Saturday, 13 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Saad Makki Shah
  4. Asaan Te Honda Ee Lawan Ge

Asaan Te Honda Ee Lawan Ge

اساں تے ھونڈا ای لواں گے

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں 838 ارب، یعنی 83,800 کروڑ روپے رکھے گئے ھیں۔ پاکستان کے کل اضلاع کی تعداد بشمول آزاد کشمیر و گلگت بلتستان 171 ہے۔ بالفرض میری یوٹوپیائی سوچ کے مطابق یہ 83800 کروڑ روپے 171 اضلاع میں مساوی تقسیم کر دئیے جائیں تو فی ضلع 490 کروڑ روپے حصے میں آتا ہے۔ یقیناً بڑے چھوٹے اضلاع کے تناسب سے یہ رقم کہیں کم اور کہیں زیادہ بھی کی جا سکتی ہے۔

اب ایک ضلع میں تقریباً اس پانچ ارب سے۔۔ ایک ارب کا زنانہ، ایک ارب کا مردانہ کارخانہ، فیکٹری، انڈسٹری لگائی جا سکتی ہے۔۔! باقی تین ارب روپے 3000 نوجوانوں کو فی کس دس لاکھ روپے کا بلا سود کاروباری قرضہ دے دیا جائے۔۔ کیا یہ زیادہ بہتر نہیں ہے؟ ملک بھر میں 513000 نوجوان بچے، بچیاں سال بھر میں اپنے پیروں پر کھڑے ھو سکتے ھیں۔۔!

ایک ایک ارب کی چھوٹی انڈسٹری بنتے ھوئے بھی ھزاروں لوگوں کو روزگار ملے گا اور انڈسٹری بن جانے کے بعد لاکھوں کو۔۔!

لیکن نہیں۔۔ "میں تے ھونڈا ای لے ساں"

کیا مقتدر حضرات نے یہ عظیم مقولہ نہیں سنا ھوا کہ۔۔!

مفت کا کھودنا، زمین کا نقصان

اور یہ عام مقولہ۔۔ "مال مفت، دل بے رحم"

عالی جناب۔۔ بحیثیت قوم ھماری جبلت ہے کہ ھمیں مفت میں آگ بھی ملے تو ھم لے لیتے ھیں۔۔!

یقیناً بہت سے مستحق، بزرگ لوگ بھی اس سے مستفید ھو رھے ھیں۔۔ مگر اکثریت ھڈ حرام اور بھکاری ذھنیت بھی ھو رھے ھیں۔۔!

حدیثِ مبارکہ کا مفہوم بھی ہے کہ مچھلی دینے کی بجائے مچھلی پکڑنا سکھانا بہتر ہے۔۔!

قوم کو بھکاری بنائے رکھنا، قطاروں میں لگائے مصروف رکھنا اور پھر ان سے سیاسی فائدے کشید کرنا ھی حقیقی مطمع نظر ہے اشرافیہ کا۔۔!

کبھی محترمہ بے نظیر کے نام کو کیش کرانا، کبھی شہباز شریف تو کبھی احساس پروگرام۔۔!

کوئی نہ آ کر یہ بتائے کہ بیرونی امداد ھی اسی شرط پر ملتی ہے کہ غرباء و مساکین میں تقسیم ھوں۔۔!

کیا آپ نے ان بیرونی امداد دہندگان کو یہ تجاویز دی ھیں کہ غربت کی سطح سے نیچے والوں کو روزگار دینے، اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کیلئے طریقہ کار بدلا جائے؟

نہیں بھکاری رکھا جائے گا؟ اشرافیہ کا مفاد اسی میں ہے۔۔!

اور قوم کے بہت سے نابغے۔۔ اپنے اپنے بتوں کی خوشامد میں اس بھیک کلچر کی حمایت کرنے دوڑے چلے آتے ھیں۔۔!

اچھا بتائیں، کوئی ایک مثال دیں کہ بھیک سے کوئی قوم اپنے پاؤں پر کھڑی ھوئی ھو؟

بی آئی ایس پی سے پیسے لینے والے لاکھوں میں سے کوئی ایک؟ کوئی ایک فرد اپنے پیروں پر کھڑا ھوا ھو اور اس نے آ کر کہا ھو کہ جناب۔۔ بس۔۔ اب میں برسر روزگار ھو گیا ھوں۔۔! میرا اکاؤنٹ بند کر دیں۔۔!

افلاطون نے مثالی ریاست کا تصور پیش کیا تھا۔۔!

اس کے شاگرد ارسطو نے اسے رد کیا اور کہا کہ زمینی حقائق کے پیشِ نظر مثالی دنیا وجود میں نہیں آ سکتی۔۔!

دونوں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے۔۔!

یار کچھ نہ کچھ مثالی تو دنیا کرنے کی کوشش کرتی ھی رھتی ہے۔۔ سکینڈے نیوین ممالک، خلیجی ریاستیں اور دنیا بھر میں دیگر فلاحی ریاستیں کیا کلی طور پر یہی کچھ کر رھی ھیں؟ جو ھم کر رھے ھیں؟

بک رھا ھوں جنوں میں کیا کیا کچھ۔۔!

اور بحیثیتِ قوم۔۔!

"اساں تے ھونڈا ای لواں گے"

Check Also

Beti Ko Shehad Ki Makhi Banaiye, Sirf Titli Nahi

By Ayesha Batool