Kya Waqai America Iran Muahida Ho Jaye Ga?
کیا واقعی امریکا ایران معاہدہ ہوجائے گا؟

مشرق وسطیٰ میں خوف ناک جنگ اور پھر دو ماہ تک نازک سیزفائر کے دوران تیز و تند بیانات کے بعد اب امریکا اور ایران میں امن معاہدہ ہونے کا امکان پیدا ہوا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے انکشاف کیا ہے کہ امن معاہدے کا حتمی متن طے پاچکا ہے اور فریقین اب عملی اقدامات اور اعلان کے طریقہ کار پر کام کررہے ہیں۔ اس خبر پر پوری دنیا سکھ کا سانس لے گی کیونکہ آبنائے ہرمز کھلنے سے تیل کی تجارت مکمل بحال ہوجائے گی اور معاشی دباو کم ہوسکے گا۔
آٹھ اپریل کو سیزفائر ہونے کے بعد بھی دونوں ملکوں میں جھڑپیں جاری رہی ہیں۔ خلیج فارس میں فریقین نے ایک دوسرے پر کئی حملے کیے اور مذاکرات کھٹائی میں پڑتے رہے۔ کئی بار صدر ٹرمپ نے معاہدہ ہونے کی بات کی لیکن اہم نکات پر عدم اتفاق سے معاملہ لٹکتا رہا۔ لیکن اب عالمی میڈیا رپورٹ کررہا ہے کہ مجوزہ معاہدہ جلد دستخط کے لیے تیار ہوگا۔ یہ صرف جنگ بندی تک محدود نہیں بلکہ اس میں آبنائے ہرمز کی بحالی، ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات، اقتصادی پابندیوں میں نرمی اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔
مجوزہ معاہدے کے مطابق ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولے گا اور بین الاقوامی بحری ٹریفک میں رکاوٹیں ختم کرے گا۔ بدلے میں امریکا ایرانی بندرگاہوں پر عائد بحری ناکابندی ختم کرے گا اور مرحلہ وار اقتصادی پابندیوں میں نرمی لائے گا۔ رائٹرز کے مطابق امریکا منجمد ایرانی اثاثوں کے کچھ حصے جاری کرنے پر بھی آمادہ ہے، اگرچہ ان کی تعداد اور شرائط پر اختلافات باقی ہیں۔
معاہدے کا سب سے حساس پہلو ایران کا جوہری پروگرام ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ حتمی مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو محدود یا ختم کرنا، اعلیٰ درجے کے افزودہ یورینیم کو تلف یا ملک سے باہر منتقل کرنا اور سخت نگرانی کا نظام قائم کرنا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ تہران اپنے افزودہ یورینیم کو مکمل طور پر ترک کرنے کے بجائے اسے کم درجے پر لانے یعنی "ڈاؤن بلینڈنگ" کو ترجیح دیتا ہے۔
اٹلانٹک میگزین کے مطابق مذاکرات کاروں نے ایک ایسا فریم ورک تیار کیا ہے جس کے تحت ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے کا وعدہ کرے گا، جبکہ اقتصادی فوائد اسی صورت میں ملیں گے جب وہ اپنے وعدوں پر عمل کرے گا۔ امریکی حکام اس نظام کو "اعتماد" کے بجائے "قابلِ تصدیق اقدامات" پر مبنی قرار دے رہے ہیں۔
امریکی داخلی سیاست بھی اس عمل پر اثر انداز ہورہی ہے۔ جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ، ایندھن کی مہنگائی اور عوامی بے چینی نے وائٹ ہاؤس پر دباؤ بڑھایا ہے۔ رائٹرز کے مطابق بعض ریپبلکن رہنماوں کو خدشہ ہے کہ اگر جنگ جاری رہی تو نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں انھیں سیاسی نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے۔
دوسری جانب ایران اس معاہدے کو اپنی کامیابی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ عباس عراقچی کے بقول مجوزہ معاہدہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران شدید فوجی دباؤ کے باوجود اپنی سالمیت اور علاقائی حیثیت برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔
اسرائیل کا موقف اس سارے عمل میں سب سے زیادہ پیچیدہ دکھائی دیتا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اعلان کرچکے ہیں کہ ان کا ملک اس معاہدے کا فریق نہیں ہوگا۔ اسرائیلی حکام کا اصرار ہے کہ انھیں ایران سے لاحق خطرات کے خلاف کارروائی کی مکمل آزادی حاصل رہنی چاہیے۔ یہ اختلاف مستقبل میں معاہدے کے لیے بڑا چیلنج بن سکتا ہے کیونکہ اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ لیکن صدر ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ وہ جو بھی معاہدہ کریں گے، اسرائیل اسے قبول کرے گا۔
معاہدے کی خبروں کے فوری اثرات سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں بہتری آئی جبکہ خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔ برینٹ کروڈ تین فیصد سے زیادہ گر کر تقریباً دو ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا۔ فنانشل ٹائمز نے بھی رپورٹ کیا کہ تیل کی قیمتوں میں ابتدائی طور پر پانچ فیصد تک کمی آئی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کو احساس ہوچکا ہے کہ مسلسل تصادم کے اخراجات سفارت کاری کے اخراجات سے کہیں زیادہ ہیں۔ اگر آبنائے ہرمز کھل جاتی ہے، جوہری مذاکرات آگے بڑھتے ہیں اور اقتصادی رعایتوں کے بدلے عملی اقدامات سامنے آتے ہیں تو اس سے فریقین ہی کو نہیں، ساری دنیا کو فائدہ ہوگا۔

