Sadqa e Jaria Ki Aik Aur Surat
صدقۂ جاریہ کی ایک اور صورت
آج صبح مجھے دو نہایت عزیز دوستوں کی جانب سے تقریباً ایک ہی وقت میں دو مختلف پیغامات موصول ہوئے۔ ایک دوست نے پاکستان کے عظیم کرکٹ ہیرو وسیم اکرم کے بارے میں ایک پیغام بھیجا، جبکہ دوسرے دوست نے ہمدرد فاؤنڈیشن اور اس کے بانیوں، حکیم محمد سعید اور حکیم عبد الحمید، کی خدمات پر مبنی ایک مختصر ویڈیو یا "ریِل" شیئر کی۔
پہلا پیغام وسیم اکرم کے بارے میں تھا، جس میں بیان کیا گیا تھا کہ حج کی سعادت حاصل کرنے کے بعد انہوں نے کراچی میں ایک Five Star Hotel اعلی درجہ کے ہوٹل کے لیے مختص پانچ کنال زمین مسجد اور مدرسے کے لیے وقف کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس پیغام میں ان کی مذہبی وابستگی، ایثار اور اپنے والدین کے لیے صدقۂ جاریہ چھوڑنے کی خواہش کا ذکر تھا۔
دوسری جانب، ہمدرد فاؤنڈیشن کے بارے میں ویڈیو دیکھتے ہوئے میری نظر اُن عظیم کارناموں پر گئی جو حکیم محمد سعید اور حکیم عبد الحمید نے برصغیر کے دونوں جانب انجام دیے۔ یونیورسٹیاں، اسکول، لائبریریاں، تحقیقی مراکز، اسپتال، نرسنگ کالج اور بے شمار تعلیمی و فلاحی ادارے، یہ سب اُن لوگوں کی بصیرت، علم دوستی اور خدمتِ خلق کے جذبے کی زندہ یادگاریں ہیں۔
ان دونوں پیغامات نے میرے ذہن میں ایک سوال پیدا کیا اور میں خود سے یہ پوچھنے پر مجبور ہوں کہ زیادہ بلند، زیادہ دیرپا اور زیادہ مؤثر خدمت کون سی ہے؟ کیا ایک ایسے شہر میں، جہاں پہلے ہی ہزاروں مساجد موجود ہیں، ایک اور مسجد کی تعمیر زیادہ ضروری ہے؟ یا پھر ایک ایسا ادارہ قائم کرنا جو علم، تحقیق، جدید تعلیم اور انسانی ترقی کا ذریعہ بنے؟
خدا گواہ ہے کہ میرا مقصد ہرگز مسجد کی اہمیت کو کم کرنا نہیں۔ مسجد اسلامی معاشرے کا دل ہے اور عبادت، تربیت اور روحانی سکون کا مرکز ہے۔ اس کی تعمیر یقیناً ایک عظیم نیکی اور صدقۂ جاریہ ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر ایک معاشرے کو معیاری تعلیم، جدید علوم، تحقیق، ٹیکنالوجی، صحت اور پیشہ ورانہ تربیت کی شدید ضرورت ہو تو کیا ان شعبوں میں سرمایہ کاری زیادہ وسیع اور دیرپا فائدہ نہیں پہنچا سکتی؟
قرآنِ مجید علم کی عظمت کو یوں بیان کرتا ہے: "کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہو سکتے ہیں؟" (الزمر: 9)
اور ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے: "اللہ تم میں سے ایمان والوں اور اہلِ علم کے درجات بلند فرماتا ہے"۔ (المجادلہ: 11)
اگر کسی بستی میں مسجد نہ ہو تو مسجد کی تعمیر یقیناً اولین ضرورت ہوگی۔ لیکن اگر ایک شہر میں پہلے ہی ہزاروں مساجد موجود ہوں اور دوسری طرف لاکھوں بچے معیاری تعلیم، جدید علوم اور بہتر مواقع سے محروم ہوں، تو کیا ایک بہترین اسکول، ایک جدید آئی ٹی یونیورسٹی، ایک تحقیقی مرکز یا ایک اسپتال زیادہ مؤثر خدمت ثابت نہیں ہوسکتا؟
میں یہ تصور کرہا ہوں کہ پچیس یا پچاس برس بعد ایک نوجوان کسی عظیم درسگاہ کے دروازے پر نصب سنگِ مرمر کی ایک تختی پڑھ رہا ہو جس پر درج ہو: "وسیم اکرم انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی"۔
اور اس کے نیچے لکھا ہو: "یہ ادارہ جناب وسیم اکرم نے اپنے مرحوم والدین کی یاد اور ان کے ایصالِ ثواب کے لیے قوم کو بطور تحفہ وقف کیا"۔
اس درسگاہ سے فارغ ہونے والے ہزاروں انجینئر، سائنس دان، ڈاکٹر، اساتذہ، آئی ٹی ماہرین اور محققین دنیا بھر میں اپنے ملک کا نام روشن کر رہے ہوں۔ ان میں سے ہر کامیابی، ہر ایجاد، ہر علاج، ہر نئی تحقیق اور ہر نوجوان کی بدلی ہوئی زندگی اس شخص اور اس کے والدین کے لیے ایک مسلسل صدقۂ جاریہ بن رہی ہو۔
تب میرے ذہن میں یہ سوال بھی ابھرتا ہے کہ کیا ایسی میراث بھی اللہ تعالیٰ کے نزدیک کم اجر و ثواب رکھتی ہوگی؟
اسی تناظر میں جنوبی افریقہ کے عظیم رہنما نیلسن منڈیلا کا یہ قول بھی قابلِ غور ہے: "تعلیم وہ سب سے طاقتور ہتھیار ہے جس کے ذریعے دنیا کو بدلا جا سکتا ہے"۔
اسلامی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی عظمت صرف مساجد کی وجہ سے نہیں تھی، بلکہ علم، تحقیق اور تعلیم کی سرپرستی کی وجہ سے بھی تھی۔ ہمارے اسلاف نے عبادت گاہیں بھی تعمیر کیں اور ساتھ ہی ایسے ادارے بھی قائم کیے جنہوں نے علم، سائنس، طب، فلسفے اور تہذیبِ انسانی کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کیا۔
اسی لیے شاید اصل سوال "مسجد یا یونیورسٹی" کا نہیں، بلکہ سوال "معاشرے کی سب سے بڑی ضرورت کیا ہے؟" کا ہے۔ روح کی غذا بھی ضروری ہے اور ذہن کی تربیت بھی۔ ایک متوازن اور ترقی یافتہ معاشرہ وہی ہوتا ہے جو عبادت اور علم، دونوں کو یکساں اہمیت دے۔
وسیم اکرم کے بارے میں موصول ہونے والے پیغام اور ہمدرد فاؤنڈیشن کی خدمات پر مبنی ویڈیو نے مجھے اسی نکتے پر غور کرنے پر مجبور کیا۔ میں کسی کے اخلاص یا نیت پر سوال نہیں اٹھاتا، بلکہ صرف یہ سوچتا ہوں کہ اگر ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے کوئی یادگار چھوڑنا چاہیں تو کیا وہ ایک اور عمارت ہونی چاہیے، یا ایسا ادارہ جو ہزاروں بلکہ لاکھوں نوجوانوں کو علم، ہنر، روزگار اور بہتر مستقبل فراہم کرسکے؟
رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: "لوگوں میں سب سے بہتر وہ ہے جو لوگوں کو سب سے زیادہ نفع پہنچائے"۔
شاید اسی ایک معیار پر ہمیں اپنے تمام بڑے فیصلوں کو پرکھنا چاہیے۔
اگر ایک نئی مسجد لوگوں کو زیادہ نفع پہنچاتی ہے تو یقیناً اس کی تعمیر ایک عظیم خدمت ہے۔ لیکن اگر ایک یونیورسٹی، ایک تحقیقی مرکز، ایک اسپتال یا ایک جدید تعلیمی ادارہ لاکھوں انسانوں کی زندگیاں بدل سکتا ہے، جہالت کو علم میں، غربت کو خوش حالی میں اور محرومی کو مواقع میں تبدیل کر سکتا ہے، تو ہمیں اس پر بھی سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔
شاید آنے والی نسلیں اُن عمارتوں کو کم یاد رکھیں جو صرف اینٹ اور پتھر سے بنی تھیں، لیکن وہ اُن اداروں کو کبھی نہیں بھولتیں جو انسان بناتے ہیں، خوابوں کو حقیقت میں بدلتے ہیں اور قوموں کی تقدیر سنوارتے ہیں۔
میری نظر میں اصل سوال مسجد اور یونیورسٹی کے درمیان انتخاب کا نہیں، بلکہ انسان کی خدمت کے سب سے مؤثر راستے کی تلاش کا ہے۔ عبادت گاہیں نیک انسان پیدا کرتی ہیں، لیکن تعلیمی ادارے ان نیک انسانوں کو وہ علم اور ہنر بھی دیتے ہیں جس سے وہ دنیا کو بہتر بنا سکیں۔
یہ فیصلہ ہر صاحبِ استطاعت فرد کو اپنی بصیرت، اپنے ضمیر اور اپنے رب کے حضور جواب دہی کے احساس کے ساتھ کرنا ہے۔ البتہ تاریخ گواہی دیتی ہے کہ قوموں کی حقیقی عظمت صرف ان عمارتوں سے نہیں ناپی جاتی جو وہ تعمیر کرتی ہیں، بلکہ اُن انسانوں سے ناپی جاتی ہے جنہیں وہ تعمیر کرتی ہیں۔

