محض الطاف حسن قریشی کے تذکرے پر "گناہگار" ٹھہرایا میں "مجرم"

الطاف حسن قریشی مرحوم کے بارے میں چند توصیفی کلمات لکھنے کی وجہ سے "روشن خیال" مشہور ہوئے گروہ کی ملامت سے اُکتاکر منگل کی صبح ایک کالم لکھ دیا تھا۔ وہ چھپ گیا تو میری دانست میں حساب برابر ہوگیا۔ ملامت کا سلسلہ مگر رکا نہیں۔ مختصراََ یوں کہہ لیں کہ محاورے والا کمبل اب مجھے نہیں چھوڑ رہا۔ بلھے شاہ کا مرید ہوتے ہوئے لہٰذا "آخو آخو (ہاں ہاں)" کہنے کو مجبور ہوں۔
بحیثیت قلم گھسیٹ میں لکھنے کے ہنر میں یکتا نہیں۔ میری ماں پنجابی کے سوا کسی زبان میں گفتگو کے قابل نہیں تھیں۔ اندرون شہر لاہور کے جس محلے میں پیدا ہوکر بڑا ہوا وہاں ایک شخص بھی اردو زبان روزمرہّ کے لئے استعمال نہیں کرتا تھا۔ رنگ محل مشن ہائی سکول میں اساتذہ اور ہم جماعتوں سے اردو بولتا۔ اساتذہ مگر ہماری انگریزی زبان پر گرفت بہتر بنانے پر توجہ مبذول رکھتے۔ سکول سے کالج گیا تو گورنمنٹ کالج لاہور میں ہم عصروں کی توجہ حاصل کرنے کے لئے انگریزی ادب سے شناسائی کام آتی۔ تعلیم مکمل کرلینے کے بعد کل وقتی صحافت کا انتخاب کیا تو انگریزی اخبارات کے لئے رپورٹنگ اور کالم نگاری سے رزق کمایا۔
اردو میں کالم لکھنے کی جانب مرحوم عباس اطہر نے راغب کیا تھا۔ ہمیشہ اس خوف میں مبتلا رہا کہ میری اردو گرائمر کے اعتبار سے قطعاََ ناقص ہے۔ عباس اطہر جنہیں ہم پیارواحترام سے "شاہ جی" پکارا کرتے تھے میرا برجستہ انداز میں لکھا کالم غور سے پڑھنے کے باوجود ہوبہو چھاپ دیتے۔ ان کی زبان پر گرفت مثالی تھی۔ اُدھر تم اِدھر ہم" جیسی سرخیوں کی وجہ سے مشہور ہوئے شاہ جی جدید نظم کے نمائندہ بھی تصور ہوتے تھے۔ ان کی لکھی "شہر کی نیک دل لڑکیو" نوجوانی میں ہمارا اجتماعی المیے اور تنہائی کا بھرپور اظہار سمجھی جاتی تھی۔ ان کی جانب سے "کلیئر" ہوئے کالموں نے حوصلہ بخشا کہ میری اردو اتنی بھی ناقص نہیں ہے۔
شاہ صاحب کے ذکر سے یاد آیا کہ "اُدھر تم اِدھر ہم" جیسی سرخی کی وجہ سے "بھٹو دشمن" مشہور ہوئے عباس اطہر نے ذوالفقار علی بھٹو کی کال کوٹھری میں لکھی کتاب کا متن چھپوانے کی کوشش کی تھی۔ اس کا مسودہ پریس جاتے ہی مگر مخبری ہوگئی اور وہ کئی ہفتوں تک لاہور کے شاہی قلعے میں بدترین تشدد کا سامنا کرتے رہے۔ رہائی کے بعد چند مہربان دوستوں کی مدد سے امریکہ چلے گئے۔ وہاں کئی برس انہیں زندہ رہنے کے لئے لکھنے پڑھنے کے بجائے "کلرکی" سے گزارہ کرنا پڑا۔ برسوں بعد وطن لوٹے تو "روشن خیال" ترقی پسند ان کے لئے رزق کمانے کا بندوبست ڈھونڈ نہ پائے۔ ان کے ہنر کو مگر "نوائے وقت" نے استعمال کرنے کی جرا„ دکھائی۔ ڈپٹی ایڈیٹر (نیوز) ہونے کے علاوہ وہ اس اخبار کے لئے "کنکریاں " کے عنوان سے کالم بھی لکھتے رہے۔ "ترقی پسند" دوستوں کو ان کی "نوائے وقت" میں ملازمت بائیں بازو سے غداری محسوس ہوئی۔
یہ کالم مگر عباس اطہر کی ذات کے بارے میں نہیں۔ روشن خیالی اور ترقی پسندی کی بھرپور علامت -فیض احمد فیض- کا ذکر مقصود تھا۔ اتفاقاََ 28نومبر1984ء کے دن اپنی وفات سے تقریباََ تین ہفتے قبل وہ اسلام آباد چند روز قیام کے لئے آئے تھے۔ میں ان دنوں انگریزی روزنامہ "دی مسلم" کا رپورٹر ہوا کرتا تھا۔ ان کا تفصیلی انٹرویو کیا۔ اس کے دوران وہ نہایت جرأت مندی سے یاسر عرفات کا دفاع کرتے رہے۔ مصر رہے کہ حافظ الاسد جیسے نام نہاد "اسرائیل دشمنوں " نے انہیں عرب دنیا سے دھکیل کر تیونس بھجوادیا تھا۔ مسئلہ فلسطین زندہ رکھنے کے لئے یاسر عرفات کے پاس کیمپ ڈیوڈ والا سمجھوتہ کرنے کے سوا کوئی راہ ہی باقی نہیں رہی تھی۔ فیض صاحب کو یہ خدشہ لاحق تھا کہ یاسر عرفات کو جس انداز میں فلسطین کا "غدار" ثابت کرنے کی مہم چلائی جارہی ہے وہ بالآخر اسرائیل کے فلسطین پر غلبہ کو مزید جارحانہ بنادے گی۔ حال ہی میں غزہ میں جو ہورہا ہے اکثر مجھے اس انٹرویو کی یاد دلاتا رہا۔
بات مگر یہاں ختم نہیں ہوتی۔ 1976ء کے برس تک ہم "مفکرِ پاکستان" علامہ اقبال کی حقیقی تاریخ پیداش سے آگاہ نہیں تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے دوران فیض احمد فیض کی سرپرستی میں اس کی دریافت کا فیصلہ ہوا۔ بالآخر مستند ذرائع سے طے کرلیا گیا کہ علامہ صاحب 9 نومبر 1877ء کو پیدا ہوئے تھے۔ ان کی پیدائش کے برس کی دریافت کے بعد بھٹو حکومت نے 1977ء کے برس کو اقبال کی صد سالہ برسی کے طورپر آن بان شان سے منانے کا فیصلہ کیا۔
1984ء کے نومبر کا آغاز ہوتے ہی فیض صاحب اسلام آباد آئے تو ہمارے ماہر تعمیرات دوست نعیم پاشا صاحب کے ہاں چائے کے لئے تشریف لائے۔ وہاں مجھے اور طرح دار شاعر اور ڈرامہ نگار سرمد صہبائی کو بھی مدعو کرلیا گیا۔ ہلکی بارش ہورہی تھی۔ کھڑکیوں کے پردے کھول کر ہم سب اس سے لطف اندوز ہورہے تھے۔ سامنے ٹی وی لگا تھا جہاں غالباََ چھ بجے کے قریب انگریزی میں خبریں پڑھی جانی تھیں۔ خبرنامہ شروع ہونے سے قبل نومبر میں علامہ اقبال کے یوم ولادت کو ذہن میں رکھتے ہوئے پی ٹی وی ان کی تصویر کے ساتھ ایک شعر سکرین پردکھاتا تھا۔ اس روز جو شعر دکھایا گیا اس پر فیض احمد فیض کی نظر پڑ گئی۔ اسے دیکھتے ہی دُکھ سے بڑبڑاتے ہوئے کہا کہ "ہمارے ٹی وی والے نجانے کیوں علامہ صاحب کے ایسے شعر دکھاتے ہیں جو محض موچی دروازہ باغ کے جلسوں میں لوگوں کے جذبات گرمانے کے قابل ہیں۔ ان میں کوئی گہرائی نہیں۔ "
ہمارے روشن خیال اور ترقی پسند دوست خوب جانتے ہیں کہ علامہ اقبال کو بھی ان کے گروہ کی کثیر تعداد "رجعت پسندی" کا نمائندہ گردانتی ہے۔ انہیں "مسلم اُمہ کی عظمت رفتہ" کے ذکر سے قوم کو "گمراہ" کرنے کا ذمہ دارٹھہرایا جاتا ہے۔ میں نے اور سرمد صاحب نے اس سوچ کو بنیاد بناتے ہوئے ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا تو فیض صاحب کا چہرہ سرخ ہوگیا۔ وہ غصے پر قابو پانے کے لئے خاموش ہوجاتے۔ چہرے کی سرخی مگر اپنی جگہ موجود رہتی۔ خاموشی کی بدولت غصے پر قابو پانے کے بعد فیض صاحب نے 30سے زیادہ منٹ تک ہمیں یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ اگر "علامہ صاحب (وہ کبھی اقبال کا لفظ استعمال نہیں کرتے تھے) نہ ہوتے تو ہم جیسے لوگوں کو نئے دور کے تقاضوں کے مطابق شاعری کی گنجائش ہی میسر نہ ہوتی"۔ اقبال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے ایسے کئی واقعات بھی سنائے جہاں انہیں اپنے دور کے ہم عصروں اور روشن خیال دوستوں سے علامہ اقبال کے دفاع میں طویل مباحثوں کی اذیت برداشت کرنا پڑی تھی۔
الطاف حسن قریشی دورِ حاضر کے علامہ اقبال ہرگز نہیں تھے۔ اپنی صحافت کی وجہ سے وہ مگر 1960ء کی دہائی سے مرتے دم تک کئی نسلوں کو متاثر کرتے رہے۔ ان کے نظریات سے ہزار ہا اختلاف کے باوجود تسلیم کرنا ہوگا کہ انہوں نے صحافت کی ہفت روزہ اور ماہنامہ ڈائجسٹ کی صورت ایک نئی اور عوام میں مقبول طرز متعارف کروائی تھی۔ انہیں کسی بھی اعتبار سے ناکام اور غیر مؤثر صحافی قرار دیا نہیں جاسکتا۔ ان کے برعکس عمر تمام صحافت میں جھک مارنے کے باوجود میں آج بھی پتھر میں بند ہوئے کیڑے کی طرح رزق کمانے کی جدوجہد میں قلم گھسیٹ رہا ہوں۔ "ذہن سازی" اپنے بس کی بات نہیں۔ میری بے ہنری کے باوجود الطاف حسن قریشی صاحب نے میرے خیالات سے آگاہ ہوتے ہوئے بھی مجھ سے رابطہ کیا تھا اور شفقت کی تھپکی سے میرا حوصلہ بڑھایا۔ سمجھ نہیں آرہی کہ ان کی شفقت کا ذکر کرنے سے میں قوم کو "گمراہ" کرنے کے گناہ کا مرتکب کیسے ہوگیا؟

