Phone Ki Doosri Taraf Baitha Shikari
فون کے دوسری طرف بیٹھا شکاری

کچھ شرپسند ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا اصل ذوق دوسروں کے بھید جاننا اور ان کی ٹوہ میں رہنا ہوتا ہے۔ یہ لوگ کانوں کے ساتھ ایک مستقل جاسوسی نظام رکھتے ہیں۔ عمارتوں کی شٹرنگ کرنے والے ایک صاحب سے میرا تعارف ہوا۔ بظاہر بڑے ملنسار اور پیر پرست قسم کے تھے۔ لیکن جلد ہی اس کی ایک عجیب عادت کا پتا چلا۔ انھوں نے خود مجھے اپنا یہ طریقِ واردت بتایا۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ وہ فون پر بات ختم کرتے، دعا سلام کرتے، "اچھا بھائی اللہ حافظ" کہتے، مگر فون بند نہیں کرتے ہیں۔ اس لیے کہ کئی لوگ بات ختم ہوتے ہی برا بھلا کہنا شروع کر دیتے ہیں۔ سو ایسوں کی گفتگو سن کر پھر انھیں مزہ چکھاتا ہوں۔
یہ اس ٹوہ میں ہوتے ہیں کہ دوسری طرف والا بندہ فون بند سمجھ کر ان کے بارے میں کیا کہتا ہے۔ کیونکہ ہم میں سے بہت سے لوگ ایک عجیب بیماری میں مبتلا ہیں۔ فون ختم ہوتے ہی تبصرہ شروع ہو جاتا ہے۔ "یار بڑا عجیب آدمی ہے"، "دماغ کھا گیا"، "کتنا فضول بندہ ہے" اور کبھی اس سے بھی کچھ زیادہ رنگین و سنگین جملے۔
دوسری طرف موجود "شکاری" اسی لمحے کا منتظر ہوتا ہے۔ جوں ہی اسے اپنے بارے میں کوئی منفی جملہ سنائی دیتا ہے، وہ اسے دل میں محفوظ کر لیتا ہے۔ پھر موقع ملنے پر جھگڑے اور دشمنی کی فصل اگاتا ہے۔ گویا اس نے اپنے اور دوسروں کے لیے سکون نہیں بلکہ نئے مسائل تلاش کیے ہوتے ہیں۔
مجھے ہمیشہ ایسے لوگ عجیب لگتے ہیں۔ فرض کریں آپ کو واقعی کسی نے برا بھلا کہہ دیا، پھر کیا! کیا آپ کی زندگی بہتر ہو جائے گی! کیا آپ زیادہ خوش ہو جائیں گے! کیا آپ کے دل کو سکون مل جائے گا! نہیں۔ آپ نے صرف اپنے اندر زہر بھر لیا ہوگا۔
انسان کی زندگی پہلے ہی پریشانیوں سے بھری ہوئی ہے۔ پھر ہم دوسروں کے دلوں میں چھپے ہوئے ممکنہ منفی خیالات دریافت کرنے کے لیے اتنے بے چین کیوں ہوتے ہیں! آخر ہم ہر قیمت پر یہ جاننے کے خواہش مند کیوں ہوتے ہیں کہ فلاں شخص ہمارے بارے میں کیا سوچتا ہے!
اسلام نے اسی لیے ایک عظیم اصول دیا کہ دوسروں کے رازوں یا بھیدوں کے پیچھے مت پڑو۔ قرآن میں ہے: "وَلَا تَجَسَّسُوا" یعنی "اور ٹوہ میں نہ لگو"۔ یہ صرف دیوار پھلانگ کر کسی کے گھر جھانکنے سے منع نہیں کرتا بلکہ دوسروں کے پوشیدہ معاملات، عیب، نجی خیالات اور ذاتی گفتگو تک پہنچنے کی کوشش سے بھی روکتا ہے۔
معاشرے اعتماد اور حسنِ ظن سے بنتے ہیں۔ ہر شخص اگر دوسرے کے راز کھوجنے میں لگ جائے تو دلوں میں زہر بھر جاتا ہے۔ ہر کوئی دوسرے سے کھچا کھچا رہتا ہے۔
میرے خیال میں دانا انسان وہ نہیں جو ہر چھپی ہوئی بات جان لے، بلکہ دانا وہ ہے جو بہت سی باتیں جاننے کے باوجود نظر انداز کر دے۔ ہر چھپی ہوئی بات جاننا ضروری نہیں ہوتا۔ ور اگر سن لیں تو اسے جتانا ضروری نہیں ہوتا۔ اگر کسی کے سینے میں آپ کے لیے کدورت ہے اور آپ اسے نہیں جانتے، تو اس کا نہ جاننا آپ اور آپ کے دوست دونوں کے حق میں بہتر ہے۔

