Saturday, 13 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Ayesha Batool
  4. Beti Ko Shehad Ki Makhi Banaiye, Sirf Titli Nahi

Beti Ko Shehad Ki Makhi Banaiye, Sirf Titli Nahi

بیٹی کو شہد کی مکھی بنائیے، صرف تتلی نہیں

کچھ دن پہلے میری طبیعت خراب تھی اور میں ہسپتال گئی۔ وہاں ایک شخص مٹھائی تقسیم کر رہا تھا۔ چہرے پر خوشی تھی، آنکھوں میں چمک تھی۔ اس نے بتایا کہ اس کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی ہے۔ وہ ہر چھوٹے بڑے کو مٹھائی پیش کر رہا تھا اور اپنی خوشی بانٹ رہا تھا۔

اس منظر نے مجھے خوش بھی کیا اور سوچنے پر بھی مجبور کر دیا۔

بیٹی کی پیدائش پر خوش ہونا یقیناً ایک خوبصورت احساس ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم بیٹی کے پیدا ہونے پر ہی خوش ہوتے ہیں یا اس کے اپنے وجود، اپنی شخصیت اور اپنی رائے پر بھی خوش ہوتے ہیں؟

اکثر والدین بیٹیوں سے بے پناہ محبت کرتے ہیں، ان کے لیے قربانیاں دیتے ہیں، انہیں بہترین سہولیات فراہم کرتے ہیں۔ لیکن جب وہی بیٹی بڑی ہو کر جائز اور ناجائز میں فرق کرنا سیکھتی ہے، اپنی رائے دیتی ہے، اپنا حق مانگتی ہے یا اپنی زندگی کے بارے میں سوچنا شروع کرتی ہے تو بعض اوقات یہی محبت آزمائش میں پڑ جاتی ہے۔

ہم بیٹیوں کو فرمانبرداری تو سکھاتے ہیں لیکن خود اعتمادی نہیں۔ ہم انہیں برداشت تو سکھاتے ہیں لیکن اپنے حق کے لیے کھڑا ہونا نہیں سکھاتے۔ ہم انہیں نرم دل بناتے ہیں مگر مضبوط بنانا بھول جاتے ہیں۔

میری نظر میں بیٹی کو صرف تتلی نہیں بلکہ شہد کی مکھی بنانا چاہیے۔ تتلی خوبصورت ہوتی ہے لیکن اپنی حفاظت نہیں کر سکتی، جبکہ شہد کی مکھی پھولوں سے رس بھی جمع کرتی ہے، دوسروں کے لیے فائدہ بھی پیدا کرتی ہے اور ضرورت پڑنے پر اپنا دفاع بھی کرنا جانتی ہے۔

بیٹی کو یہ سکھانا ضروری ہے کہ وہ عزت کرے، مگر اپنی عزت بھی کروائے۔ وہ رشتوں کی قدر کرے، مگر اپنی ذات کو قربان نہ کرے۔ وہ والدین کی اطاعت کرے، مگر ظلم یا ناانصافی کو تقدیر سمجھ کر قبول نہ کرے۔

اگر کوئی بیٹی اپنی پسند، اپنی تعلیم یا اپنے مستقبل کے بارے میں بات کرتی ہے تو ضروری نہیں کہ وہ نافرمان ہوگئی ہو۔ ہو سکتا ہے وہ صرف یہ چاہتی ہو کہ اس کی بات سنی جائے، اس کی رائے کو بھی اہمیت دی جائے۔

والدین کا اصل امتحان بیٹی کی پیدائش پر خوشی منانے میں نہیں بلکہ اس وقت ہوتا ہے جب بیٹی ایک مکمل شخصیت بن کر ان کے سامنے کھڑی ہوتی ہے۔ اس وقت اگر وہ اس کے سر پر اعتماد کا ہاتھ رکھ دیں، اس کی رہنمائی کریں اور اس کے لیے دعا کریں تو وہ بیٹی زندگی بھر ان کی عزت اور محبت کو اپنے دل میں محفوظ رکھتی ہے۔

بیٹیاں سایہ ڈھونڈنے کے لیے پیدا نہیں ہوتیں، بلکہ انہیں اتنا مضبوط بنایا جانا چاہیے کہ وہ خود بھی کسی کے لیے سایہ بن سکیں۔

میں اپنے لیے اور ساری بیٹیوں کے لیے اللہ تعالی سے دل سے یہ دعا کرتی ہوں۔

اے اللہ! ہماری بیٹیوں کو عزت، حکمت، خود اعتمادی اور اچھے فیصلوں کی توفیق عطا فرما اور والدین کو اپنی اولاد کو سمجھنے، سننے اور ان پر اعتماد کرنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین اور ہمیں اپنے والدین کے لیے باعث رحمت بنا۔

Check Also

Qaidion Ka Rape Riyasti Policy Hai

By Wusat Ullah Khan