Friday, 12 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Syed Badar Saeed
  3. Riwayati Degree Ke Sath Jadeed Skills Par Mushtamil Nisab

Riwayati Degree Ke Sath Jadeed Skills Par Mushtamil Nisab

روایتی ڈگری کے ساتھ جدید سکلز پر مشتمل نصاب

والد مرحوم نے ایک بار کہا تھا کہ اگر تعلیم اچھا انسان نہ بنا سکے تو پھر ڈگری لینا بےکار ہے کیونکہ پیسے تو ریڑھی پر شربت بیچنے والا بھی کما لیتا ہے۔ اگر ریڑھی پر شربت بیچنے والے کا اخلاق ڈگری ہولڈر سے بہتر ہے تو وہ بطور انسان کامیاب ہے۔ یہی بات اگلے روز بحریہ یونیورسٹی لاہور کیمپس میں پروفیشنل سائیکالوجی کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر خاور بلال بیگ نے کی۔ بحریہ یونیورسٹی لاہور کیمپس کے ڈائریکٹر، کموڈور (ر) عمران افتخار نے کالم نگاروں کے ایک وفد کو بحریہ یونیورسٹی کا وزٹ کروایا جہاں طلبا کے مستقبل اور تعلیمی مسائل پر خوب نشست رہی۔

اس موقع پر شہزاد چودھری نے سوال اٹھایا کہ یونیورسٹیز سے ڈگری لینے والے طلبا کو مارکیٹ میں ملازمت ملنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ انڈسٹری کے حالات، ملازمتوں کی کمی، ملک کی آبادی میں نوجوانوں کی بڑی تعداد اور دیگر وجوہات کی وجہ سے بےروزگاری بڑھ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جامعات کو اب اس حوالے سے بھی لائحہ عمل ترتیب دینا چاہیے۔ جس پر ڈاکٹر خاور بلال نے کہا کہ روزگار کی فراہمی انڈسٹری اور ریاست کا کام ہوتا ہے۔ جامعات کی پہلی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ یہاں سے فارغ التحصیل نوجوان زندگی میں جہاں بھی ہوں وہ انسانیت کی بھلائی کے لیے کام کر رہے ہوں۔ انہوں نے بھی یہی کہا کہ تعلیم کا بنیادی مقصد معاشرے کو ایک اچھا شہری فراہم کرنا ہے۔

پڑھے لکھے اور جاہل شخص میں فرق روزگار کا نہیں، اخلاقیات کا ہوتا ہے۔ یہ بات درست ہے لیکن دوسری جانب یہ بھی سچ ہے کہ والدین اپنے بچوں کی اعلیٰ تعلیم پر لاکھوں روپے اس امید پر بھی لگاتے ہیں کہ وہ ڈگری لینے کے بعد برسر روزگار ہوں گے۔ مجھے سپیریئر یونیورسٹی کے چیئرمین چودھری عبد الرحمن یاد آئے۔ سپیریئر یونیورسٹی دیگر جامعات کو ساتھ ملا کر سٹوڈنٹس ایکسپو کرواتی ہے جہاں سٹوڈنٹس اپنے پراجیکٹ اور آئیڈیاز پیش کرتے ہیں اور انڈسٹری کے ٹائیکون انہیں جانچتے ہیں۔ اب تک کئی سٹوڈنٹس اسی ایکسپو کی وجہ سے انٹرنیشنل مارکیٹ میں اپنے پراجیکٹس کی بنیاد پر بہترین عہدے حاصل کر چکے ہیں۔

بحریہ یونیورسٹی کمپیوٹر سائنس کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر عنصر نے بتایا کہ انہوں نے بھی چیمبر آف کامرس سمیت انڈسٹری اور دیگر جامعات سے ایم او یو کیے ہوئے ہیں جن کے تحت سٹوڈنٹ ایکسچینج اور انٹرن شپ کے پروگرام چل رہے ہیں۔ میں نے تجویز دی کہ موجودہ حالات میں جامعات کو ایک قدم مزید آگے بڑھنا چاہیے۔ یونیورسٹیوں میں ایک ڈیسک قائم کر دیں جس کے تحت یونیورسٹی کے ماہرین انڈسٹری کے ساتھ تعلقات بہتر کریں، مارکیٹ کے مسائل جانیں اور انڈسٹری کو ریسرچ اور پراجیکٹ کی بنیاد پر مسائل کے حل کی تجویز پیش کریں اس طرح طلبا دوران تعلیم ہی انڈسٹری کے پیڈ ریسرچ اور ملازمت کے ساتھ منسلک ہو سکیں گے۔

اب انٹرن شپ سے آگے نکل کر مسائل کے حل اور پراجیکٹ بیسڈ مستقل ملازمت کی طرف جانا چاہیے۔ یونیورسٹی مارکیٹ سپیس دیکھ کر اس کے مطابق ریسرچ کروائے تاکہ ہر سٹوڈنٹ کو علم ہو کہ اس کی ریسرچ کس ادارے کے مسائل کے حل کے لیے ہے اور ادارے کو بھی علم ہو کہ کون کون سے طلبا ان کے مسائل کا حل تلاش کر رہے ہیں۔ اس سے یہ ہوگا کہ ڈگری ملتے ہی وہ طالب علم بطور ایکسپرٹ اس ادارے میں اہم پوزیشن حاصل کر سکیں گے۔ اس کے ساتھ ایک تجویز یہ بھی دی کہ موجودہ حالات میں پروفیشنل ڈگری کے ساتھ ساتھ ای کامرس، ڈیجیٹل میڈیا مارکیٹنگ اور اے آئی کے کورسز بھی نصاب کا حصہ بنائے جائیں تاکہ پروفیشنل سکل بیسڈ ڈگری لینے کے بعد طلبا ملازمتوں کے لیے مشکلات کا شکار نہ ہوں بلکہ نیشنل اور انٹرنیشنل مارکیٹ میں اپنی سکل اور سروسز مہیا کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں۔

پاکستان اس وقت فری لانسنگ میں دنیا کا چوتھا بڑا ملک بن چکا ہے۔ پاکستانی نوجوان پہلے سے ہی انٹرنیشنل مارکیٹ میں ڈالر کما رہے ہیں لیکن اب بھی ایک بڑی سپیس موجود ہے۔ ہماری جامعات انٹرنیشنل مارکیٹ کی طرز پر انڈسٹریز سے رابطے مضبوط کرتے ہوئے پیڈ انٹرن شپ اور پیڈ ریسرچ ماڈل کی طرف جا سکتی ہیں۔ سٹوڈنٹس کے پراجیکٹ کو مارکیٹ کرنے میں ان کی مدد کر سکتی ہیں اور روایتی نصاب کے ساتھ ڈیجیٹل سکلز کو لازمی قرار دے کر ڈگری کو مزید مضبوط بنا سکتی ہیں۔ مجھے خوشی ہوئی کہ ڈائریکٹر بحریہ یونیورسٹی کموڈور ر عمران افتخار سمیت دیگر سینیئر فیکلٹی نے ان تجاویز سے اتفاق کیا۔

مجھے امید ہے کہ دیگر جامعات بھی اس جانب توجہ دیں گی۔ یاد رکھیں ڈیجیٹل سکلز بہت اہم ہیں لیکن جہاں ڈیجٹل سکلز اور ڈگری کے حامل امیدوار کا مقابلہ صرف سکل سیکھنے والے امیدوار سے ہوگا وہاں ڈگری یافتہ امیدوار کو ترجیح دی جائے گی اس لیے یہ سوچنا غلط ہوگا کہ اب روایتی ڈگری کی ضرورت نہیں ہے اور صرف ڈیجیٹل سکلز سیکھ کر طالب علم بہتر مستقبل بنا سکتا ہے۔

بشکریہ: نئی بات

Check Also

Ambar Bail Ki Uljhi Bailen (2)

By Zafar Syed