Wednesday, 27 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Syed Jawad Hussain Rizvi
  4. Wadi e Soan Ki Tehzeeb

Wadi e Soan Ki Tehzeeb

وادیِ سواں کی تہذیب

خاکسار کو آثارِ قدیمہ اور علم انسانیات (Anthropology) سے خاصا شغف رہا ہے۔ انسانی تاریخ کے مختلف گوشے میرے دلچسپی کا موضوع رہے جن پر کافی مطالعہ رہا ہے۔ انسان کی قدیم ترین تاریخ کے علم کو Paleoanthropology کہا جاتا ہے۔ تقریباً دس سال قبل اس فیلڈ میں ایک آن لائن کورس بھی کیا تھا جس میں ہم امریکہ کی ایریزونا اسٹیٹ یونیورسٹی کے معروف Paleoanthropologist پروفیسر ڈونلڈ جانسن سے مستفید ہوئے تھے جو اس فیلڈ میں سند مانے جاتے ہیں۔ آپ اس ٹیم کا حصّہ تھے جس نے 1970 کی دہائی میں ایتھوپیا سے قدیم ترین انسان نُما مخلوق (Hominid) کے ڈھانچے کے کچھ حصّے دریافت کئے تھے جس کو "Lucy" کا نام دیا گیا تھا۔ اس کی قدامت 3.2 ملین سال بتائی جاتی ہے۔

خیر میرا موضوع Lucy نہیں ہے۔ آمدم بر سرِ مطلب، گزشتہ دنوں پشاور سے اسلام آباد بائی روڈ سفر کے دوران اطراف میں دو عظیم تاریخی تہذیبوں کی طرف میرا ذہن گیا۔ ایک تو گندھارا کی تہذیب تھی جس میں موجودہ پشاور، سوات، ہزارہ اور پوٹھوہار کے علاقے شامل تھے۔ اس عظیم تہذیب نے علم و ادب کو پروان چڑھایا۔ نامور فلسفی اور مُفکّرین یہاں پیدا ہوئے اور علم کے ارتقاء میں اپنا کردار ادا کیا۔ یہ تہذیب بدھ مت کی وجہ سے زیادہ جانی جاتی ہے۔

سرزمین پوٹھوہار کی کٹی پھٹی زمین اور سنگلاخ چٹانوں کے بیچ ایک اور تہذیب نے جنم لیا، جس کو وادیِ سواں کی تہذیب (Soan Civilization) کہتے ہیں۔ مجھے اس تہذیب کے متعلق بچپن میں میرے مرحوم والد نے بتایا تھا، اللہ تعالی انہیں غریق رحمت کرے، میری فکری آبیاری میں ان کا بڑا کردار ہے۔

یہ تہذیب پاکستان بلکہ پورے جنوبی ایشیا کی قدیم ترین ماقبل تاریخ (Prehistoric) تہذیبوں میں سے ایک ہے۔ یہ موہن جو دڑو یا ہڑپہ کی طرح اینٹوں کے مکانات اور شہروں پر مشتمل تہذیب نہیں تھی، بلکہ یہ پتھر کے دور (Paleolithic Age) کے انسانوں کی بستی تھی، جو لاکھوں سال پرانی ہے۔ اس تہذیب کا دائرہ بڑھ کر بھارت میں ہماچل پردیش اور نیپال تک وسیع ہے، مشابہت کی وجہ سے بھارت اور نیپال سے ملنے والے آثار کو بھی سواں تہذیب سے جوڑتے ہیں۔ اس پوری تہذیب کو ہی Soanian Civilization کہتے ہیں۔

یہ تہذیب دریائے سواں کے گرد پروان چڑھی اس لئے اس کو یہ نام دیا گیا۔ کچھ حالیہ سائنسی تحقیقات اور راولپنڈی کے قریب "روات" کے مقام سے ملنے والے شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں انسانوں یا ان کے آبا و اجداد (جیسے Homo erectus) کی موجودگی کے آثار 20 لاکھ سال تک پرانے ہو سکتے ہیں۔ یہ دنیا میں افریقہ سے باہر قدیم ترین انسانی سرگرمیوں کے چند بڑے مراکز میں سے ایک ہے۔

یعنی یہاں رہنے والے انسان ہماری نوع (Homo Sapien) سے مختلف اور قدیم تھے۔ گویا ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ لوگ حضرت آدم (ع) کے زمانے سے قبل کے انسان تھے جن کا ذکر ہمیں شیعہ روایات میں آئمہ اہلبیت(ع) سے ملتا ہے۔ اس دور کے انسان ہم سے ذرا مختلف تھے، سر، جسم اور چہرے کی ساخت بہت مختلف ہوا کرتی تھی، جسم پر بال بہت ہوتے تھے۔

بہتر ہے کہ ہم یہاں قارئین کی معلومات کے لئے دیگر انواع کی طرف بھی اشارہ کرتے چلیں۔ ہماری نوع ہومو سیپین (Homo sapiens) کے علاوہ زمین کی تاریخ میں انسانوں کی کئی دیگر انواع رہ چکی ہیں، جو اب ناپید ہو چکی ہیں۔ ان میں سب سے کامیاب ہومو ایریکٹس (Homo erectus) تھے جو پہلے سیدھے کھڑے ہونے والے انسان تھے اور لاکھوں سال تک جیتے رہے۔ ان کے علاوہ یورپ کے مضبوط اور ذہین نیانڈرتھل (Homo neanderthalensis)، سرد پہاڑی علاقوں کے ڈینیسووان (Denisovans)، انڈونیشیا کے جزیرے سے ملنے والے محض تین فٹ قد کے بونے انسان ہومو فلوریسینسیز (Homo floresiensis - ہوبٹ) اور افریقہ میں سب سے پہلے پتھر کے اوزار بنانے والے ہومو ہیبی لیس (Homo habilis) شامل ہیں۔

لاکھوں سال پہلے یہ تمام انواع دنیا کے مختلف حصوں میں ایک ہی وقت میں آباد تھیں، لیکن ارتقائی سفر میں صرف ہم ہی زندہ بچ سکے۔ البتہ ہمارے ڈی این اے میں نیانڈرتھل اور ڈینیسووان کی بھی آمیزش ہے۔ شاید آپس میں شادیاں ہوئی ہوں۔ یہ آمیزش کچھ علاقوں میں کافی زیادہ ہے جیسے یوروپی اقوام میں نیانڈرتھل کی جبکہ چین و جاپان اور دیگر زرد اقوام بشمول ملائیشیا و انڈونیشیا میں ڈینیسووان کی آمیزش ملتی ہے۔

اس تمہیدی گفتگو کے بعد وادی سواں کی طرف آتے ہیں۔ ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق یہاں پنپنے والی تہذیب ہومو ایریکٹس (Homo erectus) سے مخصوص ہے جو ایشیا میں عام پائے جاتے تھے۔ اس دور کا انسان غاروں میں رہتا تھا یا قدرتی پناہ گاہوں کا استعمال کرتا تھا۔ وہ کھیتی باڑی نہیں جانتے تھے، بلکہ جنگلی جانوروں کا شکار کرتے، مچھلیاں پکڑتے اور جنگلی پھل، جڑیں اور جڑی بوٹیاں اکٹھی کرکے پیٹ بھرتے تھے۔

لاکھوں سال پہلے پوٹھوہار کا یہ علاقہ ایسا خشک نہیں تھا جیسا آج ہے۔ اس دور میں یہاں گھنے جنگلات تھے اور یہاں ایسے جانور پائے جاتے تھے جو آج پاکستان میں ناپید ہو چکے ہیں، مثلاً قدیم دور کے بڑے ہاتھی، گینڈے، مگرمچھ، چیتے اور زرافے۔ ان جانوروں کے فوسلز (محجرات) بھی پوٹھوہار کے علاقے سے بڑی تعداد میں ملے ہیں۔ سواں تہذیب کی سب سے بڑی خاصیت یہاں سے ملنے والے پتھر کے اوزار ہیں۔ یہاں کے قدیم باشندے دریا کے کناروں پر ملنے والے گول پتھروں (Pebbles) کو توڑ کر تیز دھار اوزار بناتے تھے۔ یہ اوزار راولپنڈی کے اطراف میں مختلف علاقوں جیسے اڈیالہ، پنڈی گھیپ اور روات وغیرہ سے بھاری تعداد میں ملے ہیں۔

وادی سواں کی تہذیب دریافت کرنے کا سہرا ڈی این واڈیا (D. N. Wadia) کے سر جاتا ہے جنہوں نے 1928 میں دنیا کو اس تہذیب سے پہلی دفعہ روشناس کرایا۔ ان کا پورا نام داراشا نوشیروان واڈیا (Darashaw Nosherwan Wadia) تھا اور نام سے لگتا ہے کہ وہ پارسی تھے۔ وہ برِصغیر کے ایک انتہائی مایہ ناز ماہرِ ارضیات (Geologist) تھے، انہیں فادر آف انڈین جیالوجی مانا جاتا ہے۔ انہوں نے خطۂ پوٹھوہار کا دورہ کیا اور دریائے سواں کے گرد و نواح سے قدیم پتھر کے اوزار جمع کیے، جس سے دنیا کو پہلی بار معلوم ہوا کہ یہاں کوئی ماقبل تاریخ (Prehistoric) انسانی سرگرمی موجود تھی۔

ڈی این واڈیا کی 1928ء کی ارضیاتی رپورٹ کے بعد، کے آر یو ٹوڈ نے 1930ء میں خطہ پوٹھوہار میں راولپنڈی کے قریب "پنڈی گھیب" کے مقام پر تفصیلی سروے کیا۔ وہاں سے انہوں نے پتھر کے قدیم اوزاروں کا ایک بڑا ذخیرہ جمع کیا اور پہلی بار ان اوزاروں کی باقاعدہ فنی درجہ بندی (Classification) شروع کی۔ ٹوڈ برٹش راج میں رائل انڈین نیوی (Royal Indian Navy) میں ایک افسر تھے، جو اپنے پیشہ ورانہ فرائض کے ساتھ ساتھ آثارِ قدیمہ (Archaeology) میں گہرا اور جنونی لگاؤ رکھتے تھے۔

سواں تہذیب کو عالمی سطح پر مستند شناخت 1935ء میں ملی، جب امریکہ کی ییل (Yale) اور برطانیہ کی کیمبرج (Cambridge) یونیورسٹیوں کا ایک مشترکہ وفد ہندوستان آیا۔ اس مہم کی سربراہی ایچ ڈی ٹیرا (H. de Terra) اور ٹی ٹی پیٹرسن (Paterson) کر رہے تھے۔ انہوں نے وادیِ سواں کا تفصیلی سروے کیا، زمین کی تہوں (Stratigraphy) کا مطالعہ کیا اور اسے باقاعدہ "سواں کلچر" (Soan Culture) کا نام دیا۔ ان کی لکھی ہوئی کتاب آج بھی اس تہذیب پر بنیادی ماخذ مانی جاتی ہے۔

پاکستان بننے کے بعد پاکستانی ماہرینِ آثارِ قدیمہ، بالخصوص پشاور یونیورسٹی کے نامور محقق پروفیسر احمد حسن دانی نے 1960ء کی دہائی میں وادیِ سواں کے مختلف مقامات کا دوبارہ جائزہ لیا۔ انہوں نے یہ ثابت کرنے میں اہم کردار ادا کیا کہ یہاں کے اوزار دنیا کی دیگر قدیم تہذیبوں (جیسے یورپ اور افریقہ کے پتھر کے دور) کے ہم پلہ ہیں۔

1980ء کی دہائی میں برٹش آرکیولوجیکل مشن ٹو پاکستان (BAMP) نے ڈاکٹر رابن ڈینل (Robin Dennell) اور ڈاکٹر برجیٹ آلچن (Bridget Allchin) کی قیادت میں پاکستان کے محکمہ آثارِ قدیمہ کے ساتھ مل کر انقلابی تحقیقات کیں۔ راولپنڈی کے قریب روات کے مقام پر انہوں نے زمین کی گہرائی سے پتھر کے ایسے اوزار ڈھونڈ نکالے جن کی عمر جدید سائنسی طریقوں (Paleomagnetic Dating) سے 20 لاکھ سال کے قریب معلوم ہوئی۔ اس دریافت نے پوری دنیا کے ماہرین کو حیران کر دیا، کیونکہ اس سے پہلے یہ مانا جاتا تھا کہ اتنے پرانے انسان صرف افریقہ میں پائے جاتے تھے۔ یہاں ایک اور مقام سے کھدائی کے دوران تقریباً 45,000 سال پرانی ایک انسانی بستی کے آثار اور پتھر کاٹنے کی باقاعدہ ورکشاپ ملی۔ اس مقام کو روات غار (Rawat Cave) کہا جاتا ہے۔

حالیہ سالوں میں قائداعظم یونیورسٹی (اسلام آباد)، پنجاب یونیورسٹی اور ہزارہ یونیورسٹی کے شعبہ آثارِ قدیمہ نے غیر ملکی ماہرین کے ساتھ مل کر ڈیجیٹل میپنگ اور نئے فوسلز کی تلاش پر کام کیا ہے۔ اب تک پوٹھوہار اور وادیِ سواں کے علاقے میں سیکڑوں ایسے مقامات (Sites) کی نشاندہی کی جا چکی ہے جہاں پتھر کے اوزار بکھرے پڑے ہیں۔

اگرچہ اس تہذیب پر بہت کام ہوا ہے، لیکن اب تک کی بڑی محدودیت یہ ہے کہ یہاں سے ابھی تک کوئی انسانی ڈھانچہ یا ہڈی (Human Fossil) نہیں مل سکی، صرف ان کے استعمال کیے ہوئے پتھر کے اوزار ملے ہیں۔ اس کی وجہ پوٹھوہار کی مٹی کی تیزابیت اور سخت موسم ہے جو ہڈیوں کو لاکھوں سال تک محفوظ نہیں رہنے دیتا۔ آج بھی ماہرین اس کوشش میں ہیں کہ شاید کسی غار یا گہری تہہ سے کوئی انسانی فوسل مل جائے جو اس تہذیب کی کڑیوں کو مکمل کر سکے۔

نوٹ: اس تحریر میں زیادہ تر مواد پشاور یونیورسٹی کے شعبۂ آثار قدیمہ کے آفیشل جرنل "اینشنٹ پاکستان" (Ancient Pakistan) میں شائع شدہ ڈاکٹر محمد سلیم کے مقالے سے لیا گیا ہے۔

Check Also

Aansu Sab Aik Jaise

By Muhammad Waris Dinari