China Aur Pakistan Ka Surprise
چین اور پاکستان کا سرپرائز

آج کے دور میں طاقت کا معیار صرف یہ نہیں رہا کہ آپ کے پاس کتنے جنگی طیارے ہیں بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ آپ کا میزائل دشمن کو کتنی دور سے دیکھ سکتا ہے اور کتنی دور سے مار سکتا ہے۔ چین گزشتہ دو دہائیوں سے خاموشی کے ساتھ اسی میدان میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ اب چائنہ ایک نئے طویل فاصلے تک مار کرنے والے فضائی میزائلوں کو اپنی جنگی حکمت عملی کا حصہ بنا رہا ہے۔ نیا پی ایل 16 میزائل تین سو کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
جب ایک میزائل تین سو کلومیٹر دور سے حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو تو فضائی حدود کی روایتی تعریفیں بھی تبدیل ہونے لگتی ہیں۔ چین صرف نئی ٹیکنالوجی سے لیس ہتھیار نہیں بنا رہا بلکہ ایک مکمل جنگی سسٹم تشکیل دے رہا ہے۔ بیڈو سیٹلائٹ نیویگیشن، جدید اے ای ایس اے ریڈار، اسٹیلتھ طیارے اور طویل فاصلے کے میزائل ایک دوسرے سے جڑ کر ایسا نیٹورک بناتے ہیں جس کو توڑنا نیٹو اور امریکا کے بس کا بھی معلوم نہیں ہوتا۔ چینی جنگی نیٹورک کا انحصار اس کے اپنے سیٹلائٹس اور اپنے جی پی ایس سسٹم پر ہے یعنی وہ مغرب کی کسی ٹیکنالوجی کا محتاج نہیں ہے۔ یہی وہ ماڈل ہے جس نے امریکا کو کئی دہائیوں تک عسکری برتری دی اور اب چین اسی راستے پر تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان فضائی طاقت کا توازن ہمیشہ علاقائی سلامتی کا اہم عنصر رہا ہے۔ اگر مستقبل میں پاکستان کو چینی ساختہ جدید ترین فضائی میزائلوں تک رسائی حاصل ہوتی ہے تو اس سے خطے میں طاقت کے توازن پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ یہ صرف ایک نئے ہتھیار کی شمولیت نہیں ہوگی بلکہ فضائی جنگ میں فیصلہ کن برتری ثابت ہوگی۔ پی ایل 16 پہلا طویل ترین فاصلے تک مار کرنے والا BVR میزائل ہوگا جو نیٹو اور امریکا کی فضائی برتری کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی بھارت کو اپنے ہوائی اڈے خاص حالات یا جنگی حالات میں پاکستانی سرحدوں سے تین سو کلومیٹر دور منتقل کرنے پڑ سکتے ہیں یا پاک فضائیہ بھارتی سرحد کے تین سو کلومیٹر اندر تک اپنی برتری قائم کرنے پر قادر ہو سکتی ہے۔
اسی خدشے کے پیش نظر بھارت میں بالعموم اور بھارتی عسکری حلقوں میں بالخصوص اس میزائل کی ممکنہ پاکستان حوالگی کو لے کر کہرام برپا ہے گو کہ تاحال اس میزائل کی پاکستان کو حوالگی کے متعلق مصدقہ اطلاعات نہیں ہیں۔ ابھی تو چین نے بھی اس کا باضابطہ سرکاری اعلان یا تجربہ نہیں کیا ہے۔ لیکن بھارت کی تشویش بے سبب بھی نہیں ہے اور پاکستان چائنہ عسکری تعاون کسی سے ڈھکا چھپا بھی نہیں ہے۔ پاکستان اور چائنہ کے پاس وہ کچھ بھی موجود ہے جس کا کبھی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا اور یہی ان دونوں ممالک کا "سرپرائز" ہے۔

