Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Ammar Riaz Chohan
  4. Aflas Se Chutkara Kaise Payen?

Aflas Se Chutkara Kaise Payen?

افلاس سے چھٹکارہ کیسے پائیں؟

گزشتہ دنوں ہم دفتر سے گھر جارہے تھےکہ اچانک ہماری نظر ایک ایسے شخص پر پڑی، جو ہاتھ میں بڑے سے کاغذ پر یہ عبارت لکھے کھڑا تھا۔ "میرے چار بچے ہیں، جن کی والدہ کا آج اپریشن ہے، جس کے لیے ڈاکٹروں نے 5لاکھ روپے مانگے ہیں"۔ ہم یہ منظر دیکھ کر رک گئےاور خود سے سوال کرنے لگے: کیا افلاس سے چھٹکارہ ممکن ہے؟ کیا اس سے چھٹکارے کے طریقے ہیں؟ ان سوالات کے جوابات تلاش کرتے ہوئے معلوم ہوا کہ چھٹکارہ تو ممکن ہے، مگر اس کے لیے تھوڑی سی جدوجہد اور موثر منصوبہ بندی کرنا پڑے گی۔

افلاس کا مسئلہ صرف مالی کمی نہیں، بلکہ یہ ایک پیچیدہ سماجی، اقتصادی اور سیاسی مسئلہ بھی ہے۔ افلاس کی چند بنیادی وجوہات ہیں: جن میں تعلیم کی کمی، حکومتی پالیسوں کی عدم توجہی، عدم مساوات اور روزگار کے مواقع کا فقدان شامل ہیں۔ ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق جن ممالک میں تعلیمی معیار بہتر ہوتا ہے، وہاں کے لوگ مالی طور پر زیادہ خودکفیل ہوتے ہیں۔

اسی طرح معاشی پالیسوں کا بھی افلاس پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ جس میں پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں اکثر حکومتی اقدامات افلاس کی شدت کو کم کرنے میں ناکام رہتے ہیں، خاص طور پر دیہی علاقوں میں جہاں بنیادی سہولتوں کی کمی ہوتی ہے۔ پاکستان میں شہر اور دیہات کے درمیان آمدنی کا فرق بڑھتا جا رہا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق، پاکستان میں 30 فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں اور ان میں سے اکثریت دیہی علاقوں میں رہتے ہیں۔

افلاس صرف مالی مشکلات تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اس کے ذہنی، جسمانی اور سماجی اثرات بھی ہوتے ہیں۔ جب جیبیں خالی ہوتی ہیں، تو انسان نہ صرف مالی بلکہ ذہنی طور پر بھی کمزور محسوس کرتا ہے۔ اسی طرح افلاس انسان کے سوچنے کی صلاحیت اور فیصلے کرنے کی قابلیت کو بھی متاثر کرتا ہے۔ ایسی بہت سی رپوٹس ہیں جو اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ اگر موثر منصوبہ بندی اور بجٹ سازی کی جائے، تو افلاس سے نجات حاصل کرنا ممکن ہے۔ ایک تحقیق میں یہ بتایا گیا ہے کہ جن افراد نے مالی معاملات کو منظم رکھا، ان کے معیار زندگی میں 30% تک بہتری آئی۔ پاکستان میں اقتصادی سروے 2024ءکے مطابق، 35 فیصد سے 40 فیصد افراد مالی عدم استحکام کا شکار ہیں، جن کی حالت وقتاً فوقتاً بہتر ہو سکتی ہے، اگر ان کے لیے مناسب مالی تعلیم اور منصوبہ بندی کی سہولتیں فراہم کی جائیں۔ درج ذیل میں چند ایسے عوامل ذکر کیے جارہے ہیں، جن پر عمل کرکے افلاس سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔

1۔ نیت خالص رکھیں

اپنی نیت کو خالص رکھیں۔ رسول ﷲ ﷺ نے فرمایا: "تمہارے تمام اعمال کا دارومدار تمہاری نیتوں پر ہے"۔ یعنی ہمارے عمل سے کسی کی حق تلفی کرنا مقصود نہ ہو اور نہ کسی کو نیچا دیکھانے کی نیت ہو، بلکہ مفلسی کی زندگی سے نکل کر ایک خوش حال اور آسان زندگی گزارنے کی نیت ہو۔

2۔ موثر منصوبہ بندی کریں

مالی خوشحالی کا راز صرف آمدن میں نہیں، بلکہ مالی نظم و ضبط اور مؤثر منصوبہ بندی میں ہے۔ اگرچہ آپ کی آمدن محدود ہو، لیکن صحیح طریقے سے اخراجات کو منظم کریں تو سکون سے زندگی گزار سکتے ہیں۔

3۔ بجٹ مختص کریں

اپنی آمدن میں بجٹ مختص کرنا، مالی نظم و ضبط کا بنیادی حصہ ہے۔ یہ آپ کی مالی حالت کو بہتر بنانے میں بہت مددگار ثابت ہوتا ہے۔ جب آپ اپنی آمدن کو مختلف حصوں میں تقسیم کرتے ہیں تو آپ کو اخراجات کا جائزہ لینےاور انہیں منظم رکھنے میں آسانی ہوتی ہے۔ بجٹ بنانا صرف ایک منصوبہ نہیں، بلکہ یہ آپ کی مالی آزادی کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ جب آپ اپنی آمدن کو منظم طریقے سے خرچ کرتے ہیں، تو آپ کا مالی دباؤ کم ہوتا ہے اور آپ اپنی زندگی کو بہتر طریقے سے گزار سکتے ہیں۔ ذیل میں بجٹ مختص کرنے کا ایک طریقہ ذکر کیا جارہا ہےکہ اپنی آمدن کو تین حصوں میں تقسیم کریں۔ 20 فیصد، 30 فیصد اور 50 فیصد۔

20 فیصد حصہ اپنی آمدن کابچت کے لیے مختص کریں۔ یہ آپ کو غیر متوقع حالات، ایمرجنسیز، یا مستقبل کے کسی بڑے خرچے کے لیے تیار کرتے ہیں۔ بچت آپ کو ذہنی سکون بھی فراہم کرتی ہے، کیونکہ یہ آپ کو مالی مشکلات کا سامنا کرنے کے وقت مددگار ثابت ہوتی ہے۔

30فیصد کھانے پینے کے اخراجات بنیادی ضروریات ہیں اور ان پر خرچ کرنے کے لیے ایک مخصوص بجٹ ہونا چاہیے۔ جس کا استعمال آپ اپنے روزمرہ کے کھانے پینے کی اشیاء اور ضروریات خریدنے کے لیے کر سکتے ہیں۔ اس حصے میں توازن رکھنا ضروری ہے تاکہ آپ غیر ضروری کھانے پینے کی چیزوں پر پیسہ ضائع نہ کریں۔

50 فیصد یہ وہ رقم ہوتی ہے، جس سے آپ اپنے گھریلو اخراجات جیسے کرایہ، بجلی، پانی، گیس اور دیگر ضروری بلز ادا کرتے ہیں۔ اس حصے میں آپ کو یہ دھیان رکھنا ہوگا کہ آپ اس رقم کا صحیح استعمال کریں اور اپنے اخراجات پر کنٹرول رکھیں۔ اس طرح آپ بھی بجٹ مختص کرکے مالی اخراجات اور فضول خرچی پر قابو پاسکتے ہیں۔

4۔ استغفار کریں

استغفار کرنا ایک ایسا عمل ہے، جو نہ صرف روحانی، بلکہ مالی فوائد بھی فراہم کرتا ہے۔ جب آپ اللہ سے استغفار کرتے ہیں اور اس کا شکر ادا کرتے ہیں، تو نہ صرف آپ کی روحانیت میں اضافہ ہوتا ہے، بلکہ آپ کے رزق میں بھی برکت آتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جس نے استغفار کو لازم پکڑ لیا، اللہ تعالیٰ اسے ہر غم سے نجات دے گا اور رزق میں برکت دے گا"۔ استغفار ایک ایسا عمل ہے جس سے اللہ کی رحمتیں اور برکتیں دونوں حاصل ہوتی ہیں۔ جب ہم اللہ سے اپنی خطاؤں کی معافی مانگتے ہیں، تو اللہ ہمیں اپنی برکات سے نوازتا ہے، جس کا سب سے بڑا فائدہ ہمارے رزق میں اضافے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

5۔ شکرگزاری کریں

شکر گزار رہنا ضروری ہے، کیونکہ جب آپ اپنے حال پر شکر ادا کرتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ آپ کو مزید عطا کرتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں مزید دوں گا۔ "(سورۃ ابراہیم)شکرگزاری رزق میں برکت کا باعث بنتی ہے۔ ہمیں جو کچھ بھی اللہ کی طرف سے ملتا ہے، اس پر شکر گزار بنیں گے تو اللہ ہماری زندگی میں اور زیادہ بھلائی، خوشی اور سکون لے آئےگا۔

ہم چونکہ ایک معاشرے کا حصہ ہیں، جہاں امیر وغریب ہر قسم کے لوگ رہتے ہیں۔ اس لیے ہمیں بھی معاشرتی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے ان افراد کی مدد کرنی چاہیے، جو افلاس کا شکار ہیں۔ اس میں صرف مالی مدد نہیں، بلکہ انہیں تعلیمی، سماجی اور اقتصادی وسائل فراہم کرنا بھی ضروری ہے تاکہ وہ خودکفیل بن سکیں۔ حکومتی سطح پر بھی پیشہ ورانہ تربیت کے پروگرامز اور تعلیمی اسکالرشپس کا اجرا کیا جانا چاہیے، تاکہ کمزور مالی حیثیت کے افراد کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کا موقع مل سکے۔

Check Also

Peter Tum Das Din Kahan Ghaib Rahe

By Javed Chaudhry