Saturday, 20 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Qamar Ahmad: Cricket Sahafat Ke Shehanshah

Qamar Ahmad: Cricket Sahafat Ke Shehanshah

قمر احمد: کرکٹ صحافت کا شہنشاہ

کرکٹ کی دنیا میں بعض لوگ صرف واقعات کے راوی نہیں ہوتے بلکہ خود تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ان کی زندگی محض ذاتی سفر نہیں رہتی بلکہ کھیل، معاشرے اور زمانے کی اجتماعی یادداشت بن جاتی ہے۔ پاکستان کی کرکٹ صحافت کے افق پر قمر احمد بھی ایسی ہی ایک درخشاں شخصیت تھے جن کے انتقال کے ساتھ ایک پورا عہد رخصت ہوگیا۔ اٹھاسی برس کی عمر میں کراچی میں ان کا انتقال صرف ایک فرد کی وفات نہیں بلکہ کرکٹ صحافت کی اس نسل کے خاتمے کی علامت ہے جس نے کھیل کو صرف رپورٹ نہیں کیا بلکہ اسے جیا، محسوس کیا اور آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کیا۔ صحافتی دنیا میں وہ محبت سے صرف "کیو" کہلاتے تھے۔ یہ ایک حرف نہیں بلکہ ایک شناخت تھی، ایک ایسا حوالہ جسے دنیا بھر کے پریس بکسوں، میدانوں اور نشریاتی اداروں میں احترام کے ساتھ لیا جاتا تھا۔ پاکستان میں فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے کے بعد جب انہوں نے صحافت کا راستہ اختیار کیا تو شاید خود انہیں بھی اندازہ نہ تھا کہ وہ آنے والی کئی دہائیوں تک کرکٹ کی تاریخ کے سب سے معتبر گواہوں میں شمار ہوں گے۔

قمر احمد نے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز لندن میں کیا اور پھر یہ سفر دنیا کے تقریباً ہر بڑے کرکٹ میدان تک جا پہنچا۔ انہوں نے متعدد اخبارات، رسائل اور عالمی خبر رساں اداروں کے لیے کام کیا۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے وابستگی نے ان کی شناخت کو مزید وسعت دی۔ ریڈیو ہو یا ٹیلی وژن، تحریر ہو یا تبصرہ، انہوں نے ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا میں ہونے والے 1992ء کے عالمی کپ میں انہوں نے نیوزی لینڈ کے نشریاتی ادارے کے لیے خدمات انجام دیں اور پاکستان کی تاریخی فتح کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ انہوں نے 2007ء کے عالمی کپ تک ہر عالمی کپ کور کیا، لیکن بعد ازاں محدود اووروں کی کرکٹ سے کنارہ کش ہو گئے۔ ایک روز انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اب "پاجامہ کرکٹ" نہیں دیکھتے۔ ان کی محبت ہمیشہ ٹیسٹ کرکٹ کے ساتھ رہی، وہ کرکٹ جو صبر، حکمت اور کردار کی آزمائش کا نام ہے۔ جنوری 2014ء میں شارجہ میں پاکستان اور سری لنکا کے درمیان کھیلے جانے والے تیسرے ٹیسٹ میچ نے ان کی صحافتی زندگی کا ایک منفرد سنگ میل مکمل کیا۔ یہ ان کا بطور صحافی چار سو واں ٹیسٹ میچ تھا، ایک ایسا اعزاز جو دنیا کے چند ہی صحافیوں کو حاصل ہو سکا ہے۔

ان کی طویل اور غیر معمولی صحافتی زندگی نے انہیں کرکٹ کی بے شمار تاریخی گھڑیوں کا عینی شاہد بنا دیا۔ انہوں نے پاکستان کے 1992ء کے عالمی کپ کی فتح دیکھی، 1976ء اور 1977ء کے کھلاڑیوں کے معاوضوں کے تنازعے کے دوران قومی کرکٹرز کے کمروں میں موجود رہے، وہ تنازعہ جس نے بعد میں پاکستانی کرکٹرز کی پیشہ ورانہ حیثیت کو نئی بنیادیں فراہم کیں۔ 1992ء اور 1993ء میں ویسٹ انڈیز کے دورے کے دوران جب وسیم اکرم، وقار یونس، مشتاق احمد اور عاقب جاوید مختصر وقت کے لیے زیرِ حراست آئے تو قمر احمد اس واقعے کے بھی چشم دید گواہ تھے۔ بعد ازاں انہوں نے اپنی کتاب "آزمائش کے دن" میں اس واقعے کو قلم بند کیا۔

مارچ 2009ء میں لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر ہونے والے دہشت گرد حملے کے دوران بھی وہ موقع پر موجود تھے۔ صرف پاکستان ہی نہیں، عالمی کرکٹ کے کئی تاریخی لمحات بھی ان کی آنکھوں کے سامنے رقم ہوئے۔ انہوں نے سنیل گواسکر کو ٹیسٹ کرکٹ میں دس ہزار رنز مکمل کرتے دیکھا، رچرڈ ہیڈلی کی چار سو وکٹوں کا تاریخی لمحہ دیکھا، انیل کمبلے کی ایک اننگز میں دس وکٹوں کی ناقابلِ فراموش کارکردگی دیکھی، کرکٹ کا ایک ہزارواں ٹیسٹ دیکھا اور پھر 2011ء میں دو ہزارواں ٹیسٹ بھی اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ شاید ہی دنیا میں کوئی اور صحافی ہو جس نے کرکٹ کی اتنی تاریخ کو اتنی قریب سے دیکھا ہو۔

قمر احمد صرف رپورٹر یا مبصر نہیں تھے بلکہ ایک صاحبِ قلم مصنف بھی تھے۔ پاکستان کے عظیم بلے باز حنیف محمد اور وقار حسن کی خود نوشت سوانح عمریاں انہی کے قلم کی مرہونِ منت ہیں۔ ان کی آخری کتاب "صرف ایک کھیل سے کہیں بڑھ کر" 2020ء میں شائع ہوئی جو دراصل کرکٹ کے ساتھ ان کی پوری زندگی کا احوال تھی۔ ان کی محفلیں ہمیشہ آباد رہتی تھیں۔ پریس بکسوں میں ان کی موجودگی گویا داستانوں کے ایک خزانے کی موجودگی ہوتی تھی۔ ان کے بیشتر قصے پاکستان کے بڑے ستاروں، خصوصاً عمران خان اور جاوید میانداد کے گرد گھومتے تھے جو ان کے لندن والے گھر کے مستقل مہمانوں میں شمار ہوتے تھے۔ ان کی مہمان نوازی صحافتی دنیا میں ایک مثال تھی۔ اس دور میں صحافی اور کھلاڑی ایک دوسرے سے فاصلہ رکھ کر نہیں بلکہ اعتماد اور احترام کے رشتے میں بندھے ہوتے تھے۔ مشتاق محمد اور ظہیر عباس جیسے عظیم کھلاڑی ان کے قریبی دوستوں میں شامل تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ ستر اور اسی کی دہائی کے پاکستانی کرکٹرز میں شاید ہی کوئی ایسا ہو جو قمر احمد سے واقف نہ ہو۔ کرکٹ کے باہر بھی ان کی زندگی رنگا رنگ تھی۔ پاکستانی فلمی دنیا کے عظیم اداکار محمد علی ان کے قریبی دوستوں میں شامل تھے اور ان سے متعلق ان کے دلچسپ واقعات دوستوں کی محفلوں کا لازمی حصہ ہوتے تھے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ صحافت میں آنے سے پہلے قمر احمد خود بھی ایک اچھے کرکٹر تھے۔ بائیں ہاتھ کے اسپنر کی حیثیت سے انہوں نے پاکستان کے ابتدائی فرسٹ کلاس ڈھانچے میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا۔ صرف سترہ فرسٹ کلاس میچ کھیلنے کے باوجود وہ قومی ٹیم کے انتخاب کے قریب پہنچ گئے تھے، خصوصاً 1957ء اور 1958ء میں ویسٹ انڈیز کے دورے کے امکانات کے دوران۔ مگر حیدرآباد میں رہائش ان کے لیے رکاوٹ بن گئی کیونکہ اس زمانے میں قومی سلیکٹرز کی توجہ زیادہ تر لاہور اور کراچی کے کھلاڑیوں پر مرکوز رہتی تھی۔ اس کے باوجود ان کے نام ایک منفرد اعزاز موجود ہے۔ انہوں نے محمد برادران میں سے ہر ایک کو، جن میں حنیف محمد، صادق محمد اور مشتاق محمد شامل ہیں، اپنے اپنے ابتدائی فرسٹ کلاس میچوں میں آؤٹ کیا تھا۔ وہ اکثر فخر سے ایک واقعہ سنایا کرتے تھے کہ انہوں نے حنیف محمد کو اس میچ میں آؤٹ کیا تھا جو حنیف کے عالمی ریکارڈ چار سو ننانوے رنز بنانے والے میچ سے فوراً پہلے کھیلا گیا تھا۔ پھر مسکرا کر کہتے تھے کہ جب میں نے حنیف کو آؤٹ کیا تو وہ ایک سو انتیس رنز بنا چکے تھے۔ قمر احمد نے دو ہزار کی دہائی کے وسط تک صحافیوں کے نمائشی میچوں میں گیند بازی جاری رکھی اور بعد میں امپائرنگ بھی کرتے رہے۔ کھیل سے ان کی محبت آخری سانس تک قائم رہی۔

قمر احمد کے انتقال کے ساتھ پاکستانی کرکٹ صحافت کا ایک سنہری باب بند ہوگیا ہے۔ آج کے دور میں جب صحافت تیزی، سنسنی اور لمحاتی شہرت کے حصار میں گھری ہوئی ہے، قمر احمد اس نسل کی یاد دلاتے ہیں جس کے نزدیک صحافت ایک امانت تھی، تحقیق ایک ذمہ داری تھی اور مشاہدہ ایک فن تھا۔ انہوں نے صرف میچ نہیں دیکھے، زمانے دیکھے، صرف اسکور نہیں لکھے، تاریخ محفوظ کی، صرف کرکٹ نہیں جانی، انسانوں کو بھی سمجھا۔ ان کے جانے سے ایک ایسی آواز خاموش ہوئی ہے جس نے نصف صدی سے زیادہ عرصہ تک کرکٹ کی کہانی دنیا کو سنائی۔ لیکن بعض لوگ مر کر بھی نہیں مرتے۔ وہ اپنی تحریروں، یادوں، قصوں اور روایتوں میں زندہ رہتے ہیں۔ قمر احمد بھی انہی لوگوں میں سے ایک ہیں۔ کرکٹ کے میدانوں میں ان کے قدموں کی چاپ اب سنائی نہیں دے گی، پریس بکسوں میں ان کی خوش مزاج گفتگو اب گونجے گی نہیں، مگر جب بھی پاکستانی کرکٹ کی تاریخ لکھی جائے گی، اس تاریخ کے صفحات کے درمیان ایک نام ہمیشہ زندہ رہے گا: قمر احمد، صحافت کا وہ مسافر جس نے کھیل کو صرف دیکھا نہیں، اسے تاریخ بنا دیا۔ اللہ ان کی مرقد کو نُور سے بھر دے۔

Check Also

Tarz e Hukumrani Aaj Bhi Sawalia Nishan Hai?

By Rao Manzar Hayat