Friday, 12 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Abid Mehmood Azaam
  4. Mufti Taqi Usmani Sheikh Ul Islam Kyun Hain?

Mufti Taqi Usmani Sheikh Ul Islam Kyun Hain?

مفتی تقی عثمانی شیخ الاسلام کیوں ہیں؟

​حیرت ہوتی ہے کہ آج کے دور میں بھی اتنا تعصب، بغض اور نفرت ہے کہ مسلکی بنیاد پر علماء کی توہین تک کی جاتی ہے۔ عالمِ دین چاہے کسی بھی مسلک کا ہو، اس کا احترام لازم ہے۔ اگر کسی مسئلے پر اختلاف ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں، لیکن وہ اختلاف ہمیشہ احترام کے دائرے کے اندر ہونا چاہیے۔ بدقسمتی سے سوشل میڈیا پر مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کے حوالے سے بعض حلقوں کی جانب سے تنقید اور غیر مہذب الفاظ کا استعمال کیا گیا، جو سراسر غلط اور افسوسناک ہے۔

یہ صرف اس لیے قابلِ مذمت نہیں کہ ان کا تعلق مسلک دیوبند سے ہے، بلکہ اس لیے کہ ان کی علمی خدمات اور اثرات مسلکی حدود سے کہیں وسیع تر ہیں۔ انہیں عالمِ اسلام کے مختلف حلقوں میں گہری عقیدت اور احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ہر دور میں اللہ تعالیٰ نے ایسے رجالِ کار پیدا فرمائے جنہوں نے اپنے علم، عمل، اخلاص اور بصیرت کے ذریعے امتِ مسلمہ کی رہنمائی کی۔ ان کے افکار، تصانیف اور خدمات آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بن جاتی ہیں۔ ان عظیم شخصیات کے لیے مختلف ادوار میں "امام"، "حافظ"، "محدث"، "فقیہ"، "مجدد" اور "شیخ الاسلام" جیسے اعزازی القابات استعمال کیے گئے ہیں۔ یہ القابات کسی حکومت کی عطا یا سرکاری تقرری کا نتیجہ نہیں ہوتا، بلکہ یہ علمی دنیا کی طرف سے کسی شخصیت کی غیر معمولی خدمات کا اعتراف ہوتے ہیں۔

عصرِ حاضر میں جب "شیخ الاسلام" کا لقب زیرِ بحث آتا ہے تو مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کا نام نمایاں طور پر سامنے آتا ہے۔ بعض لوگ اس کے استعمال پر سوال اٹھاتے ہیں اور بعض اس کی بھرپور تائید کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے کو جذبات یا مسلکی وابستگی کے بجائے تاریخ، علمی روایت اور خدمات کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ جب ہم ان کی زندگی، فقہی کارناموں، عالمی اثرات اور امت کے لیے بے مثال کاوشوں کا جائزہ لیتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں "شیخ الاسلام" کہنے والے محض عقیدت کا اظہار نہیں کرتے، بلکہ ایک علمی حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں۔

​"شیخ الاسلام" کا لقب تاریخ میں کسی ایک شخصیت کے لیے مخصوص نہیں رہا۔ یہ لقب امام ابن تیمیہؒ کے لیے تو مشہور تھا، لیکن ان سے قبل متعدد شخصیات کے نام کے ساتھ تاریخی کتب میں یہ لقب ملتا ہے۔ خود امام ابن تیمیہؒ نے اپنی بعض تحریروں میں سابقہ اکابر علماء کو "شیخ الاسلام" لکھا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ لقب ایک علمی روایت ہے۔ بعض حلقوں کی جانب سے یہ اعتراض بھی کیا گیا کہ "مقلد شیخ الاسلام کیسے ہو سکتا ہے؟" یہ اعتراض علمی اعتبار سے کمزور ہے۔ تاریخ کے اکثر جلیل القدر مفسرین، محدثین اور فقہاء کسی نہ کسی فقہی مکتب سے وابستہ تھے۔ اس کے باوجود امت نے ان کے علمی مقام کو تسلیم کیا۔

​مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کی شخصیت کا جائزہ لیا جائے تو سب سے پہلے ان کا علمی پس منظر سامنے آتا ہے۔ آپ ایک ایسے گھرانے میں پلے بڑھے جس نے برصغیر کی دینی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ آپ کے والد مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی محمد شفیع عثمانیؒ تھے، جن کی تفسیر "معارف القرآن" آج بھی دنیا بھر میں استفادہ کا ذریعہ ہے۔ دارالعلوم کراچی سے درسِ نظامی کی تکمیل، فقہ میں تخصص اور پھر جامعہ کراچی و پنجاب سے قانون و عربی ادب میں اعلیٰ تعلیم کے امتزاج نے انہیں جدید اور قدیم علوم کا ایک ایسا مرقع بنا دیا جس کی بدولت وہ عصرِ حاضر کے پیچیدہ فقہی مسائل کو غیر معمولی بصیرت کے ساتھ سلجھانے کے اہل ہوئے۔

​حدیثِ نبوی ﷺ کے ساتھ ان کا تعلق بھی نہایت گہرا ہے۔ بہت سے لوگ انہیں صرف فقیہ سمجھتے ہیں، حالانکہ وہ ایک بلند پایہ محدث بھی ہیں۔ ان کی عربی تصنیف "تکملہ فتح الملہم" صحیح مسلم کی شرح کے میدان میں ایک اہم علمی اضافہ ہے، جس نے عالمِ عرب میں غیر معمولی پذیرائی حاصل کی۔ اسی طرح ان کے دروسِ بخاری اور "انعام الباری" نے انہیں عصرِ حاضر کے ممتاز محدثین کی صف میں لا کھڑا کیا ہے۔ ان کی سب سے نمایاں خدمت اسلامی معاشیات اور بینکاری کے میدان میں ان کی جدوجہد ہے۔ جدید معاشی نظام میں سودی متبادل کا چیلنج بہت بڑا تھا، لیکن مفتی صاحب نے قرآن و سنت اور فقہِ اسلامی کی روشنی میں ایسا مالیاتی نظام مرتب کیا جسے آج دنیا بھر کے مالیاتی اداروں اور فقہی اکیڈمیوں میں تسلیم کیا جاتا ہے۔ اسی طرح وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بینچ میں بطور جج ان کے فیصلے اور سود کے خلاف ان کا تاریخی فتویٰ اسلامی قانونی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔

​ان کی تصنیفی خدمات کا دائرہ انتہائی وسیع ہے۔ فقہی مقالات، فتاویٰ عثمانی، علوم القرآن، اسلام اور جدید معاشی مسائل، تقلید کی شرعی حیثیت، آسان ترجمۂ قرآن اور ان کے سفرنامے ان کے علمی تنوع کا ثبوت ہیں۔ ان کی تحریروں میں گہرائی اور تحقیق کے ساتھ ساتھ عام قاری کے لیے سادگی اور روانی بھی موجود ہے۔ اس سب کے باوجود ان کی شخصیت میں نمایاں عاجزی اور انکساری یہ بتاتی ہے کہ بڑے لوگ القابات کے پیچھے نہیں بھاگتے بلکہ القابات خود ان کی علمی خدمات کے پیچھے چلتے ہیں۔ جب ہم "شیخ الاسلام" کے تاریخی معیار یعنی علم، فقہ، حدیث، اجتہادی بصیرت، بین الاقوامی قبولیت اور تقویٰ کو سامنے رکھتے ہیں تو یہ بات سمجھنا مشکل نہیں کہ دنیا بھر کے علماء انہیں اس لقب سے کیوں یاد کرتے ہیں۔

​علمی دنیا میں اختلاف ہمیشہ رہے گا، لیکن انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ نصف صدی سے زائد عرصے پر محیط اس عظیم علمی و عدالتی جدوجہد کا اعتراف کیا جائے۔ تاریخ کا فیصلہ جذبات نہیں بلکہ خدمات کرتی ہیں اور جب آنے والی نسلیں عصرِ حاضر کے علماء کا ذکر کریں گی تو مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کا نام ان شخصیات میں شامل ہوگا جنہوں نے علم کو عمل سے، فقہ کو زندگی سے اور دین کو جدید مسائل سے جوڑنے کا عظیم کارنامہ انجام دیا۔ یہی وہ خدمات ہیں جنہوں نے انہیں صرف ایک عالم نہیں بلکہ ایک عہد ساز شخصیت بنا دیا ہے، جس کی بدولت دنیا بھر کے لاکھوں مسلمان انہیں احترام کے ساتھ "شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی" کے نام سے یاد کرتے ہیں۔

Check Also

Dr. Mahnoor Aur Bohat Se Doosre Waqiat

By Kiran Arzoo Nadeem