Saturday, 20 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Umar Shahzad
  4. Zameer Ka Bojh

Zameer Ka Bojh

ضمیر کا بوجھ

فرض کریں ایک شخص برسوں تک کسی عمل کا حصہ رہے، اس سے فائدہ بھی اٹھائے، اس کے ساتھ چلتا بھی رہے اور پھر ایک دن اچانک کھڑا ہو کر اعتراف کرے کہ یہ سب غلط تھا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ سب غلط تھا تو آپ اس وقت خاموش کیوں رہے؟ آپ نے مخالفت کیوں نہ کی؟ آپ نے مزاحمت کیوں نہ کی؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ نے اس غلطی کا حصہ بننے سے انکار کیوں نہ کیا؟

قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک ایسی بات کہہ دی جس نے پاکستانی سیاست، جمہوریت اور سیاسی قیادت کے بارے میں کئی سوالات دوبارہ زندہ کر دیے۔ خواجہ آصف نے ایوان میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں جب اسد قیصر قومی اسمبلی کے اسپیکر تھے تو انہیں اسد قیصر کے گھر بلایا جاتا تھا، وہاں آئی ایس آئی کے لوگ موجود ہوتے تھے، وہ جنرل فیض حمید کے لوگ ہوتے تھے، وہ قانون سازی کے بارے میں گفتگو کرتے تھے، قوانین میں تبدیلیوں کی باریکیاں بتاتے تھے اور مختلف معاملات پر مشاورت ہوتی تھی۔ ہم نے ان کے ساتھ مل کر کئی قوانین پر کام کیا۔ خواجہ آصف نے مزید کہا کہ یہ بات ان کے ضمیر پر بوجھ تھی اور وہ آج یہ بوجھ ہلکا کرنا چاہتے ہیں۔

یہ بیان اپنی نوعیت کا غیر معمولی بیان تھا کیونکہ یہ صرف ایک سیاسی الزام نہیں تھا بلکہ ایک اعتراف تھا۔ جواب میں اسد قیصر نے کہا کہ وہ ان کا ذاتی گھر نہیں تھا بلکہ اسپیکر قومی اسمبلی کی سرکاری رہائش گاہ تھی جو انہیں بطور اسپیکر ملی ہوئی تھی۔

لیکن اصل سوال اسد قیصر کے گھر یا اسپیکر ہاؤس کا نہیں۔ اصل سوال خواجہ آصف کے اپنے الفاظ ہیں۔ اگر واقعی ایسا ہوتا رہا، اگر واقعی منتخب نمائندے غیر منتخب افراد کی موجودگی میں قانون سازی پر مشاورت کرتے رہے، اگر واقعی سیاسی جماعتیں ان ہدایات کی روشنی میں فیصلے کرتی رہیں تو پھر سوال صرف تحریک انصاف سے نہیں بنتا، سوال مسلم لیگ (ن) سے بھی بنتا ہے۔

خواجہ آصف صاحب! آپ کی جماعت گزشتہ آٹھ نو سال سے مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ میاں نواز شریف کی حکومت ختم کی گئی، انتخابات میں مداخلت ہوئی، عمران خان کو اقتدار میں لایا گیا، مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو جیلوں میں ڈالا گیا، سیاسی انجینئرنگ کی گئی، ووٹ کو عزت دو کے نعرے کو دبایا گیا۔ اگر یہ سب درست ہے تو پھر آپ انہی لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر قانون سازی کیوں کرتے رہے؟

اگر حالات اتنے ہی غیر جمہوری تھے تو آپ نے اس وقت مزاحمت کیوں نہ کی؟ اگر آپ کو معلوم تھا کہ فیصلے کہیں اور ہو رہے ہیں تو آپ نے اس وقت ایوان سے واک آؤٹ کیوں نہ کیا؟ اگر آپ کے ضمیر پر آج بوجھ ہے تو اس وقت آپ کے ضمیر کی آواز کہاں تھی؟

سیاسی تاریخ میں سب سے مشکل کام اصولوں پر قائم رہنا ہوتا ہے۔ اصولوں کی بات اپوزیشن میں بیٹھ کر کرنا آسان ہوتی ہے لیکن اصل امتحان اس وقت آتا ہے جب طاقت سامنے کھڑی ہو اور آپ کو فیصلہ کرنا ہو کہ جھکنا ہے یا ڈٹ جانا ہے۔

پاکستان کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جہاں سیاست دانوں نے بعد میں آ کر کتابیں لکھیں، انٹرویو دیے، اعترافات کیے اور بتایا کہ اصل فیصلے کہاں ہوتے تھے۔ لیکن قوم کا سوال ہمیشہ ایک ہی رہا: آپ نے اس وقت مخالفت کیوں نہیں کی؟

ہمیں 2008ء کے بعد کے وہ دن یاد ہیں جب ججوں کی بحالی کی تحریک چل رہی تھی۔ اس وقت بھی سیاسی قیادت پر شدید دباؤ تھا لیکن بعض سیاسی رہنما اپنی پوزیشن پر قائم رہے۔ اختلافات اپنی جگہ مگر تاریخ میں وہ لوگ یاد رکھے جاتے ہیں جو دباؤ کے باوجود اپنا مؤقف نہیں چھوڑتے۔

دنیا کی تاریخ میں اس کی ایک بڑی مثال ترکی کی ہے۔ 1997ء میں ترکی کی فوج نے منتخب وزیر اعظم نجم الدین اربکان کی حکومت پر شدید دباؤ ڈالا۔ حکومت ختم ہوگئی لیکن بعد میں ترکی کی سیاسی قیادت نے ایک طویل جدوجہد کی۔ رجب طیب اردوان اور ان کے ساتھیوں نے برسوں سیاسی قیمت ادا کی، جیلیں دیکھیں، پابندیاں برداشت کیں لیکن رفتہ رفتہ سیاسی بالادستی قائم کی۔ اس عمل سے اتفاق یا اختلاف اپنی جگہ لیکن انہوں نے بعد میں یہ نہیں کہا کہ ہم سب کچھ جانتے تھے مگر خاموش رہے تھے۔

اسی طرح اسپین میں جنرل فرانکو کی آمریت کے خاتمے کے بعد جمہوریت کی بحالی کا دور آیا۔ 1981ء میں ایک فوجی بغاوت کی کوشش ہوئی۔ اس وقت سیاسی قیادت اور ریاستی اداروں نے مل کر جمہوری نظام کا دفاع کیا۔ اگر اس وقت سیاست دان صرف سمجھوتوں کا راستہ اختیار کرتے تو شاید اسپین آج مضبوط جمہوریت نہ ہوتا۔

پاکستان کا مسئلہ یہ نہیں کہ یہاں صرف طاقتور ادارے موجود ہیں۔ دنیا کے تقریباً ہر ملک میں طاقتور ادارے ہوتے ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہماری سیاسی قیادت اکثر اصولوں کی بات بھی کرتی ہے اور سمجھوتے بھی کرتی ہے۔ اپوزیشن میں ہو تو جمہوریت یاد آتی ہے، حکومت میں ہو تو اختیارات یاد آ جاتے ہیں۔ اقتدار سے باہر ہو تو آئین مقدس بن جاتا ہے اور اقتدار میں آ کر وہی آئین سیاسی ضرورت کے مطابق تشریح طلب ہو جاتا ہے۔

خواجہ آصف کے بیان نے دراصل ایک تلخ حقیقت بے نقاب کی ہے۔ یہ حقیقت یہ نہیں کہ کسی دور میں کون طاقتور تھا۔ یہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے سیاست دان اکثر طاقت کے سامنے مزاحمت کے بجائے مفاہمت کا راستہ اختیار کرتے ہیں اور پھر برسوں بعد قوم کو بتاتے ہیں کہ اصل کہانی کیا تھی۔

قوم پوچھتی ہے کہ اگر آپ کو سب معلوم تھا تو آپ نے اس وقت آواز کیوں نہیں اٹھائی؟ اگر قانون سازی پر اثرانداز ہونے کی کوشش ہو رہی تھی تو آپ نے اس وقت پریس کانفرنس کیوں نہیں کی؟ آپ اس وقت اصولوں پر کیوں نہیں ڈٹے؟ اگر جمہوریت خطرے میں تھی تو آپ نے اس وقت استعفیٰ کیوں نہیں دیا؟ اگر ووٹ کو عزت دینا اتنا ہی اہم تھا تو آپ نے اس وقت ووٹ کی بے عزتی کے خلاف کھڑے ہونے کی قیمت کیوں نہ ادا کی؟ ووٹ کو آپ نے خود عزت کیوں نہیں دی؟

یہ سوال صرف خواجہ آصف سے نہیں، یہ سوال پاکستان کی تقریباً تمام بڑی سیاسی جماعتوں سے ہے۔ کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ اقتدار میں آنے کے بعد اکثر جماعتیں وہی کام کرتی ہیں جن پر وہ اپوزیشن میں تنقید کرتی رہی ہوتی ہیں۔

افسوس یہ ہے کہ ہمارے ہاں ضمیر اکثر ریٹائرمنٹ کے بعد جاگتا ہے، کتاب لکھتے وقت جاگتا ہے، اقتدار ختم ہونے کے بعد جاگتا ہے یا پھر اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے جاگتا ہے۔ جب فیصلے ہو رہے ہوتے ہیں، جب دستخط کیے جا رہے ہوتے ہیں، جب قانون بن رہے ہوتے ہیں، جب توسیعیں دی جا رہی ہوتی ہیں، جب سمجھوتے طے پا رہے ہوتے ہیں، اس وقت ضمیر خاموش رہتا ہے۔

خواجہ آصف صاحب کے اعتراف نے ایک بار پھر ہمیں آئینہ دکھا دیا ہے۔ یہ آئینہ صرف ایک جماعت یا ایک شخصیت کا نہیں بلکہ پورے سیاسی نظام کا ہے۔ اس آئینے میں ہمیں ایسی سیاسی قیادت نظر آتی ہے جو اصولوں کی بات تو بہت کرتی ہے لیکن اصولوں کی قیمت ادا کرنے کے لیے کم ہی تیار ہوتی ہے۔

جمہوریت صرف تقریروں سے مضبوط نہیں ہوتی، جمہوریت اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب سیاست دان طاقتور کے سامنے بھی وہی بات کریں جو کمزور کے سامنے کرتے ہیں۔ جمہوریت اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب اصول اقتدار سے بڑے ہو جائیں۔ جمہوریت اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب ضمیر بوجھ جمع نہ کرے بلکہ بروقت آواز بلند کرے۔

ورنہ پھر ہر چند سال بعد کوئی نہ کوئی سیاست دان کھڑا ہو کر یہی کہے گا کہ "میرے ضمیر پر بوجھ تھا، میں آج وہ بوجھ ہلکا کرنا چاہتا ہوں"۔

اور قوم پھر وہی سوال پوچھے گی: "جناب! جب بوجھ اٹھایا جا رہا تھا تو آپ خاموش کیوں تھے؟"

Check Also

Tarz e Hukumrani Aaj Bhi Sawalia Nishan Hai?

By Rao Manzar Hayat