Ghurbat Ki Lakeer Aur Hamara Budget
غربت کی لکیر اور ہمارا بجٹ

ہمارئے استاد شاہ محمد مرحوم کہتے تھے کہ ہر وہ آدمی غریب ہے جس کی آمدنی اسکے روزمرہ کےگھریلو اخراجات پورئے نہ کرسکے۔ اس لیے کم آمدنی والا ہر شخص غریب نہیں ہوتا اور زیادہ آمدنی والا ہر شخص خوشحال نہیں ہوتا۔ ایسے ہی ہمارے ایک اور دوست محمد سعید چشتی مرحوم کہا کرتے تھے کہ "غریب وہ نہیں جو کم کماتا ہے غریب وہ ہے جو اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے اور اپنی اگلی نسل کو بہتر مستقبل دینے کی استطاعت کھو بیٹھے"۔ وہ کہا کرتے تھے کہ میں انیس گریڈ کا افسر ہوں دفتر پیدل جاتا ہوں پانچ بچوں کا باپ ہوں اسلام آباد کے ڈھائی مرلہ کے چھوٹے سے گھر میں رہتا ہوں اور بمشکل گزارہ کرتا ہوں پھر بھی مشکل حالات و ضروریات میں قرض مانگنا پڑجاتا ہے اس لیے میں خود کو بھی غریب سمجھتا ہوں۔
غریب کی تعریف صرف کم آمدنی والے شخص تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس کی معاشی، سماجی، انسانی ترقی اور ادبی وفکری تعریف الگ الگ ہوتی ہے۔ معاشی طور پر وہ شخص یا گھرانہ غریب ہے جس کی آمدنی اس کی بنیادی ضروریات جیسے خوراک، رہائش، لباس، تعلیم اور علاج کے اخراجات پورے کرنے کے لیے ناکافی یا کم ہو وہ غریب ہوتا ہے جبکہ سماجی طور پر تعریف یہ ہے کہ وہ فرد جو معاشرئے میں دستیاب مواقع سے محروم ہو اور اپنی محنت وصلاحیت کے باوجود بہتر زندگی حاصل نہ کرسکے وہ بھی غریب ہی ہوتا ہے اور انسانی ترقی کے حوالے سے وہ شخص بھی غریب ہے جس کے پاس معیاری تعلیم، صحت، صاف پانی، مناسب رہائش اور باعزت روزگار میسر نہ ہو اور غریب کی ادبی وفکری تعریف یہ ہے کہ غریب وہ نہیں جس کی جیب خالی ہو بلکہ وہ ہے جس کے پاس اپنی ضروریات پوری کرنے کے وسائل، مواقع اور امیدیں کم پڑ جائیں۔
غربت کا معیار کسی کے صرف روپے پیسے سے نہیں بلکہ معیار زندگی، مواقع اور انسانی وقار کو سامنے رکھ کرہی جانچا جاسکتا ہے یہی وجہ ہے کہ بعض ماہرین کم آمدنی کی بجائے غربت کو محرومی اور بےبسی کا نام بھی دیتے ہیں۔ اس لیے سطح غربت کی لکیر کا آمدنی کی رقم سے تعین کرنا ممکن نہیں ہے۔ اباجی مرحوم سے میں نے ایک مرتبہ پوچھا تھا کہ غریب کسے کہتے ہیں اور غربت کا تعین کیسے کیا جائے؟ تو انہوں نے جواب دیا تھا کہ دنیا کے سرمایہ دارانہ نظام میں دو ہی طبقے ہیں ایک غربب اور دوسرا امیر اور اشرافیہ اس لیے تعریف اور تعین امیر اور اشرافیہ کا کر لیں جو کل آبادی کا دس فیصد سے زیادہ نہیں ہیں باقی جو بھی بچیں وہ سب غریب ہوتے ہیں۔
موجودہ بجٹ کے ساتھ ساتھ آج کل میڈیا اور سوشل میڈیا پر غربت کی لکیر ایک بار پھر بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ اقتصادی سروئے اور اعداد و شمار کے ماہرین، حکومتی ادارے، بین الاقوامی تنظیمیں اور سیاست دان اپنے اپنے پیمانے لے کر میدان میں موجود ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ اتنی آمدنی والا غریب ہے، کوئی اس سے زیادہ یا کم رقم کو معیار قرار دیتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے غربت انسانوں کی نہیں بلکہ صرف نمبروں کی کہانی بن کر رہ گئی ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا غربت واقعی چند ہزار روپے ماہانہ آمدنی سےہی ناپی جا سکتی ہے؟ کیا ایک خاندان کی محرومی، اس کے بچوں کی ادھوری تعلیم، بیمار ماں کی بے بسی، بے روزگار نوجوان کی پریشانی اور بوڑھے باپ کی بیماریوں اور جھریوں میں چھپی فکر کو کسی ایک عدد میں قید کیا جا سکتا ہے؟ غربت صرف خالی جیب کا نام نہیں۔ غربت مواقع کی کمی کا نام بھی ہوتا ہے۔ غربت اس احساس کا نام ہے جب ایک ذہین طالب علم فیس نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم چھوڑ دیتا ہے۔ غربت اس دکھ کا نام ہے جب ایک باپ دوا علاج اور راشن میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
غربت وہ خاموش آنسو ہے جو کسی بیوہ کی آنکھ سے اس وقت گرتا ہے جب وہ اپنے بچوں کی خواہشات پوری نہیں کر سکتی۔ اعداد و شمار اپنی جگہ اہم ہیں۔ یقیناََ حکومتوں کو منصوبہ بندی کے لیے پیمانے درکار ہوتے ہیں۔ مگر مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جب غربت کی لکیر حقیقت سے دور ہو جائے۔ کسی ایئرکنڈیشنڈ دفتر میں بیٹھ کر بنائی گئی لکیر اس ماں کے چولہے کی ٹھنڈک محسوس نہیں کر سکتی جس کے گھر کئی دن سے گوشت تو کیا، دال بھی نہیں پک سکی؟ یہ لکیر اس مزدور کے پھٹے ہوئے جوتے بھی نہیں دیکھ سکتی جو روزگار کی تلاش میں میلوں پیدل چلتا ہے۔
پاکستان جیسے ملک میں جہاں مہنگائی، بے روزگاری اور آبادی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہو، وہاں غربت کی تعریف صرف آمدنی تک محدود نہیں رہ سکتی۔ معیاری تعلیم، صحت، صاف پانی، محفوظ رہائش اور باعزت روزگار بھی غربت کے پیمانے ہونے چاہئیں۔ اگر کسی شخص کی آمدنی مقررہ حد سے کچھ زیادہ ہے لیکن اس کے بچے سکول نہیں جا سکتے، علاج میسر نہیں اور گھر کرائے اور بجلی کے بل کی ادائیگی میں آدھی تنخواہ چلی جاتی ہے تو کیا وہ واقعی غریب نہیں؟
بدقسمتی سے ہمارے ہاں غربت کی بحث اکثر سیاسی نعروں میں گم ہو جاتی ہے۔ ایک حکومت غربت کم ہونے کے دعوے کرتی ہے اور دوسری اسے بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہے۔ مگر غربت نہ حکومت کی ہوتی ہے نہ اپوزیشن کی، غربت صرف غریب کی ہوتی ہے اور اس کا بوجھ وہی اٹھاتا ہے۔ حقیقت یہ ہےکہ دس ہزار کمانے والا ایک اکیلا فرد جس کے کندھوں پر کوئی اور ذمہ داری نہیں ہے شاید غریب نہ ہو لیکن پچاس ہزار کمانے والا وہ شخص ضرور غریب ہے جو اپنے چار خاندان کے افراد کے ساتھ کرایے کے گھر میں رہتا ہے اور بجلی اور گیس کے بلوں اور بچوں کی فیس سے ہر لمحہ خوفزدہ ہوتا ہے۔
اصل سوال غربت کی لکیر کا نہیں بلکہ ضمیر کی لکیر کا ہے۔ اگر ایک جانب ہمارے معاشرے میں دولت کے انبار بڑھتے جائیں او دوسری جانب ر محروم طبقے کی مشکلات بھی بڑھتی رہیں تو مسئلہ اعداد و شمار کا نہیں، ترجیحات کا ہے۔ قومیں اس وقت ترقی کرتی ہیں جب وہ اپنے کمزور طبقات کو ساتھ لے کر چلتی ہیں، نہ کہ انہیں سروے رپورٹوں کے خانوں میں بند کر دیتی ہیں۔ اس لیے موجودہ بجٹ کو کسی لحاظ سے بھی غریب کا بجٹ نہیں کہا جاسکتا۔ کیونکہ ایک اچھا بجٹ آمدنی میں اضافے کے ساتھ ساتھ اخراجات کے بوجھ کو کم بھی کرتا ہے جو اس بجٹ میں شاید نہیں ہو پارہا ہے۔

