Saturday, 14 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Aamir Hussaini
  4. Chor Ke Puttar Danishwar

Chor Ke Puttar Danishwar

چور کے پتر دانشور

امریکہ اور یورپی ممالک میں آج تو صہینویت کو للکارنا، اسرائیل کی مخالفت کرنا کافی حد تک آسان ہوگیا ہے۔ اس کے خلاف نظریاتی اور فکری سطح پر لڑنا اتنا مشکل نظر نہیں آتا جتنا مشکل یہ بیسویں صدی کے اندر نظر آتا تھا۔ پچاس سے نوے تک کی دہائی میں یورپی ممالک اور امریکہ کے قلب میں بیٹھ کر دانشور حلقوں میں، جامعات کے اندر، پریس میں اس بارے میں لکھنا مشکلات کو دعوت دینے کے مترادف تھا اور ایک ایسے شخص کے لیے جو عرب یا خود فلسطین سے مہاجر ہو کر امریکی سماج میں آیا ہوتا اس کے لیے تو یہ اور بہت مشکل کام تھا۔

اس دشوار اور مصائب سے بھرے ماحول میں ایڈورڈ سعید نے فلسطینی نژاد مہاجر امریکی اور اقبال احمد نے پاکستانی نژاد مہاجر امریکی ہوکر مغرب کی صہیونیت پرستانہ غالب ڈسکورس کو چیلنج کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ ایڈورڈ سعید نے تو یہ کام کہیں بڑے پیمانے پر سرانجام دیا۔ انھوں نے عالمی سرمایہ دارانہ سامراجیت کے مشرقی اقوام بشمول عرب کے بارے میں بنائے گئے ڈسکورس، نظام دانش کو علمی و فکری بنیادوں پر چیلنج کیا۔ ان کی کتابیں "اورئنٹل ازم" اور "کلچر و امپریلزم" مغربی نظام دانش، اس کی پوری علمیات کے ڈھانچے کو زبردست چیلنج سے دوچار کر گئیں۔ انھوں نے مغربی میڈیا کے پورے ڈسکورس کو ننگا کرکے رکھ دیا اور اس مرعوبیت کا خاتمہ کیا جس کے شکار خود نوآبادیاتی اقوام کی غالب دانش نظر آتی تھی۔

ایڈورڈ سعید کا صرف یہ کارنامہ نہیں تھا کہ انھوں نے نوآبادیاتی دور میں مغرب کی نام نہاد روشن خیالی، عقلیت پسندی، مہذب اور ترقی کے سامراجی، نوآبادیاتی علمی ڈسکورس کو بے نقاب کیا بلکہ سوویت یونین کے انہدام کے بعد مغرب کی جانب سے جو تہذیبوں کے تصادم، دہشت گردی مخالفت کے نام پر جو اسلامو فوبیا ڈاکٹرائن متعارف کرائی گئی انھوں نے اس کا پردہ بھی فاش کیا۔ انھوں نے عرب اور ایشیائی ممالک میں نیولبرل ازم کے حامیوں کی استعمار سے تعاون اور استعمار سے امن کی لگائی جانے والی جو امید تھی اس کے کھوکھلے پن کو اچھے سے بے نقاب کیا۔

نائن الیون سے پہلے اور نائن الیون کے بعد عرب اور جنوبی ایشیا میں سابق کمیونسٹوں، سابق قوم پرستوں، سابق پاپولسٹ سیاسی جماعتوں کی قیادت اور ان سے جڑے دانشوروں کی اس خوش فہمی کو دور کرنے کی کوشش کی کہ وہ مغربی اور امریکی حکومتوں کے تعاون اور مدد سے مڈل ایسٹ اور جنوبی ایشیا میں امن قائم کر سکتے ہیں۔ وہ سب سے پہلے شخص تھے جنھوں نے اوسلو امن معاہدے کو ایک عظیم فریب اور بہت بڑا دھوکہ قرار دیا تھا۔ انہوں نے صاف اور دو ٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ امریکی سامراجیت اور اسرائیل میں صہونیت کے ہوتے ہوئے نہ تو دو ریاستی حل نکلے گا، نہ ہی فلسطین کو آزادی اور خودمختاری میسر آئے گی۔ یہ ایڈورڈ سعید تھے جنھوں نے برملا کہا تھا کہ ایک دن آئے گا جب یاسر عرفات اور ان کی تنظیم پی ایل او کے لیے اوسلو معاہدہ امن ڈروانے خوب میں بدل جائے گا اور انھیں پچھتانے کا موقعہ بھی نہیں ملے گا۔ وقت اور تاریخ نے ان کے کہے کو سچ ثابت کر دکھایا۔

ایڈورڈ سعید نے امریکہ کے "برائی کے محور" کی ڈاکٹرائن کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا تھا۔ انھوں نے صاف لکھا تھا کہ مڈل ایسٹ کے لیے خطرہ ایران نہیں ہے بلکہ اس خطے کے لیے خطرہ امریکی سامراج اور اسرائیلی صہیونی حکمران طبقہ ہے۔ آج گلف ریاستوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے کہ انھیں امریکی اڈے اور امریکہ کی غلامی، ابراہیم اکارڈ پر دستخط کرکے اسرائیل سے تعلقات میں بہتری بھی جنگ کی آگ میں جلنے سے بچا نہیں سکی ہے۔ امریکی سامراج اور اسرائیل کے حالیہ ایران پر حملے نے انھیں ایک ایسی جنگ میں دھکیل دیا ہے جس سے وہ بچنے کے لیے امریکی کیمپ میں گئے تھے اور اسرائیل سے تعلقات میں مرے جا رہے تھے۔ آج وہ اپنے بچاو کے لیے پاکستان، چین اور روس کی طرف دیکھنے پر مجبور ہیں۔ ان ممالک کی عوام انھیں نفرت، غصے اور حقارت سے دیکھ رہی ہے۔

میں جب ایڈورڈ سعید، اقبال احمد جیسے دانشوروں کے مقابلے میں ہمارے چند ایک لبرل بونے دانشوروں کو دیکھتا ہوں جو امریکہ اور یورپ کے ملکوں میں اسائلم لیکر بیٹھے ہوئے ہیں اور پاکستانی عوام کو امریکی اور اسرائیل کی طاقت سے مرعوب کرنے میں لگے ہوئے ہیں تو ان کے بانجھ پن اور موقعہ پرستی پر افسوس کرنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتا۔ یہ امریکی اور اسرائیلی حکومتوں کو خوش کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور مغرب کے اورئنٹلسٹ ڈسکورس، دہشت گردی کی ڈاکٹرائن کی جگالی کرنے میں مصروف ہیں۔ یہ پاکستان میں اپنی نظریاتی اور فکری قبر کھود چکے ہیں۔ یہ ایرانی رجیم کو بہانہ بناکر امریکی استعمار اور اسرائیلی صہونیت کا چورن بیچنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس کے لیے انھوں نے روشن خیال، عقلیت پسند ہونے کا سوانگ بھر رکھا ہے۔ یہ اپنی اوچھی حرکتوں اور چرب زبانی سے چند ٹکے اور مراعات تو لے سکتے ہیں لیکن یہ پاکستانی سماج کے لیے "خرد افروزی" کی علامت اور استعارے نہیں بن سکتے۔

ایک دانشور اپنی فیس بک وال پر حالیہ جاری جنگ میں اسرائیل میں سب کچھ معمول پر ہونے کی خبریں لکھتے ہوئے پائے گئے۔ یہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی صدر بینجمن نیتن یاہو کو عظیم سٹیٹس مین بناکر پیش کر رہے ہیں۔ انھیں امن قائم کرنے والی واحد شخصیات بنا کر دکھا رہے ہیں۔ یہ پاکستان کے عوام سے چاہتے ہیں کہ وہ امریکی سامراج اور اسرائیلی صہونیت کے سامنے سجدہ ریز ہو جائیں۔ ان کا فلیش فکشن، ان کی سو لفظوں کی کہانی، ان کا قلم اور ضمیر سب کا سب سامراجیوں اور صہیونیوں کے پاس گروی رکھا ہوا ہے۔ یہ خود ضمیر کی جس موت کا شکار ہوئے ہیں اسی کا شکار پاکستان کے عوام کے ضمیر کو بنانا چاہتے ہیں۔ انھیں لگتا ہے کہ مڈل ایسٹ میں جو آگ لگی ہے وہ سامراجیوں نے نہیں بلکہ اس خطے کے عوام نے خود اپنے آپ پر مسلط کی ہے۔

پاکستان میں درمیانے طبقے کے ایسے لوگ موجود ہیں جو ان بے ضمیروں کو دانشور سمجھتے ہیں۔ انھیں علم و دانائی کا مرقع مانتے ہیں۔ ان کے لفظوں کو حکمت کے موتی سمجھ کر آگے منتقل کرتے ہیں۔ یہ عصر حاضر کے میر جعفر و میر صادق ہیں اور کذاب اکبر ہیں جن کے منہ میں بواسیر ہے جو رستی رہتی ہے اور ان کی مردہ فکر سے جو تعفن اٹھ رہا ہے پاکستان میں ان کے پیروکار اسے مشک و عنبر کی مہک بناکر پیش کرتے ہیں۔ یہ دانش و فکرکے نام پر کلنک کا ٹیکہ ہیں۔ انھیں اس بات پر غصہ آتا ہے کہ پاکستان کی عوامی دانش چور، راہزن، قبضہ گیر، اٹھائی گیر، حملہ آوروں کی مذمت کیوں کر رہے ہیں وہ ان سامراجیوں اور صہیونی درندوں کی بربریت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے والوں میں کیڑے کیوں نہیں نکال رہے۔

کہتے ہیں کہ ایک آدمی کے گھر چوری ہوگئی۔ چور گھر میں گھس کر اس کا ٹی وی لے اڑے جو اس نے باہر کھلنے والی کھڑکی کے پاس رکھا ہوا تھا۔ وہ آدمی جس محلے میں رہتا تھا اس محلے کے کچھ جعلی پنچائتی جو چوروں سے ملے ہوئے تھے اس آدمی کے ہمدرد بن کر آئے۔ چوری کے واقعے کی تفصیل سننے کے بعد الٹا اس آدمی کو قصوروار ٹھہرانے لگے کہ اس نے ٹی وی باہر کھلنے والی کھڑکی کے پاس کیوں رکھا تھا، وہ آدمی تنگ پڑ گیا۔ اس نے کہا۔۔ تم لوگ میرے ایل کے پنچائتی ہو جو چور میرا ٹی وی لے گئے، میرے گھر کا صفایا کرگئے انھیں تو تم کچھ نہیں کہتے اور میرا جو نقصان ہوا ہے اس پہ تم مجھے ہی ملامت کرتے ہو جاو دفع ہوجاو، مجھے تمہاری کوئی ضرورت نہیں ہے۔

یہ دانشور بھی حملہ آور کے وکیل صفائی ہیں۔ انھیں بھی وہی کہنے کی ضرورت ہے جو چوری کا شکار ہونے والے آدمی نے چوروں سے ملے پنچائیتوں کو کہا تھا۔

یہ یزید کے ان طرف داروں کے جیسے ہیں جنھوں نے یزید کی مذمت کرنے کی بجائے یہ کہا تھا کہ نہ حسین کربلا جاتے نہ وہ قتل ہوتے گویا حسین ابن علی اپنے قتل کے خود ذمہ دار تھے۔ قاتل ان کے قتل سے بری تھے۔

کہتے ہیں کہ ایک شخص کا باپ چور تھا۔ وہ مرا تو اس کے بیٹے نے اس کی موت کے بعد نیاز کا اہتمام کیا اور جب لوگ وہاں اکٹھا ہوئے تو یہ کھڑا ہوا اور لگا اپنے چور باپ کی عظمت کے قصیدے گانے۔ کہنے لگا میرے والد کو اللہ بسم اللہ کا ثواب پہنچے وہ اتنا بہادر تھا کہ ایک رات اکیلا ہی چوری کرنے جا نکلا۔ ایک گھر میں گھسا تو گھر کا مالک اتنا کرماں۔۔ برے بخت والا کہ نفل ہی نہ چھوڑے۔۔ یعنی اس نے تہجد کی نماز نہیں توڑی۔۔

یہ سن کر لوگوں کو غصہ آیا وہ کہنے لگے جو تیرا باپ چور تھا اسے تو اللہ بسم اللہ کا ثواب پہنچاتا ہے اور جو نیک آدمی اللہ کی عبادت میں غرق تھا اسے تو برا بخت والا کہتا۔۔ چور کے پتر۔۔ تو اور تیرا باپ ہی بدبخت ہیں وہ نہیں جو تہجد کی نماز میں کھڑا تھا۔۔ یہ دانش ور بھی چور کے پتر اور اپنے باپ امریکہ اور اسرائیل کے ظلم کی تعریف کرتے ہیں اور جو ظلم کے خلاف لڑ رہے ہیں انھیں یہ بدبخت کہتے ہیں یہ دانش ور نہیں چور کے پتر ہیں ہیں اور ان سے وہی سلوک ہونا چاہیئے جو چور باپ کے حامی چور پتروں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔

اب میں اس سے زیادہ کیا کہوں۔۔ انھیں وہ شخص رجعت پرست لگتا ہے جو کہتا ہے کہ ذلت کی زندگی سے بہادری کی موت اچھی ہے۔ جو مظلومیت کی حالت میں شہید ہونے کو کامیابی سمجھتا ہے۔ جو اپنے ضمیر کی موت پر جسمانی موت کو گلے لگاتا ہے۔ انھیں سولی پر چڑھ جانے والا منصور حلاج پاگل لگتا ہے۔ انھیں حجاج بن یوسف کامیاب لگتا ہے اور میثم تمار ناکام لگتا ہے۔ انھیں عبید اللہ ابن زیادہ سرفراز لگتا ہے اور ام ہانی ناکام دکھائی دیتا ہے۔ انھیں لگتا ہے کہ بھگت سنگھ، حسن ناصر، نذیر عباسی کی جسمانی موت ان کے نظریے کی موت تھی اور انھیں امریکی دہلیز پر سجدہ ریز آمر، فوجی ڈکٹیٹر کامیاب لگتے ہیں۔

یہ روز شاہ حسین، بلھے شاہ، سرمد سرمست، سچل سرمست، شاہ عنایت فقیر کو مار کر سوتے ہیں اور صبح اٹھ کر ان کے سرمدی نغموں پر دھمال ڈالنے والے ان کے نام کی مالا جپنے والے انھیں بیوقوف لگتے ہیں۔ یہ روز اپنے غیظ میں جل کر مرتے ہیں اور اپنے اندر لگی حسد کی آگ میں جھلس کر رہ جاتے ہیں۔۔ یہ رات کو سورج کی موت کا یقین کرکے سوتے ہیں اور ہر صبح نیا خورشید ان کا منہ چڑاتا ہے تو پھر یہ چگاڈر اندھیری گھپاوں میں چھپ جاتے ہیں رات کو پھر نکل آتے ہیں اور یہ یقین کرنے لگتے ہیں کہ نہ صبح ہوگی نہ نیا خورشید طلوع ہوگا۔۔ فی قلبھم مرض فزاد ھم اللہ مرضا۔۔ ان کی سزا ہے اور یہ اس سزا سے کبھی نجات نہیں پائیں گے۔۔

یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا
یہ کون بول رہا تھا ابھی خدا کے لہجے میں

Check Also

Iran Jang: Chand Aham Pehlu

By Amir Khakwani