Main, Tum Aur Hum: Aik Muasharti Tamasha
میں، تم اور ہم: ایک معاشرتی تماشا

کہتے ہیں کہ ایک گھر میں رکھا ہوا ایک گلدان صفائی کے دوران بیوی کے ہاتھوں سے گر ٹوٹ گیا۔ گھر میں دونوں میاں بیوی کے علاوہ کوئی نہ تھا۔ اس لیے تین دن تک گھر بھر میں یہ فیصلہ نہ ہو سکا کہ یہ گلدان کس کی غلطی کی وجہ سے ٹوٹا ہے؟ آخر کار تیسرے دن فیصلہ یہ سامنے آیا کہ یہ گلدان خاوند کی غلطی کی وجہ سے ٹوٹا ہے جس نے ایک ماہ قبل یہ گلدان اس غلط جگہ پر لاکر رکھ دیا تھا اگر یہ کسی محفوظ جگہ پر ہوتا تو کبھی نہ ٹوٹتا اور دوسریی وجہ یہ بھی سامنے آئی کہ گلدان خریدا ہی غلط گیا تھا کیونکہ یہ بہت چکنی اور نازک مٹی سے بنا تھا اس لیے ہاتھ سے گر کر نہیں بلکہ پھسل کر ٹوٹ گیا۔ شاید یہ تو تھا ایک لطیفہ لیکن ہماری روزمرہ زندگی میں یہ سب دیکھنے اور سننے کو اکثر ملتا رہتا ہے۔
میری بیوی بڑی سمجھ دار خاتون ہے۔ جب کوئی کام اچھا ہوجائے تو کہتی ہے کہ دیکھا "میں نے یہ فیصلہ اچھا کیا ہے" اور اگر کچھ غلط ہوجائے تو کہتی ہے کہ "تم ہمیشہ ہی غلط فیصلہ کرتے ہو" اور اگر نہ اچھاہی ہو اور نہ کچھ برائی بھی نظر نہ آئے تو کہے گی کہ "دیکھا ہم نے یہ فیصلہ درست کیا ہے" میری پوری زندگی اسی "میں، تم اور ہم" میں ہی گزر گئی۔ اپنے ارد گرد دیکھا تو یہ احساس ہوا کہ یہ صرف میرئے گھر کا مسئلہ نہیں بلکہ رشتوں کی نفسیات میں یہ عام رویہ اور اسے سمجھنا ہی اس کا حل نکالنے کی پہلی سیڑھی بھی ہے۔ یہ صرف کسی ایک سمجھدار بیوی کا ہی انداز نہیں بلکہ پورا معاشرہ اسی "میں، تم اور ہم" کے دائرئےمیں گھوم رہا ہے۔ "میں" کا مطلب "کامیابی" ہے جبکہ "تم" کا مطلب "ناکامی"ہے اور "ہم" کا مطلب "نارمل حالات" (نہ کامیابی اور نہ ناکامی) ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میرئے حصے میں شادی کے بعد کامیابی کبھی نہیں آئی اور میری بیگم کبھی ناکام نہیں ہوئی لیکن کبھی کبھی ہم دونوں بیک وقت کامیاب یا ناکام ضرور ہو جاتے ہیں۔
یہ انسانی فطرت ہے کہ انسان کامیابی کو اپنے نام کرنا چاہتا ہے۔ اس میں خوداعتمادی بھی ہوتی ہے اور ایک طرح کی لاشعوری خوشی اور فخر بھی کہ "میں نے اچھاکام کیا" البتہ ناکامی کی صورت میں یہاں معاملہ تھوڑا نازک ہو جاتا ہے۔ غلطی کا بوجھ کوئی بھی آسانی سے برداشت اور قبول نہیں کرتا۔ اس لیے لاشعوری طور پر انسان ذمہ داری دوسرئے پر ڈال دیتا ہے تاکہ خود کو قصور وار محسوس نہ کرنا پڑے۔ جبکہ سب کچھ ٹھیک ہو تو "ہم" کا لفظ آتا ہے کیونکہ وہاں نہ کریڈٹ کا مسئلہ ہوتا ہے اور نہ الزام کی بات ہوتی ہے۔ بس ایک مشترکہ زندگی کا بہاؤہوتا ہے۔ یعنی کامیابی "میری"، ناکامی "تمہاری" اور معمول "ہمارا" مشترکہ۔
گھر کی چار دیواری میں بیٹھا ایک عام سا شوہر جب اپنی بیوی کی گفتگو سنتا ہے تو اسے یوں لگتا ہے جیسے وہ کسی عالمی سیاسی کانفرنس میں شریک ہو۔ فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ یہاں اقوام متحدہ کی جگہ ڈرائنگ روم ہوتا ہےاور قراردادوں کی جگہ ایک چائے کی پیالی ہوتی ہے۔ جہاں بیوی بڑے فخر سے کہتی ہے "ذرا دیکھو آج کھانا کتنا مزیدار بنا ہے" یہ میں نے خود بنایا ہے اور شوہر مسکرا دیتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ آج اس کی تعریف کادن ہے اور اگر اگلے دن نمک زیادہ ہو جائے تو اعلان ہوتا ہے کہ یہ تمہاری غفلت کی وجہ سے ہواہے تم دھیان سے خریداری نہیں کرتے اس مرتبہ نمک اچھی کمپنی کا نہیں خریدکر لائے اور اگر تیسرے دن کھانا بس ٹھیک ٹھاک ہو تو فیصلہ آتا ہے کہ "ہم نے مل کر ہی بنایا تھا" اور نمک بھی ہمسائی سے مانگ کر ڈالا ہے۔
یہ "میں، تم اور ہم" کا کھیل صرف گھر تک محدود نہیں۔ یہی فارمولا ہمارے معاشرے، سیاست اور اجتماعی رویوں میں بھی پوری آب و تاب سے چل رہا ہے۔ جب کوئی منصوبہ کامیاب ہوجائے تو ہمارے سیاستدان سینہ تان کر کہتے ہیں کہ "میں نے ملک کو ترقی دی" اور جب حالات بگڑ جائیں تو فوراََ انگلیاں دوسری جانب اٹھتی ہیں کہ یہ سب پچھلی حکومت اور سیاستدانوں کا کیا دھرا ہے۔ لیکن جب حالات بہت اچھے نہ ہوں اور نہ ہی بہت برئے تو سب آکر کہتے ہیں کہ ہم سب نے مل کر کام کرنا ہوگا۔
یہی حال ہمارےدفاتر کا ہے، جہاں کامیابی باس کی اور ناکامی ماتحت کی ہو جاتی ہے اور یہی رویہ سوشل میڈیا پر بھی دکھائی دیتا ہے، جہاں ہر شخص خود کو حق پر اور دوسرے کو غلط ثابت کرنے میں مصروف ہے۔ اصل میں یہ ایک نفسیاتی کھیل ہے انسان اپنی انا کو بچانے کے لیے کامیابی کو سینے سے لگاتا ہے اور ناکامی کو دوسروں کے کھاتے میں ڈال دیتا ہے۔ یہ رویہ وقتی طور پر دل کو تسکین دیتا ہے، مگر آہستہ آہستہ رشتوں، اداروں اور پورے معاشرے کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر ہر کوئی "میں" کو اوپر اور "تم" کو نیچے رکھے گا تو "ہم" کہاں زندہ رہے گا؟
رشتے ہوں یا ریاست، ان کی بنیاد "ہم" پر ہوتی ہے۔ جب "میں" حد سے بڑھ جائے تو فاصلے پیدا ہوتے ہیں اور جب "تم" پر الزام زیادہ ہو تو دلوں میں دراڑیں آتی ہیں۔ حل شاید بہت مشکل نہیں اگر کامیابی پر ہم یہ کہہ دیں کہ یہ ہم سب کی محنت ہے اور ناکامی پر بھی اتنی ہمت کر لیں کہ اس میں میری بھی غلطی ہے تو نہ صرف رشتے مضبوط ہوں گے بلکہ معاشرہ بھی سنورنے لگے گا۔ کیونکہ سچ یہ ہے کہ زندگی کوئی مقابلہ نہیں، ایک شراکت ہے۔ یہاں جیت تب ہوتی ہے جب "میں" اور "تم" مل کر "ہم" بن جائیں۔ ورنہ گھر میں بیوی جیتتی رہے گی اور سیاست میں لیڈران اور ہارتا ہمیشہ "ہم" رہے گا۔ ناجانے کب تک ہم اس "میں" اور "تم" اور پھر "ہم" کے دائروں میں گھومتے رہیں گے؟

