Saturday, 13 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Peer Intizar Hussain Musawir
  4. Laal, Jauhari Aur Masharti Naqadri

Laal, Jauhari Aur Masharti Naqadri

لعل، جوہری اور معاشرتی ناقدری

انسانی معاشروں کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی تہذیب زوال کا شکار ہوتی ہے، تو اس کی سب سے بڑی نشانی یہ ہوتی ہے کہ وہاں مخلص، دیانتدار اور باصلاحیت لوگوں کی قدر ختم ہو جاتی ہے۔ ہمارے اردگرد پھیلے دیہی، جاگیردارانہ اور کاروباری ماحول میں یہ منظر اب ایک مستقل روایت بن چکا ہے جہاں انسان کی غیرتِ نفس، اس کی قابلیت اور اس کے خون پسینے کو چند ٹکوں کے عوض خریدنے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے۔ مصلحت پسند طبقہ ہمیشہ ہنر مندوں کو مجبور رکھ کر اپنا الو سیدھا کرنا چاہتا ہے۔ اس سارے نظام کی اصل حقیقت اور بے حسی کو سمجھنے کے لیے لوک داستانوں میں بیان کردہ ایک قدیم اور سبق آموز حکایت ذہن کے پردے پر ابھرتی ہے، جو آج کے دور کے تلخ حقائق پر بالکل فٹ بیٹھتی ہے۔

حکایت کچھ یوں ہے کہ ایک کمہار کو، جو گدھے چرایا کرتا تھا، کہیں سے ایک نایاب اور چمکتا ہوا لعل مل گیا۔ وہ بیچارہ مٹی کے برتن بنانے اور گدھوں پر لادنے والا ایک عام سا بندہ تھا، وہ اس قیمتی لعل کی اصل وقعت اور تاریخ سے بالکل ناواقف تھا۔ اس نے سوچا کہ یہ کوئی عام سا چمکنے والا پتھر ہے، چلو خوبصورتی کے لیے اسے اپنے گدھے کے گلے میں باندھ دیتا ہوں۔ چنانچہ وہ نایاب لعل کئی دنوں تک ایک گدھے کے گلے میں لٹکا رہا اور مٹی دھول میں اٹا رہا۔ کمہار اسے محض ایک چمکتا ہوا کھلونا سمجھ کر خوش ہوتا رہا۔

ایک دن وہاں سے ایک جوہری گزرا، جو مزاج کا جواری اور موقع پرست بھی تھا۔ اس کی نظر گدھے کے گلے میں چمکتے ہوئے اس لعل پر پڑی تو اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ وہ جانتا تھا کہ یہ کوئی عام پتھر نہیں، بلکہ ایک ایسا قیمتی ہیرا ہے جس کی قیمت پوری بادشاہت کے برابر ہو سکتی ہے۔ جوہری کے دل میں لالچ آ گیا، اس نے سوچا کہ کمہار تو نادان ہے، کیوں نہ اس کی بے خبری کا فائدہ اٹھا کر یہ لعل مفت کے بھاؤ ہتھیا لیا جائے۔ اس نے کمہار سے بڑے بے نیازی کے انداز میں پوچھا: "میاں کمہار! اپنے گدھے کے گلے میں یہ جو منکا لٹکایا ہوا ہے، کیا اسے بیچو گے؟" کمہار نے ہنس کر کہا: "ہاں لے لو، مجھے اس عام سے پتھر کا کیا کرنا ہے، بولو کتنے پیسے دو گے؟" جوہری نے اپنی چالاکی اور لالچ چھپاتے ہوئے کہا: "میں تمہیں اس کے بدلے دو اشرفیاں دوں گا"۔ کمہار نے جھٹ سے وہ لعل گدھے کے گلے سے اتارا اور دو اشرفیاں لے کر لعل جوہری کے ہاتھ میں تھما دیا۔

کمہار تو خوش ہوگیا کہ ایک فضول پتھر کے بدلے اسے دو اشرفیاں مل گئیں، لیکن جیسے ہی وہ لعل اس مصلحت پسند اور لالچی جوہری کے ہاتھ میں آیا، وہ یکدم تڑخ گیا اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔ جوہری یہ دیکھ کر ہکا بکا رہ گیا اور چیخ اٹھا: "یہ کیا ہوا؟ میری دو اشرفیاں بھی گئیں اور اتنا قیمتی لعل بھی ٹوٹ گیا!" تب اس لعل کے ٹکڑوں سے ایک آواز آئی، لعل بول پڑا: "اے نادان جوہری! اس کمہار کو تو میری پہچان نہیں تھی، وہ تو علم و شعور سے عاری تھا، اسی لیے اس نے مجھے گدھے کے گلے میں لٹکائے رکھا۔ اس کو میری قیمت کا اندازہ نہیں تھا، اس لیے اس کا یہ رویہ سمجھ میں آتا ہے، لیکن تو تو جوہری تھا! تو تو میری اصل قیمت سے واقف تھا کہ میں پوری بادشاہت خرید سکتا ہوں۔ جب تجھے میری وقعت کا علم تھا، تو پھر بھی تو نے میری قیمت صرف دو اشرفیاں لگائی؟ تیری اس کم ظرفی، منافقت اور ناقدری نے میرا دل توڑ دیا اور میں تیرے ہاتھ لگتے ہی ریزہ ریزہ ہوگیا"۔

یہ حکایت ہمارے آج کے دور کے مروجہ معاشرتی اور طبقاتی رویوں کا ایک سچا آئینہ ہے۔ اس کہانی میں کمہار دراصل وہ روایتی، بے حس اور طاقتور مالکان، جاگیردار یا سرمایہ دار ہیں جن کے اداروں اور ڈیروں پر مخلص، شریف اور باصلاحیت لوگ اپنی زندگی کے قیمتی سال داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ یہ مالکان ان محنت کشوں اور سفید پوشوں کی ایمانداری اور مجبوری کو اپنا خاندانی حق سمجھنے لگتے ہیں۔ مہینوں تک ان کے واجبات روک لیے جاتے ہیں، ان کے بچوں کے مستقبل اور تعلیم کی کوئی پرواہ نہیں کی جاتی اور ان کو مسلسل ایک ایسے ذہنی دباؤ میں رکھا جاتا ہے جہاں وہ خود کو ایک غلام محسوس کرنے لگیں۔ ان سرمایہ داروں اور زمینداروں کے نزدیک ایک پڑھے لکھے، خوددار اور صابر انسان کی حیثیت گدھے کے گلے میں بندھے اس پتھر جیسی ہوتی ہے جس سے وہ صرف اپنا الو سیدھا کرنا جانتے ہیں۔

اور دوسری طرف اس معاشرے میں وہ مصلحت پسند جوہری موجود ہیں جو انسان کی ضرورت کا فائدہ اٹھانے کے لیے "جذباتی بلیک میلنگ" کا پورا جال بنتے ہیں۔ جب کوئی خوددار اور غیرت مند انسان اس ماحول کی گھٹن، ناانصافی اور ٹارچر سے تنگ آ کر وہاں سے نکلنے کا، یا اپنی راہ جدا کرنے کا فیصلہ کرتا ہے، تو یہ لوگ یکدم بڑے ہمدرد اور مخلص بن کر سامنے آ جاتے ہیں۔ وہ بڑی چکنی چپڑی باتیں کرتے ہیں، تسلیاں دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ "باہر کی دنیا بڑی ظالم ہے، وہاں بڑی خواری ہے، تم یہاں سے جا کر کیا کرو گے؟ تم یہیں رک جاؤ ہم تمہارا کوئی اور بندوبست کر دیتے ہیں"۔ یہ وہ جواری ہیں جو سامنے والے کی صلاحیت اور اس کے اندر چھپے "لعل" سے بخوبی واقف ہوتے ہیں، لیکن وہ اس کی قیمت ہمیشہ "دو اشرفیاں" یعنی انتہائی کم لگانا چاہتے ہیں تاکہ وہ بندہ کبھی ان کے چنگل اور اس غلامانہ دائرے سے آزاد نہ ہو سکے۔ ان کی ہمدردی مخلصانہ نہیں ہوتی، بلکہ ایک سستا اور ایماندار کارکن کھو دینے کا خوف ہوتی ہے۔

لیکن اس پوری داستان میں سب سے کاٹ دار اور بڑا سبق اس لعل کا ٹوٹ جانا ہے۔ لعل کا ٹوٹنا دراصل ایک غیرت مند انسان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونا ہے۔ یہ اس خوددار ضمیر کی آواز ہے جو یہ جان لیتا ہے کہ اب مصلحتوں کے نام پر مزید جھکنا خود پر اور اپنے خاندان پر ظلم کرنے کے مترادف ہے۔ جب ایک خوددار انسان یہ دیکھتا ہے کہ اس کی مخلصانہ محنت کا صلہ صرف ذہنی اذیت اور واجبات کی بندش کی صورت میں مل رہا ہے، تو اس کا دل اس ماحول سے ہمیشہ کے لیے اچاٹ ہو جاتا ہے۔ وہ پھر ان کے کھوکھلے وعدوں اور جذباتی بلیک میلنگ کے جال میں نہیں آتا۔ وہ دو اشرفیوں کے عوض اپنی خودی کا سودا کرنے کے بجائے، وہاں سے نکل کھڑا ہونے کو ترجیح دیتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ عزت کے بغیر جینا اصل موت ہے۔

اگر انسان کے پاس اللہ کی ذات پر پکا توکل اور ایمان ہو، تو وہ کائنات کے سب سے بڑے رزاق پر اپنا معاملہ چھوڑ دیتا ہے۔ جو خدا پرندوں کو ان کے گھونسلوں میں اور پتھروں میں چھپے کیڑوں کو بھی رزق دیتا ہے، وہ اپنے بندے کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ جب ایک نظام انسان پر اپنے دروازے بند کرتا ہے، تو قدرت غیب سے نئے راستے اور وسیلے پیدا کر دیتی ہے۔ کبھی وہ کسی نئی شروعات کی صورت میں غیبی مدد کا اشارہ بن کر سامنے آتے ہیں تو کبھی نئی جگہوں پر روزگار کے بہتر مواقع پیدا کر دیتے ہیں۔ اصل شرط یہ ہے کہ انسان کو اپنی قیمت کا خود اندازہ ہونا چاہیے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر وہ انسان جو کسی بھی جگہ، چاہے وہ کوئی ڈیرہ ہو، فیکٹری ہو یا کوئی ادارہ، اگر وہ ذہنی اذیت اور ناقدری کا شکار ہے، تو وہ اپنی خودی کو پہچانے۔ کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے یا خاموشی سے کڑھنے کے بجائے، صاف اور سیدھی بات کرکے اپنے راستے جدا کر لینا ہی اصل کامیابی ہے۔ کمہاروں کے ڈیرے پر گدھے کے گلے کا منکا بن کر دھول چاٹنے سے ہزار گنا بہتر ہے کہ انسان اپنی پرواز کے لیے نیا آسمان تلاش کرے۔ رزق تو رب العزت نے دینا ہے اور جب نیت صاف اور توکل مضبوط ہو، تو کامیابی قدم چومتی ہے۔ سیزن اور فصلیں تو اپنے وقت پر آتی جاتی رہیں گی اور مالکان کے گودام بھرتے رہیں گے، لیکن ایک خوددار انسان کا اپنی خودی کے حق میں اٹھایا گیا ایک فیصلہ اس کی آنے والی نسلوں کے لیے ایک آزاد اور پروقار زندگی کا آغاز ثابت ہوتا ہے۔ لعل کو اپنی قیمت خود پہچاننی ہوگی، ورنہ یہ دنیا اسے گدھے کے گلے میں ہی لٹکائے رکھے گی۔

Check Also

Awami Action Committee Aik Fitna

By Hameed Ullah Bhatti