Wednesday, 27 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Aftab Alam
  4. Imran Khan Ka Dehi Khud Kafalat Model

Imran Khan Ka Dehi Khud Kafalat Model

عمران خان کا دیہی خود کفالت ماڈل

پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے جب لوگوں کو مرغیاں، بکریاں اور گائیں پالنے، گھریلو سطح پر دودھ اور انڈوں کی پیداوار بڑھانے اور چھوٹے پیمانے پر خود کفالت اختیار کرنے کی ترغیب دی تو بہت سے لوگوں نے اس بات کا مذاق اڑایا۔ سوشل میڈیا پر طنز کیے گئے، لطیفے بنائے گئے اور اس خیال کو ایسے پیش کیا گیا جیسے یہ کسی پسماندہ سوچ کی علامت ہو۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ زیادہ تر ناقدین نے اس تصور کی اصل روح اور اس کی عملی افادیت کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی!

حقیقت یہ ہے کہ یہ خیال نہ تو نیا تھا اور نہ ہی غیر حقیقت پسندانہ۔ دنیا بھر میں غربت کم کرنے اور دیہی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے اسی قسم کے ماڈلز کئی دہائیوں سے کامیابی کے ساتھ استعمال ہو رہے ہیں۔ یہ سوچ اس اصول پر مبنی ہے کہ انتہائی غریب انسان کو صرف امداد یا خیرات نہیں بلکہ ایسا ذریعہ دیا جائے جو مسلسل فائدہ پیدا کرے۔ یعنی ایسا اثاثہ جو خوراک بھی دے، آمدنی بھی پیدا کرے اور وقت کے ساتھ مزید ترقی کا ذریعہ بھی بنے۔

اسی فلسفے پر عالمی ادارہ Heifer International ہائیفر انٹر نیشنل کئی سالوں سے کام کرتا رہا ہے۔ اس ادارے نے غریب خاندانوں کو گائیں، بکریاں، مرغیاں، شہد کی مکھیاں اور زرعی تربیت فراہم کی تاکہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں۔ ایک بکری صرف دودھ نہیں دیتی بلکہ اس کے بچے بھی ہوتے ہیں۔ مرغیاں صرف انڈے نہیں دیتیں بلکہ مستقل خوراک اور چھوٹی آمدنی کا ذریعہ بنتی ہیں۔ ایک گائے پورے خاندان کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ روزانہ آمدنی بھی پیدا کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس قسم کے منصوبوں نے دنیا کے کئی غریب علاقوں میں لاکھوں لوگوں کی زندگی بدل دی۔

بنگلہ دیش میں چھوٹے قرضوں اور مویشی پالنے کے منصوبوں نے ہزاروں دیہی خواتین کو معاشی طور پر مضبوط بنایا۔ افریقہ کے کئی ممالک میں بکریاں اور مرغیاں غربت کے خلاف عملی ہتھیار ثابت ہوئیں۔ بھارت میں دیہی دودھ پیدا کرنے والے نظام نے لاکھوں خاندانوں کو روزگار اور استحکام فراہم کیا۔ ان تمام مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ یہ خیال مذاق نہیں بلکہ ایک آزمودہ معاشی حکمتِ عملی ہے۔

پاکستان جیسے ملک میں، جہاں غربت، بے روزگاری اور غذائی قلت بڑے مسائل ہیں، وہاں اس قسم کے چھوٹے گھریلو معاشی ماڈلز کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ ملک میں لاکھوں بچے غذائی کمی کا شکار ہیں۔ انڈے اور دودھ سستی اور مؤثر غذائیت فراہم کرتے ہیں۔ اگر ایک غریب خاندان چند مرغیاں پال لے یا ایک دودھ دینے والی بکری رکھ لے تو اس کے بچوں کی صحت بہتر ہو سکتی ہے اور اضافی پیداوار بیچ کر کچھ آمدنی بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں اکثر ترقی کو صرف بڑے منصوبوں، فیکٹریوں، یا بیرونی سرمایہ کاری کے زاویے سے دیکھا جاتا ہے۔ یقیناً یہ سب ضروری ہیں، لیکن ہر شخص کو فوراً بڑی نوکری یا کاروبار نہیں مل سکتا۔ دیہی علاقوں میں کروڑوں لوگ ایسے ہیں جن کے پاس نہ سرمایہ ہے، نہ زمین، نہ مستقل روزگار۔ ایسے لوگوں کے لیے چھوٹے پیمانے پر خود کفالت ہی پہلا قدم بن سکتی ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ مستقل خیرات اور سرکاری امداد کسی معاشرے کو مضبوط نہیں بناتیں۔ وقتی مدد ضرور ضروری ہوتی ہے، لیکن اگر لوگ ہمیشہ دوسروں کے سہارے پر رہیں تو ان میں خود اعتمادی اور پیداوار کی صلاحیت کمزور پڑنے لگتی ہے۔ اس کے برعکس جب ایک خاندان اپنی محنت سے دودھ، انڈے یا دیگر اشیاء پیدا کرتا ہے تو اس میں عزتِ نفس، خود مختاری اور امید پیدا ہوتی ہے۔

عمران خان کی بات کا مقصد یہ نہیں تھا کہ پاکستان کی پوری معیشت صرف مرغیوں اور بکریوں پر چلائی جائے۔ اصل مقصد یہ تھا کہ غریب آدمی کو کم از کم اتنا قابل بنایا جائے کہ وہ مکمل بے بسی اور محتاجی سے باہر نکل سکے۔ یہ سوچ دراصل دنیا بھر میں تسلیم شدہ ترقیاتی فلسفے سے مطابقت رکھتی ہے: لوگوں کو صرف امداد نہ دو بلکہ انہیں ایسا ذریعہ دو جس سے وہ خود اپنی زندگی بہتر بنا سکیں۔

بدقسمتی سے ہمارے ہاں سنجیدہ معاشی خیالات کو اکثر سیاسی تعصب یا سوشل میڈیا کے مذاق میں دفن کر دیا جاتا ہے۔ اگر ہم جذبات اور طنز سے ہٹ کر حقیقت پسندانہ انداز میں دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ چھوٹے پیمانے کی زراعت، مویشی پالنا اور گھریلو پیداوار نہ صرف قابلِ عمل ہیں بلکہ لاکھوں غریب خاندانوں کے لیے امید کی ایک حقیقی کرن بھی بن سکتے ہیں۔

Check Also

Ibrahimi Dabao Aur Muslim Dunya

By Fatima Tayyab Singhanvi