Ibrahimi Dabao Aur Muslim Dunya
ابراہیمی دباؤ اور مسلم دنیا

امریکی خارجہ پالیسی کی تاریخ میں بعض لمحات ایسے بھی آتے ہیں جب سفارت کاری محض معاہدوں کی تشکیل تک محدود نہیں رہتی بلکہ وہ عالمی طاقت کے ذہنی نقشے، تہذیبی ترجیحات اور جغرافیائی عزائم کی عکاس بن جاتی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں متعارف کرایا گیا "ابراہیمی معاہدہ" بھی دراصل اسی نوع کی ایک سیاسی حکمتِ عملی تھی جس کا بنیادی مقصد مشرقِ وسطیٰ کے طاقت کے توازن کو اسرائیل کے حق میں ازسرِنو ترتیب دینا تھا۔
اس منصوبے کو مذہبی ہم آہنگی، امن اور علاقائی استحکام کے خوشنما عنوانات کے ساتھ پیش کیا گیا، لیکن اس کی تہہ میں فلسطینی مسئلے کو پس منظر میں دھکیلنے اور عرب دنیا کی اجتماعی ترجیحات کو تبدیل کرنے کی واضح کوشش پوشیدہ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ جب 2020ء میں متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کیے تو اسے محض سفارتی پیش رفت نہیں بلکہ عرب سیاسی فکر میں ایک بڑی تبدیلی قرار دیا گیا۔
ٹرمپ انتظامیہ نے اس پورے عمل کو محض ایک دوطرفہ مصالحت کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ اسے ایک وسیع تر علاقائی بندوبست کی بنیاد بنانے کی کوشش کی۔ وائٹ ہاؤس میں ہونے والی تقریبات، جیرڈ کشنر کی سرگرمیاں، امریکی انجیلی عیسائی حلقوں کی حمایت اور اسرائیلی قیادت کی غیرمعمولی سفارتی آسودگی اس امر کی علامت تھی کہ واشنگٹن اب مشرقِ وسطیٰ میں فلسطینی تنازع کو حل کیے بغیر اسرائیل کو مکمل علاقائی قبولیت دلوانا چاہتا ہے۔ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت کے طور پر عملی قبولیت دینا اسی پالیسی کا پہلا بڑا اظہار تھا، جس نے نہ صرف بین الاقوامی سفارتی روایت کو متاثر کیا بلکہ فلسطینی موقف کو بھی شدید دھچکا پہنچایا۔
تاہم وقت نے ثابت کیا کہ معاہدات کی چمک ہمیشہ زمینی حقیقتوں کو تبدیل نہیں کر سکتی۔ غزہ میں مسلسل خونریزی، انسانی بحران، فلسطینی شہریوں کی وسیع پیمانے پر ہلاکتیں اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی شدت نے عرب عوام کے جذبات کو دوبارہ فلسطین کے گرد مجتمع کردیا۔ یہی سبب ہے کہ آج جب ٹرمپ ایک مرتبہ پھر ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کو "ابراہیمی معاہدے" کی توسیع سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں تو انہیں پہلے جیسی سفارتی آسانی میسر نہیں آرہی۔ امریکی ذرائع کے مطابق حالیہ اعلیٰ سطحی رابطوں میں ٹرمپ نے سعودی عرب، پاکستان، قطر، ترکیہ، مصر اور دیگر ممالک سے توقع ظاہر کی کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرتے ہوئے علاقائی اتحاد کا حصہ بنیں، مگر اس تجویز پر جو خاموشی طاری ہوئی، وہ دراصل مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی نفسیات کی علامت تھی۔
یہ خاموشی محض سفارتی احتیاط نہیں بلکہ ایک گہرا سیاسی پیغام بھی ہے۔ سعودی عرب نے دوٹوک انداز میں واضح کردیا کہ فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر اسرائیل کے ساتھ تعلقات ممکن نہیں۔ یہ موقف اس امر کا مظہر ہے کہ ریاض اب داخلی اور علاقائی سطح پر ایسے کسی اقدام کے نتائج سے بخوبی آگاہ ہے جو فلسطینی کاز سے انحراف کے مترادف سمجھا جائے۔ پاکستان کی جانب سے بھی یہ اشارہ دیا گیا کہ ایران سے متعلق ممکنہ معاہدے کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے مسئلے سے جوڑنا ناقابلِ قبول ہے۔ دراصل اسلام آباد اس حقیقت کو سمجھتا ہے کہ مسئلہ فلسطین پاکستان کے داخلی سیاسی و نظریاتی بیانیے سے گہرائی کے ساتھ وابستہ ہے اور کسی بھی قسم کی عجلت نہ صرف سفارتی مشکلات بلکہ داخلی اضطراب کو بھی جنم دے سکتی ہے۔
اس تمام صورتحال میں سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ امریکا ایک مرتبہ پھر خطے میں اپنے سفارتی اہداف کو اسرائیلی سلامتی کے زاویے سے مرتب کرتا دکھائی دیتا ہے۔ ایران کے ساتھ ممکنہ مفاہمت، آبنائے ہرمز کی بحالی، منجمد اثاثوں کی واپسی اور جنگ بندی جیسے معاملات بظاہر علاقائی استحکام سے متعلق ہیں، مگر واشنگٹن انہیں اسرائیل کی علاقائی قبولیت کے ساتھ جوڑ کر ایک نئی سفارتی ترکیب وضع کرنا چاہتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں امریکی حکمتِ عملی کو سب سے زیادہ مزاحمت کا سامنا ہے، کیونکہ مسلم دنیا اب یہ محسوس کرنے لگی ہے کہ فلسطینی مسئلے کو نظرانداز کرکے کوئی بھی علاقائی امن پائیدار نہیں ہوسکتا۔
حالیہ پیش رفت نے ایک اور حقیقت بھی نمایاں کردی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اب یک قطبی امریکی اثر سے بتدریج فاصلے پر جارہا ہے۔ قطر کی ثالثی، ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ مذاکرات، ترکیہ کی محتاط حکمتِ عملی، سعودی عرب کی خودمختار سفارت کاری اور چین و روس کی بڑھتی ہوئی علاقائی موجودگی اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ خطے کی سیاست اب زیادہ پیچیدہ، کثیرالجہتی اور غیر متوقع ہوچکی ہے۔ ایسے ماحول میں محض دباؤ یا ترغیب کے ذریعے اسرائیل کو اجتماعی قبولیت دلوانا پہلے کی نسبت کہیں زیادہ دشوار دکھائی دیتا ہے۔
امریکا شاید اب بھی یہ سمجھتا ہے کہ معاشی مراعات، سلامتی کی یقین دہانیاں اور سفارتی حمایت مسلم دنیا کے سیاسی مؤقف کو تبدیل کرسکتی ہیں، لیکن غزہ کی تباہی نے اس تصور کو کمزور کردیا ہے۔ عرب اور مسلم عوام کی بڑی تعداد اب بھی فلسطین کو محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ ایک تہذیبی، اخلاقی اور انسانی مسئلہ سمجھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ابراہیمی معاہدے کی توسیع کی راہ میں اصل رکاوٹ صرف سفارتی اختلاف نہیں بلکہ عوامی احساسات، تاریخی وابستگیاں اور سیاسی حقیقتیں بھی ہیں۔
ٹرمپ کی حالیہ سفارت کاری نے اگرچہ ایک مرتبہ پھر عالمی توجہ مشرقِ وسطیٰ کی جانب مبذول کرادی ہے، مگر اس نے یہ سوال بھی شدت سے ابھارا ہے کہ کیا واقعی فلسطینی مسئلے کو نظرانداز کرکے خطے میں دیرپا امن قائم کیا جاسکتا ہے؟ بظاہر اس سوال کا جواب نفی میں دکھائی دیتا ہے، کیونکہ طاقت کے زور پر معاہدے تو تشکیل دیے جاسکتے ہیں، لیکن پائیدار قبولیت صرف انصاف، توازن اور حقیقی سیاسی حل ہی سے جنم لیتی ہے۔

