Zehreely Afrad Ke Sath Nibah Ka Hunar
زہریلے افراد کے ساتھ نباہ کا ہنر

یہ کتاب معروف موٹیویشنل اسپیکر، استاد اور مصنف قاسم علی شاہ کے خیالات، تجربات اور مشاہدات پر مبنی ہے۔ ان کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ زندگی میں ہمیں ایسے لوگوں کا سامنا ضرور ہوتا ہے جو ہماری توانائی، خوشی اور خود اعتمادی کو متاثر کرتے ہیں، لیکن ایسے افراد کے ساتھ دانشمندی، صبر اور جذباتی بلوغت کے ذریعے ان کے ساتھ نباہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ کتاب بنیادی طور پر چار حصوں پر مشتمل ہے۔
پہلا حصہ ان چبھنے والے افراد کے بارے میں ہے جن میں بعض اوقات جانوروں جیسی خصلتیں آ جاتی ہیں۔ دوسرے حصے میں چبھنے والے افراد کی فطرت کو سمجھنے کے حوالے سے بنیادی رہنمائی کی گئی ہے۔ کتاب کے تیسرے حصے میں بتایا گیا ہے کہ زہریلے یا چبھنے والے انسانوں سے ہمارا سامنا کہاں کہاں ہوتا ہے اور ہم انہیں کیسے ہینڈل کر سکتے ہیں، چوتھا اور آخری حصہ اس زہریلے انسان کے بارے میں ہے جو کہیں نہ کہیں ہمارے اندر ہی موجود ہے اور ہمیں اگے نہیں بڑھنے دیتا۔
10 جون کو جب قاسم علی شاہ صاحب ایک سرپرائز وزٹ پر ملکوال میرے پاس تشریف لائے تو رخصت ہوتے ہوئے انہوں نے مجھے اپنی یہ کتاب تحفے میں دی۔ مجھے یہ اتنی دلچسپ لگی کہ میں نے یہ ایک ہی بیٹھک میں یہ ساری کتاب ختم کر دی۔
معروف ماہر نفسیات البرٹ ایلس نے کہا تھا "ہمیں کوئی شخص پریشان نہیں کر سکتا جب تک ہم خود اس کی اجازت نہ دیں" زہریلے افراد بھی ہمیں کبھی پریشان نہیں کر سکتے اگر ہم انہیں اچھی طرح سمجھ جائیں۔ شاہ صاحب نے اس کتاب میں بتایا ہے کہ زہریلے افراد کون سے ہوتے ہیں؟ ان کے مطابق زہریلے افراد (Toxic People) وہ ہوتے ہیں جو ہر بات میں منفی پہلو تلاش کرتے ہیں، دوسروں کی کامیابی سے حسد کرتے ہیں، مسلسل تنقید کرتے ہیں، جذباتی طور پر دوسروں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے ہیں، دوسروں کی خوشیوں کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور مسائل پیدا کرتے ہیں لیکن کسی بھی مسئلے کا حل نہیں دیتے۔ ایسے لوگ ہمارے دفتر، خاندان، دوستوں یا حتیٰ کہ قریبی رشتہ داروں میں بھی موجود ہو سکتے ہیں۔
مصنف نے اس کتاب میں پہلا سبق تو یہ دیا ہے کہ ہر شخص کو بدلنا ہماری ذمہ داری نہیں ہوتا۔ ہم میں سے اکثر لوگ اپنی زندگی کا بڑا حصہ دوسروں کو بدلنے کی کوشش میں ضائع کر دیتے ہیں۔ شاہ کے مطابق "آپ کسی شخص کی فطرت تبدیل نہیں کر سکتے، لیکن اس کے رویے کے بارے میں اپنا ردعمل ضرور تبدیل کر سکتے ہیں"۔ جب ہم دوسروں کو بدلنے کی کوشش چھوڑ دیتے ہیں تو ذہنی سکون حاصل کرنا آسان ہو جاتا ہے۔
اس کتاب کا دوسرا سبق یہ ہے کہ اپنی حدود (Boundaries) قائم کریں۔ مصنف بار بار اس بات پر زور دیتے ہیں کہ عزتِ نفس کی حفاظت بہت ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص بار بار بے عزتی کرے، آپ کی کامیابی کو کم تر ثابت کرے، آپ کے جذبات سے کھیلنے کی کوشش کرے تو اس کے ساتھ واضح حدود مقرر کرنا ضروری ہے۔ حدود قائم کرنے کا مطلب بدتمیزی نہیں بلکہ اپنی عزت کا تحفظ ہے۔
کتاب میں جو تیسری اہم بات بتائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ہر لڑائی لڑنا ضروری نہیں ہوتا۔ بعض لوگ صرف بحث، جھگڑے اور تنازعے سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اس لیے ایسے افراد کی کسی بات کا جواب نہ دیں، ہر الزام کا دفاع نہ کریں اور ہر بحث میں اپنی توانائی ضائع نہ کریں۔ بعض اوقات خاموشی سب سے طاقتور جواب ہوتی ہے۔
کتاب میں چوتھا سبق یہ ہے کہ کامیاب لوگ وہ نہیں جو کبھی غصہ نہیں کرتے بلکہ وہ ہیں جو اپنے جذبات کو سمجھتے اور کنٹرول کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ شاہ جی کا کہنا ہے کہ غصے کے وقت فوری ردعمل نہ دیں، جذباتی فیصلوں سے بچیں، دوسروں کی باتوں کو ذاتی حملہ نہ سمجھیں اور اپنی ذہنی کیفیت کا خیال رکھیں۔
کتاب میں پانچواں اور دلچسپ نکتہ یہ ہے کہ ہر منفی شخص بھی ہمیں کوئی نہ کوئی سبق سکھا سکتا ہے۔ مثلاً مغرور شخص ہمیں عاجزی کی اہمیت سکھاتا ہے، حسد کرنے والا ہمیں شکرگزاری کا درس دیتا ہے، غصے والا شخص ہمیں برداشت سکھاتا ہے اور اس طرح منفی لوگ بھی ہماری شخصیت کی تعمیر میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
شاہ صاحب اس کتاب میں جو چھٹا نقطہ سمجھاتے ہیں وہ یہ ہے کہ اپنی خود اعتمادی میں اضافہ کریں۔ زہریلے افراد اکثر ان لوگوں پر زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں جن کی خود اعتمادی کمزور ہو۔ آپ اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں، اپنی کامیابیوں کو یاد رکھیں، اپنی کمزوریوں پر کام کریں اور دوسروں کی رائے کو حقیقت نہ سمجھ لیں۔ جس شخص کو اپنی قدر معلوم ہو، وہ دوسروں کے منفی رویوں سے کم ہی متاثر ہوتا ہے۔
کتاب میں ساتویں اہم بات معافی کی اہمیت پر زور ہے۔ شاہ صاحب کے مطابق ہم نے اپنے دل کو سکون دینا ہے، نفرت کا بوجھ اتارنا ہے۔ ذہنی آزادی حاصل کرنی ہے لیکن ساتھ یہ بات بھی یاد رکھنی ہے کہ "معاف کرنا اور دوبارہ اعتماد کرنا دو مختلف چیزیں ہیں"۔ ہر معاف کیا گیا شخص دوبارہ آپ کی زندگی میں وہی مقام حاصل کرے، یہ ضروری نہیں۔
اس کتاب میں شاہ جی نے جو آٹھواں اہم سبق بتایا ہے وہ یہ ہے کہ مثبت سوچ رکھنے والے لوگوں کے ساتھ وقت گزاریں۔ کامیاب افراد سے سیکھیں، اچھے اساتذہ اور رہنماؤں کی صحبت اختیار کریں اور سب سے اہم بات شکایت کرنے والوں کے بجائے حل تلاش کرنے والوں کے ساتھ رہیں۔ اس کتاب کا نواں سبق ایک خوبصورت پیغام ہے کہ: "اپنی خوشی کی چابی دوسروں کے ہاتھ میں مت دیں"۔ اگر آپ کی خوشی لوگوں کی تعریف پر منحصر ہے، دوسروں کے رویوں پر منحصر ہے یا ان کی منظوری پر منحصر ہے تو آپ ہمیشہ پریشان رہیں گے۔
یاد رکھیں حقیقی خوشی ہمیشہ اندر سے پیدا ہوتی ہے۔ اگر میں مختصرا اس کتاب کا خلاصہ بیان کروں تو یہ کتاب ہمیں سکھاتی ہے کہ زندگی میں زہریلے لوگوں کا وجود ایک اٹل حقیقت ہے، ان سے مکمل طور پر بچنا ممکن نہیں لیکن ان کے اثرات سے خود کو محفوظ رکھنا ممکن ہے۔ شاہ جی کے مطابق کامیاب انسان وہ نہیں جو مشکلات سے بچ جائے، بلکہ وہ ہے جو مشکل لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی اپنے کردار، سکون اور مثبت سوچ کو برقرار رکھے۔ لہذا میرے خیال میں"زہریلے افراد کے ساتھ نباہ کا ہنر" محض ایک کتاب نہیں بلکہ یہ کتاب اچھے تعلقات، خود اعتمادی اور جذباتی ذہانت کو بہتر بنانے میں عملی رہنمائی کرتی ہے۔ یہ کتاب سکھاتی ہے کہ دوسروں کے رویوں کو کنٹرول کرنے کے بجائے اپنے ردعمل کو بہتر بنایا جائے، اپنی عزتِ نفس کی حفاظت کی جائے اور زندگی کو منفی لوگوں کے رحم و کرم پر نہ چھوڑا جائے۔
جو شخص ان اصولوں پر عمل کر لیتا ہے وہ نہ صرف زہریلے افراد کے ساتھ بہتر انداز میں نباہ کر سکتا ہے بلکہ زیادہ پُرسکون اور خوشگوار زندگی بھی گزار سکتا ہے۔ اس کتاب کے بیک پیج پر ان زہریلے افراد کے بارے میں مجھے وصی شاہ یہ شعر بہت اچھا لگا۔
جگر ہو جائے گا چھنی یہ آنکھیں خون روئیں گی
وصی بے فیض لوگوں سے نبھا کر کچھ نہیں ملتا

