Pakistan Ka Taleemi Apartheid
پاکستان کا تعلیمی اپارتھائیڈ
پاکستان میں جب بھی مساوات، انصاف اور ترقی کی بات ہوتی ہے تو تعلیم کو قوم کی تقدیر بدلنے کا ذریعہ قرار دیا جاتا ہے۔ مگر تلخ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا تعلیمی نظام اب ترقی کا زینہ نہیں بلکہ طبقاتی تقسیم کا سب سے مضبوط ہتھیار بن چکا ہے۔ یہاں تعلیم ایک حق نہیں، ایک مراعات یافتہ طبقے کی جاگیر بن گئی ہے۔ جس بچے کے والدین امیر ہیں، اس کے لیے کامیابی کے دروازے کھلے ہیں اور جو غریب ہے، اس کے لیے محرومی، مایوسی اور محدود مواقع مقدر بنا دیے گئے ہیں۔
یہ محض ایک انتظامی ناکامی نہیں بلکہ ایک ایسا سماجی اور سیاسی ڈھانچہ ہے جو عدم مساوات کو برقرار رکھنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ اسی لیے متعدد ماہرین پاکستان کے تعلیمی نظام کو "ایجوکیشن اپارتھائیڈ" (ڈاکٹر عادل نجم صاحب) یعنی تعلیمی نسل پرستی یا تعلیمی امتیاز سے تعبیر کرتے ہیں۔ ایک ایسا نظام جس میں بچوں کا مستقبل ان کی صلاحیتوں سے نہیں بلکہ ان کے والدین کے بینک اکاؤنٹ سے طے ہوتا ہے۔
ایک طرف اشرافیہ کے بچے ہیں جو مہنگے نجی اسکولوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ ان کے لیے جدید کلاس رومز، تربیت یافتہ اساتذہ، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، تنقیدی سوچ، مباحثے، غیر ملکی زبانیں، عالمی نصاب اور بیرونِ ملک جامعات تک رسائی موجود ہے۔ انہیں قیادت کرنا سکھایا جاتا ہے، فیصلے کرنا سکھائے جاتے ہیں اور مستقبل پر حکمرانی کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔
دوسری طرف کروڑوں ایسے بچے ہیں جن کے حصے میں ٹوٹے ہوئے اسکول، خستہ حال عمارتیں، غیر حاضر اساتذہ، ناقص نصاب اور رٹے پر مبنی امتحانات آتے ہیں۔ ملک کے ہزاروں سرکاری اسکول آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ کہیں بجلی نہیں، کہیں پانی نہیں، کہیں چار دیواری نہیں اور کہیں استاد موجود نہیں۔ گویا ریاست نے غریب بچوں کو تعلیم نہیں بلکہ محرومی کا سرکاری سرٹیفکیٹ دینے کا انتظام کر رکھا ہے۔
اس سے بھی زیادہ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ سرکاری تعلیمی نظام کی ناکامی نے ایک نئی صنعت کو جنم دیا ہے: ٹیوشن اور اکیڈمی مافیا۔ آج والدین کو اپنے بچوں کو صرف اسکول بھیجنا کافی نہیں ہوتا۔ انہیں اضافی ٹیوشن، کوچنگ سینٹرز اور اکیڈمیوں پر ہزاروں روپے خرچ کرنا پڑتے ہیں۔ گویا سرکاری نظام پہلے ناکام بنایا جاتا ہے اور پھر اسی ناکامی سے منافع کمانے کے لیے ایک متوازی کاروبار کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ تعلیم اب خدمت نہیں، منافع بخش صنعت بن چکی ہے۔
اس بحران کا سب سے خوفناک پہلو وہ ڈھائی کروڑ سے زائد بچے ہیں جو آج بھی اسکول سے باہر ہیں۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں، بلکہ ایک قومی المیہ ہے۔ ہر وہ بچہ جو تعلیم سے محروم رہ جاتا ہے، دراصل پاکستان کے مستقبل سے ایک اور امید کم ہو جاتی ہے۔ دنیا مصنوعی ذہانت AI، جدید ٹیکنالوجی اور علم پر مبنی معیشت کی طرف بڑھ رہی ہے جبکہ پاکستان کے لاکھوں بچے ابھی تک بنیادی خواندگی سے بھی محروم ہیں۔
سوال یہ ہے کہ یہ صورتحال آخر کیوں برقرار ہے؟
اس کا کیوں کا جواب تکلیف دہ مگر واضح ہے: کیونکہ طاقتور طبقے کو اس نظام کی تبدیلی میں کوئی دلچسپی نہیں۔
پاکستان میں پالیسی بنانے والے، وزراء، اعلیٰ افسران اور سیاسی اشرافیہ اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں نہیں بھیجتے۔ ان کے بچے مہنگے نجی اداروں یا بیرونِ ملک تعلیمی اداروں میں پڑھتے ہیں۔ انہیں سرکاری اسکولوں کی ٹوٹی ہوئی چھتوں، خالی کلاس رومز اور ناکام نظام سے کوئی واسطہ نہیں۔ جب فیصلہ ساز خود اس نظام کے صارف نہ ہوں تو اصلاحات صرف تقریروں اور انتخابی منشوروں تک محدود رہ جاتی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ تعلیم کے نام پر ہر سال وعدے تو کیے جاتے ہیں مگر بجٹ میں تعلیم کا حصہ بدستور شرمناک حد تک کم رہتا ہے۔ ایک ایسا ملک جو اپنی مجموعی قومی پیداوار کا محض دو فیصد یا اس سے بھی کم تعلیم پر خرچ کرتا ہو، وہ درحقیقت اپنے مستقبل پر سرمایہ کاری نہیں بلکہ اس کی قربانی دے رہا، نہیں تباہی کر رہا ہوتا ہے۔
اصل مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ ہماری ترجیحات کی خرابی ہے۔ ہمارے حکمران سڑکوں، عمارتوں اور نمائشی منصوبوں پر اربوں روپے خرچ کر سکتے ہیں، مگر جب بات سرکاری اسکولوں، اساتذہ کی تربیت اور بچوں کے مستقبل کی آتی ہے تو خزانہ خالی ہو جاتا ہے۔
پاکستان کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ ایک ایسی ریاست بننا چاہتا ہے جہاں تعلیم ہر بچے کا حق ہو، یا پھر ایک ایسا معاشرہ جہاں چند ہزار اشرافیہ کے بچے حکمران بنیں اور کروڑوں غریب بچے ہمیشہ ان کے ماتحت رہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ کوئی قوم دو الگ تعلیمی نظاموں کے ساتھ ترقی نہیں کر سکتی۔ ایک طرف مراعات یافتہ طبقے کے لیے عالمی معیار کی تعلیم اور دوسری طرف عوام کے لیے زوال پذیر نظام، دراصل قومی وحدت، سماجی انصاف اور جمہوری مساوات کے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔
اگر پاکستان واقعی ترقی، انصاف اور خوشحالی چاہتا ہے تو اسے سب سے پہلے تعلیمی اشرافیت کے اس قلعے کو توڑنا ہوگا۔ کیونکہ جب تک غریب اور امیر کے بچوں کو یکساں معیاری تعلیم میسر نہیں آتی، تب تک مساوات کے تمام دعوے، ترقی کے تمام نعرے اور تبدیلی کے تمام وعدے محض الفاظ کا دھوکہ رہیں گے۔
تعلیم کسی طبقے کی جاگیر نہیں، قوم کے ہر بچے کا حق ہے اور جو ریاست اپنے بچوں کو یہ حق دینے میں ناکام ہو جائے، اسے اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا چاہیے۔

