جنگ پاکستان پہنچنے والی ہے؟

جنگیں ہمیشہ ان ملکوں اور معاشروں کے لیے بربادی لاتی ہیں جو اس میں شریک ہوتی ہیں۔ وہ قومیں اس کی بھاری جانی مالی قیمیت ادا کرتی ہیں جو دوسروں پر وہ جنگ مسلط کرتی ہیں یا جن پر کی جاتی ہے۔
ہم پاکستانی بھی جنگ کے بڑے شوقین ہیں لیکن وہی بات کہ جنگ دور سے ٹی وی سکرین سے اچھی لگتی ہے۔ اپنے گھر میں جنگ کوئی نہیں دیکھنا چاہتا۔ پاکستان کی خوش قسمتی رہی ہے کہ ایسی جنگیں یہاں نہیں لڑی گئیں جیسے ایران، افغانستان، لبنان، لبیا، شام، عراق میں لڑی گئی ہیں۔ لہذا ہمارے ہاں جنگ کا ابھی بھی رومانس باقی ہے۔
لگتا ہے اگر ایران امریکہ جنگ فوری طور پر بند نہ ہوئی تو یہ پاکستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔
اس کا پہلا عندیہ سامنے آگیا ہے۔
سعودی عرب کے وزیر دفاع کی پاکستان کے فیلڈ مارشل سے ملاقات نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ سعودی عرب اب آپ سے اس معاہدے کے تحت آپ سے اپنا دفاع مانگ رہا ہے جو ہم نے پچھلے سال کیا تھا کہ کسی ایک ملک پر حملہ دوسرے پر تصور ہوگا۔
اب اس معاہدے کے تحت پاکستان کو اگر سعودی عرب ریکوسٹ کرتا ہے تو آپ کو شامل ہونا پڑے گا۔ انکار کی شکل میں آپ جنگ سے تو بچ جائیں گے اور اپنے شہریوں کو بچا لیں گے لیکن سعودی عرب جیسے قابل بھروسہ ملک، پرانی دوستی اور تعلق کو کھو بیٹھیں گے۔
اور اگر آپ جنگ کو جوائن کرتے ہیں تو ایران پاکستان پر بھی وہی حملے شروع کرسکتا ہے جو مڈل ایسٹ کی دیگر ریاستوں پر کررہا ہے۔ جوابا پاکستان بھی ایران پر حملے کرسکتا ہے اور یوں جہاں دونوں ملک براہ راست جنگ میں ہوں گے وہاں ان کے سویلین بھی خطرے میں ہوں گے۔
پاکستان کے پاس ایک ہی حل ہے کہ وہ ایران کو روکے کہ وہ سعودی عرب پر حملے نہ کرے لیکن ایرانی اس بات پر غصے میں ہیں کہ امریکی اخبار کی رپورٹ مطابق صدر ٹرمپ کو ایران پر حملوں کے لیے اکسانے والے سعودی تھے جس میں ان کی ٹاپ لیڈرشپ ختم ہوگئی۔
سعودی اس کی تردید کرچکے ہیں۔
دوسرے ایران کی وہ سب اعلی قیادت جس کے پاکستان سے تعلق تھے یا جن سے ہم بات کرسکتے تھے وہ ختم ہوچکی ہے۔ وہاں اب شاید یونٹی آف کمانڈ بھی نہیں ہے جو ایسے بڑے فیصلے کر سکے۔ وہاں لگتا ہے کئی مزاحمتی گروپس اب اپنے اپنے فیصلے کر رہے ہیں۔
بہرحال پاکستان ایک بڑی مشکل میں پھنس گیا ہے۔ ہم ہمیشہ سے عرب عجم کی اس صدیوں پرانی لڑائی میں توازن قائم کرنے کی کوششوں میں ہی لگے رہے اور دونوں ہی ہم سے خوش نہ ہوئے۔
سعودی عرب پاکستان کے لیے بہت بڑی معاشی لائف لائن ہے تو ایران بھی بہت اہم ہے کہ ان کے سکول آف تھاٹ سے تعلق رکھنے والے تین چار کروڑ پاکستان کے شہری ہیں۔ ان کے جذبات کا بھی خیال رکھنا ہوگا ورنہ ہمارے ہاں داخلی طور پر خطرناک صورت حال پیدا ہوسکتی ہے۔
ایران اس وقت اس موڈ میں نہیں لگ رہا کہ وہ کسی کی بات سنے گا کہ اس کے اپنے ہاں بہت لیڈرشپ اور جانی نقصان ہوچکا ہے۔ ایران اس وقت اس موڈ میں ہے کہ صنم ہم تو ڈوبے ہیں تجھے بھی لے ڈوبیں گے۔
ایران کو شاید یہ بھی لگتا ہے یہ اچھا موقع ملا ہے عربوں عجموں کی پرانی جنگوں کے سکور سیٹل کیے جائیں۔ عرب/ ایران یا سعودی ایران نفرت بہت پرانی ہے۔
ایران اور سعودی عرب چالیس پچاس سال سے اس خطے کے ممالک میں مسلک کے نام پر پراکسی جنگیں لڑتے آئے ہیں لہذا خطرہ ہے وہ پہلی دفعہ یہ پراکسی کا تکلف ختم کرکے براہ راست جنگ لڑیں۔
اب اگر فیلڈ مارشل ایران کو سعودی عرب پر حملوں سے نہ روک سکے تو ہمیں جنگ جوائن کرنی ہوگی یا سعودی عرب کو کھونا ہوگا۔
ہمارا وہی حال ہے اس وقت آگے سمندر تو پیچھے کھائی ہے۔

