ہیں کہ ہم سے اللہ کلام کرتا ہے اس کتاب کے زریعے جس کی حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ نے لی ہے۔ اگر ہم یہ کتاب نوجوانوں کے ہاتھ میں پکڑا دیں اور اس کتاب کو دل کی آنکھ سے پڑھا جائے تو ہم حقیقت تک پہنچ سکتے ہیں۔

اس دنیا کی زندگی تو چند روزہ ہے۔ اللہ کے اعداد و شمار کے مطابق اس کا ایک ایک دن ہمارے پچاس ہزار سال کے برابر ہے تو ہماری 90 یا زیادہ سے زیادہ سو سال کی زندگی کیا حیثیت رکھتی ہے۔ ہم اس زندگی کو بنی نوع انسان کی بھلائی کے لئے بھی تو استعمال کر سکتے ہیں۔

سائنس کے جو انکشافات ہوئے ہیں وہ قرآن کے ہر دعوی کی صداقت بہم پہنچا رہے ہیں۔ اس کتاب میں ہر شعبہ سے متعلق راہنمائی ہے۔ نفسیات کا علم تو اس صدی ہی میں نمایا ہو کر سامنے آیا ہے۔ قرآن کا تو دعوی ہے کہ اس میں انسان کے ہر نفسیاتی مرض کا علاج ہے۔ بائیو، فزکس، کمسٹری کس کس کے متعلق راہنمائی موجود نہیں ہے۔

اگر ہمارا نوجوان اپنے اپنے شعبے کو قرآن کی روشنی میں تحقیق کرے اور اس سائنسی ایجاد (موبائل) وغیرہ کا استعمال ٹھیک طرح سے تحقیق کے لئے کیا جائے تو شاید حالات مختلف ہوں۔

اگر ہم نے ان حادثات کو سنجیدہ نہ لیا اور ریاست نے اپنی ذمہ داری پوری نہ کی تو ڈاکٹر ماہ نور اور جھنگ کی طالبہ جیسے کتنے ہی واقعات ہوتے چلے جائیں گئے۔

اب ریاست کی جہاں اور ذمہ داریاں ہیں تو ان میں ایک یہ بھی ہے کہ ہمارے نصاب میں ہر شعبوں کے متعلق تحقیق کو قرآن کی روشنی میں دیکھا جائے۔

ہمارے پاس تو اللہ کی راہنمائی رہتی دنیا تک موجود رہے گئی۔

ستر برس سے زیادہ ہو گئے ہیں اب تو ہمیں کچھ سوچنا ہے۔

اقبال نے کیا خوب کہا ہے۔

زندگانی ہے صدف قطرہ نیساں ہے خودی
وہ صدف کیا جو قطرے کو گہر کر نہ سکے

ہو گر خود نگر، خود گر و خود گیر خودی
یہ بھی ممکن ہے کہ تو موت سے بھی مر نہ سکے

Check Also

Siasat Mein Virasat, Aam Beti Ki Jad o Jehad

By Noorul Ain Muhammad