Thursday, 21 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. MA Tabassum
  4. Chaye Meri Muhabbat

Chaye Meri Muhabbat

چائے میری پہلی محبت

دنیا عجیب جگہ ہے۔ یہاں لوگ موسموں کے ساتھ محبتیں بدل لیتے ہیں۔ سردیوں میں کافی، گرمیوں میں کولڈ ڈرنک، بارش میں پکوڑے اور خزاں میں اداسی پسند آجاتی ہے لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی محبتیں موسموں کی محتاج نہیں ہوتیں۔ ان کے دل میں اگر کسی چیز نے جگہ بنا لی تو پھر سورج آگ برسائے یا برف گرے، محبت اپنی جگہ قائم رہتی ہے۔ میری زندگی میں بھی ایک ایسی ہی محبت ہے اور وہ محبت چائے ہے۔

میں نے دنیا کے بڑے بڑے فلسفیوں کو پڑھا، دانشوروں کو سنا، سیاستدانوں کی تقریریں دیکھیں لیکن جتنی وفاداری ایک کپ چائے نے نبھائی شاید ہی کسی اور نے نبھائی ہو۔ انسان ناراض ہوجاتا ہے، دوست بدل جاتے ہیں، رشتے وقت کے ساتھ پھیکے پڑ جاتے ہیں لیکن چائے ہمیشہ وہی رہتی ہے۔ گرم، خوشبودار اور دل کو سکون دینے والی۔ آپ گرمی کی شدت دیکھ لیجیے۔ پنکھا چل رہا ہوتا ہے، اے سی اپنی آخری سانسیں لے رہا ہوتا ہے، ماتھے پر پسینہ بہہ رہا ہوتا ہے لیکن اس سب کے باوجود دل کے کسی کونے سے ایک آواز آتی ہے "یار ایک کپ چائے ہوجائے!"۔ اب سائنسدان اس کیفیت کو شاید پاگل پن کہیں لیکن چائے کے عاشق اسے محبت کہتے ہیں۔

چائے صرف مشروب نہیں، یہ ہماری تہذیب کا حصہ ہے۔ پاکستان میں اگر کسی گھر جائیں اور وہاں آپ سے پوچھا نہ جائے کہ "چائے پئیں گے؟" تو سمجھ لیں آپ غلط جگہ آگئے ہیں۔ یہاں خوشی میں چائے، غم میں چائے، مہمان کے لیے چائے، دوستوں کی محفل میں چائے، دفتر میں چائے، سیاست میں چائے، حتیٰ کہ بعض گھروں میں لڑائی کے بعد صلح بھی چائے سے ہوتی ہے۔ مجھے ہمیشہ لگتا ہے کہ اگر اقوام متحدہ کے اجلاسوں میں صرف اچھی چائے رکھ دی جائے تو آدھی جنگیں ختم ہوجائیں۔ میرے ایک دوست ہیں، ڈاکٹر صاحب۔ گرمیوں میں صرف لسی پیتے ہیں۔ ہر بار مجھے سمجھاتے ہیں کہ "تبسم صاحب! گرمی میں چائے نقصان دیتی ہے"۔ میں ان کی بات بڑے غور سے سنتا ہوں، سر ہلاتا ہوں اور پھر ان کے سامنے چائے کا کپ رکھ کر کہتا ہوں، "ڈاکٹر صاحب! نقصان محبت میں نہیں، بے وفائی میں ہوتا ہے"۔

اصل میں چائے پینے والے لوگ جذباتی ہوتے ہیں۔ انہیں سکون چاہیے ہوتا ہے۔ وہ زندگی کی تھکن کو ایک کپ میں ڈبو کر پینا چاہتے ہیں۔ چائے کے ساتھ یادیں وابستہ ہوتی ہیں۔ کسی کو ماں کے ہاتھ کی چائے یاد آتی ہے، کسی کو کالج کی کینٹین، کسی کو بارش میں دوستوں کے قہقہے اور کسی کو کسی کا انتظار۔ شاید اسی لیے چائے کبھی صرف چائے نہیں رہتی، یہ احساس بن جاتی ہے۔ میں نے ایک بزرگ سے پوچھا، "بابا جی! آپ کی لمبی عمر کا راز کیا ہے؟" انہوں نے فوراً جواب دیا، "بیٹا! کم بولنا اور زیادہ چائے پینا"۔ اس دن مجھے اندازہ ہوا کہ ہمارے معاشرے میں چائے صرف مشروب نہیں، حکمت بھی ہے۔

گرمی کی شدت میں چائے پینا دراصل اعلان ہوتا ہے کہ انسان ابھی زندہ ہے۔ ابھی اس کے اندر جذبات باقی ہیں۔ ابھی وہ مشین نہیں بنا۔ دنیا جتنی مرضی جدید ہوجائے، موبائل فون بدل جائیں، گاڑیاں بدل جائیں، لوگ بدل جائیں لیکن شام کی چائے کی طلب کبھی نہیں بدلتی۔ مجھے اکثر لگتا ہے کہ چائے انسان کو برداشت سکھاتی ہے۔ آپ پانی کو ابالتے ہیں، پتی ڈالتے ہیں، دودھ شامل کرتے ہیں، پھر انتظار کرتے ہیں تب کہیں جا کر ذائقہ بنتا ہے۔ زندگی بھی شاید ایسی ہی ہے۔ تھوڑا ابال، تھوڑا انتظار اور تھوڑی مٹھاس۔ تب جا کر انسان مکمل ہوتا ہے۔

ہمارے ہاں کچھ لوگ چائے کو صرف عادت سمجھتے ہیں لیکن میں اسے تعلق کہتا ہوں۔ یہ وہ تعلق ہے جو خاموشی میں بھی ساتھ دیتا ہے۔ رات کے آخری پہر جب ساری دنیا سو رہی ہوتی ہے، ایک کپ چائے انسان کو احساس دلاتا ہے کہ ابھی کوئی تو ہے جو جاگ رہا ہے۔ چائے کے عالمی دن پر لوگ تصویریں لگاتے ہیں، سٹیٹس ڈالتے ہیں، شاعری کرتے ہیں لیکن میرے نزدیک چائے کی سب سے بڑی تعریف یہی ہے کہ سخت گرمی میں بھی اگر انسان کہہ دے "چائے میری پہلی محبت ہے" تو سمجھ لیجیے محبت سچی ہے۔

دنیا میں محبتوں کے معیار بدل گئے ہیں۔ لوگ چہروں سے محبت کرتے ہیں، مفاد سے محبت کرتے ہیں، دولت سے محبت کرتے ہیں لیکن چائے واحد محبت ہے جو ہر حال میں قبول کرلی جاتی ہے۔ نہ یہ رنگ دیکھتی ہے، نہ موسم، نہ حالات اور سچ پوچھیں تو زندگی میں کچھ محبتیں ایسی ضرور ہونی چاہئیں جو حساب کتاب نہ مانگیں۔ چائے بھی انہی محبتوں میں سے ایک ہے۔ گرمی ہو یا سردی، خوشی ہو یا اداسی، ایک کپ چائے ہمیشہ انسان کے دل کے قریب رہتی ہے۔ اس لیے اگر آج بھی شدید گرمی میں آپ کے ہاتھ میں چائے کا کپ ہے تو یقین مانیے آپ صرف چائے نہیں پی رہے، آپ اپنی ایک خوبصورت محبت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

Check Also

Faislon Ka Bojh Aur Insan Ki Soch

By Nouman Ali Bhatti