Nikharti Hui Shakhsiyat Ki Tarbiyat
نکھرتی ہوئی شخصیت کی تربیت

سوالات بہت سادہ ہیں۔ ان پر سنجیدگی سے غور کریں۔ شاید آپ کو ان سوالات کا جواب مل جائے۔ سادہ ترین سوال یہ ہے کہ ہماری اصل پہچان کیا ہے؟ ہمارا پیسہ یا ہمارا اخلاقی و سماجی رویہ؟ کیا واقعی انسان کی پہچان اس کا پیسہ ہوتا ہے؟ کیا وجہ ہے کہ آج ہمارے پاس ڈگریاں اور بزنس تو بہت ہیں، مگر ایمانداری اور دیانتداری کا فقدان ہے؟ ان سب سوالات کی سوئی ایک ہی نکتے پر آکر رکتی ہے اور وہ ہےنکھرتی ہوئی شخصیت کی تعمیر میں تربیت کا کردار۔ ایک عمدہ اور اعلی ترین تربیت کے اثرات انسان کی شخصیت میں اس طرح ظاہر ہوتے ہیں جیسے زمین میں کاشت کیے گئے بیج کے اثرات ایک بہترین پودے، درخت اور پھل کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔ بیج اور زمین جس قدر اعلی ہوگی، اِسی قدر اس کی پیداوار بھی اعلی وارفع ہوگی۔ اِسی طرح انسان کی اعلی شخصیت اس کی ارفع تربیت کی ائندہ دار ہوتی ہے۔ بقول شاعر
تربیت ہی انسان کی اصل شان ہے
یہی تو ہے جو معاشرے کی پہچان ہے
جس طرح تعلیم انسان کے ذہین کو روشنی دیتی ہے، اسی طرح تربیت اس کے دل و دماغ کو سنوار کر اسے بہتر انسان بناتی ہے۔ ایک کامیاب اور متوازن شخصیت کی تشکیل میں تربیت کا بہت بنیادی کردار ہوتا ہے، کیونکہ یہ صرف علم کی روشنی نہیں، بلکہ فرد کو اخلاقی و سماجی زندگی کی درست راہ بھی دکھاتی ہے۔ یہ وہ مضبوط بنیاد ہے جس پر انسان کی شخصیت اور پورے معاشرے کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ یہ ایک ایسےتسلسل کا نام ہے جو انسان کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ ایک بہتر معاشرہ تخلیق کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انسانی تربیت رفتہ رفتہ اپنے ارتقائی مراحل طے کرتی ہے اور جوں جوں انسان کی ذات میں تربیت کا غلبہ نمایاں ہوتا چلا جاتا ہے، انسانی شخصیت اسی قدر نکھرتی چلی جاتی ہے۔ بچپن میں اگر افراد کی اعلی انداز میں تربیت کا اہتمام کر دیا جائے تو یہی تربیت انسان کی اعلی وارفع شخصیت کی بنیاد اور اساس بن جاتی ہے۔ عمدہ تربیت کا پہلا اصول اطاعت اور پیروی ہے۔ اسی لیے قران مجید نے متعدد مقامات پر ایک مومن سے بار بار اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کا مطالبہ کیا ہے، اس اطاعت سے روگردانی کو ناکامی قرار دیا ہے اور اسی اطاعت پر عملی پابندی کو کامیابی قرار دیا ہے۔
آج کے دور کی اہم ترین ضرورت یہ ہے کہ جہاں والدین اپنے بچوں کو تعلیم کے لیے اعلیٰ و مہنگے ترین تعلیمی اداروں میں داخل کراتے ہیں، تو وہاں وہ اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ کیا اس درسگاہ میں بچے کی تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت بھی کی جا رہی ہے یا نہیں؟ اور گھروں میں بھی والدین خاص کر مائیں اپنے بچوں کی زبان اور ادب و آداب پر نظر رکھیں۔ بچوں کی پہلی درس گاہ ماں کی گود اور گھر کا ماحول ہی ہوتا ہے۔ بچے اپنے والدین کو جیساعمل کرتا پاتے ہیں، وہ بھی ویسے اعمال کرتے ہیں۔ یہ دنیا کا مانا ہوا اصول ہے کہ اگر تعلیم کے ساتھ تربیت نہ ہو تو معاشرے ترقی کی سیڑھی نہیں چڑھ سکتے۔ معاشرے میں جس انسان کی تربیت عمدہ ہوتی ہے، اس کی قدر و قیمت اور فضیلت و اہمیت بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔
یوں تو زندگی کے ہر مرحلے پر تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن بچپن میں جو نقوش ثپت ہوجائیں، وہ تاحیات باقی رہتے ہیں۔ ہمارے ہاں نہ ہی والدین بچوں کی تربیت کا احساس کرتے ہیں اور نہ ہی معذرت کے ساتھ استاذ میں وہ اخلاقی بلندی ہوتی ہے جوبچے کی زندگی پر نقوش ثبت کر سکیں۔ بطور ذمہ دار شہری ہماری بچوں کی تربیت میں عام آدمی کی نسبت زیادہ ذمہ داری بنتی ہے۔ کیوں کہ ہمیں صرف آنے والی نسل کوورثے میں مال ودولت منتقل کرنےکے بجائے اچھے اخلاق، معاملات میں شفافیت اورایمانداری و دیانتداری جیسے اوصاف بھی دیے کر جانے ہیں۔ تاکہ ہمارے معاشرے میں مال و دولت اکٹھا کرنے والی مشینیں تیار ہونے کے بجائے ایک ذمہ داری شہری پنپ سکیں۔
یقیناًجب فرد کی تربیت میں کمی ہوتی ہے، تو وہ نہ صرف خود مشکلات میں گھرا ہوتا ہے۔ بلکہ اس کا معاشرہ بھی اخلاقی انحطاط کا شکار ہو جاتا ہے۔ ہمیں بھی اپنی نسلوں کو اچھی تربیت دینے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔ تاکہ وہ نہ صرف خود کامیاب افراد بنیں بلکہ ایک کامیاب، پرامن اور ترقی یافتہ معاشرہ بھی تشکیل دیں۔

