Tehzeeb Ka Tohfa
تہذیب کا تحفہ

کسی بھی ملک میں واپسی اس یقین کے ساتھ ہوتی ہے کہ وہ ملک وہیں تھا جہاں ہم چھوڑ کر گئے تھے۔ اس مرتبہ بھی یہاں واپسی کم و بیش ایک سال بعد ہوئی اور ہمیشہ کی طرح ایک ایسے بُک سٹور پر جانا ہوا جہاں کم و بیش سترہ سال سے جا رہا ہوں۔ نظر دوڑائی تو بہت سی زبانیں کتابوں کی صورت میں خوش آمدید کہتی دکھائی دیں۔ فصیح عربی سے شائستہ فرنچ اور نستعلیق زبان فرنگ سے شاید بہت سے مشرقی اور مغربی ملکوں کی زبانوں کی کتابیں حالت سکوت میں اپنی چوکھٹ پر مرحبا کہتی دکھائی دیں۔
سالوں پہلے اردو کی ایک نئی لکھی گئی بہت اہم موضوع پر کتاب کا پہلا حصہ خریدا اور دوسرا کبھی دیکھنے کو ہی نہیں ملا۔ اس مرتبہ دکان میں موجود صاحب سے اردو کی کتابوں کا پوچھا تو انہوں نے ایک انتہائی چھوٹے سے شیلف کی جانب اشارہ کیا۔ غالباََ بارہ پندرہ یا سولہ کتابیں ہوں گی اور اُن میں صرف دو تھیں جو میرے پاس نہیں تھیں۔ ایک خرید لی لیکن ایک تکلیف دہ اشتیاق یا کرب انگیز شرمندگی سے پُوچھا کہ اردو کی اور کتابیں کیوں نہیں ہیں۔ جواب نامکمل لیکن واضح تھا۔ "ہم اردو کی کتابیں نہیں رکھتے"۔ کچھ کہنے سننے کی کوشش کی لیکن کامیابی نہیں ہوئی بظاہر زبان حال سے وہ یہ کہہ رہے تھے جب بکتی ہی نہیں تو گھاٹے کا سودا کون کرے۔
جب پاپا مرحوم ریٹائر ہوئے اور ان کے ڈیپارٹمنٹ نے غالباََ ایک بیش قیمت گھڑی ریٹائرمنٹ پر تحفہ دینے کی کوشش کی۔ ان کی فرمائش چھ جلدوں میں ایک ایسی کتاب تھی جو شاید وہ ان حالات میں خرید نہ پاتے۔ آج بھی میری لائبریری میں وہ کتاب سجی ہوئی ہے اور گاہے گاہے کھول کر دیکھ لیتا ہوں۔
اوماہا نبراسکا میں 1990 کی دہائی میں ڈاکٹر گرائنر مجھے ریزیڈنسی کیلئے انٹرویو کر رہے تھے اور انٹرویو سمیٹنے سے پہلے اپنی نشست سے اٹھے ایک کتاب اٹھائی اور مجھے کچھ دیکھ کر بتانے لگے۔ کتابیں مغربی دنیا میں بہتوں کا اوڑھنا بچھونا ہیں اور ہزاروں کتابیں مارکیٹ میں آتی ہیں اور پڑھی جاتی ہیں۔
فیس بک اور مارک زکربرگ مجھے ایک ایسی دنیا میں واپس لے گئے جس کو میں جسمانی طور پر خیرباد کہہ چُکا تھا لیکن میں آپ کو ایک راز کی بات بتاؤں، گئے سالوں میں خواتین ڈائجسٹ، شعاع اور اردو ڈائجسٹ قسم کے جریدے ملک سے تعلق نہیں توڑنے دیتے تھے اور کم از کم یہ ضرور بتاتے تھے کہ ملک کس سمت کو جا رہا ہے البتہ فیس بُک نے جسمانی طور پر نہ سہی لیکن مجازی معنوں میں ملک میں لا کھڑا کیا۔
فیس بُک نے مجھے سمجھایا بتلایا کہ لہسن کے جوئے دل کی بیماری کا علاج ہیں، شادی سے پہلے "ہم ریلیشن شپ میں تھے" بہت اہم ہے۔ ڈپریشن کی اور بلڈ پریشر کی دوا کی عادت پڑ جاتی ہے۔ ڈاکٹر قصائی ہیں، زبان درازی صاف دل کی علامت ہے، ہم تو سب منہ پر کہے ڈالتے ہیں بالکل سگان بازاران کی طرح، شادی بیاہ کے معاملے پر طعنے اور جھگڑے ابھی بھی وہی ہیں۔ لیکن یہ سب اہم نہیں ہے کیونکہ یہ اخلاقی پاتال ہے بلکہ اہم یہ ہے کہ ملک اور قوم کس طرح اور کیوں کر بہتری کو جائیں گے؟
کیا آپ جانتے ہیں کہ بہتری کہاں آئی؟ سمجھدار نوجوان بچے اور بچیاں بد تہذیب لوگوں کے سامنے آن کھڑے ہوئے۔ نئی بات سمجھنے کی خواہش پیدا ہوئی۔ بہتوں میں دین اور اخلاقیات کو سمجھنے کی اور جاننے کی ضرورت پیدا ہوئی لیکن بحثیت بزرگ اور ایک کثیر المطالعہ انسان کے آج میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ پڑھے لکھے بغیر آپ کہاں جائیں گے؟
اگلے وقتوں میں کتابیں، رسالے، نکڑ کے بزرگ، والدین کی محفلیں، اردو اور انگریزی ادب حتی کے ایک حد تک ڈرامے اور فلمیں کہیں نہ کہیں کوئی کسر پوری کر دیتے تھے۔ چھوٹے بڑے کا لحاظ واضح تھا۔
آپ کا ہمسایہ ملک سینکڑوں میل آگے ہے۔ وہاں گفتگو ہے اور نستعلیق استاد ہیں۔ ہزاروں پی ایچ ڈی نکل رہے ہیں۔ معاشرتی برائیوں پر ٹیلی فلمیں اور دوسرے ذرائع سے کام ہو رہا ہے۔
ہمارے وقتوں میں انڈین سلور سکرین کی ایک مشہور اداکارہ سمیتا پاٹل نام کی تھیں۔ اُن کی بہن یہاں امریکہ میں ایک مشہور ڈاکٹر تھیں اور وہ فلاحی کاموں کیلئے واپس انڈیا لوٹ گئیں اور اب کامیاب ہیں اور ملک کو لوٹا رہی ہیں۔
ہمیں مت دیکھئیے کیونکہ ہم اور ہم سے پہلے کی نسلیں مکمل طور پر ناکام رہیں۔ ہمارے سے پہلے کے لوگ ایک ایسی زمین نہیں تیار کر سکے جہاں آنے والی نسل رُک جاتی۔ وہ اپنے بچوں کو بطور پنجاب اور سندہ کے داماد اور بلوچستان کی دھرتی کے سپوت کے طور پر تیار کرتے رہے اور ہم جان بچا کر بھاگ نکلے۔ وہ بھی ناکام رہے اور ہم بھی ناکام ہیں لیکن آپ نے کیا سوچا ہے؟
پچھلے تیس دنوں میں کتنی کتابیں پڑھیں اور کیا حاصل کیا؟
چلئیے آئیے ایک پروگرام بنائیں اور اگلے ایک ماہ میں ایک بڑی کتاب پڑھیں اور چار بار کی بد تہذیبی ملتوی کر دیتے ہیں۔ نوک زبان پر آنے والے چار جملوں کو روکتے ہیں اور سر نیچا کرکے اپنے معاشرے کو تھوڑی سی تہذیب کا تحفہ دیتے ہیں۔
میرے ہوٹل کے اس بیڈ پر اس وقت بھی تین کتابیں موجود ہیں۔
اسائنمنٹ نمبر ون!

