Thursday, 21 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Zakaria Khan
  4. Qanoon Ke Aeene Mein Insaf Ki Tasveer

Qanoon Ke Aeene Mein Insaf Ki Tasveer

قانون کے آئینے میں انصاف کی تصویر

عدالت میں پیش ہونے والا ہر بیان اور ہر دلیل ایک سخت، منظم اور قانونی ماحول میں پرکھی جاتی ہے۔ خصوصاً فوجداری مقدمات میں عدالتی کارروائی قانون، عدالتی نظائر اور شہادت کے اصولوں کے مطابق چلتی ہے، نہ کہ جذبات یا اخلاقی احساسات کے تحت۔ قانون اپنی فطرت میں حقائق پر مبنی ہوتا ہے۔ یہ ثبوت، جرح، گواہوں، قانونی تقاضوں اور مقررہ طریقۂ کار کے دائرے میں کام کرتا ہے۔ لیکن ہر عدالتی فیصلہ انصاف فراہم نہیں کرتا۔ پاکستان میں کام کرنے والا ہر فوجداری وکیل اس حقیقت سے بخوبی واقف ہے۔ عدالت میں موجود ہر مقدمے اور ہر فائل کے پیچھے صرف قانونی نکات نہیں ہوتے بلکہ انسانی کہانیاں بھی ہوتی ہیں، ایسی زندگیاں جو ایک ایسے نظام میں الجھی ہوتی ہیں جو اکثر تنازع تو حل کر دیتا ہے، مگر انصاف فراہم نہیں کر پاتا۔

انصاف، قانون کی طرح ایک مشینی عمل نہیں بلکہ ایک اعلیٰ اخلاقی تصور ہے۔ یہ صرف کسی قانون یا دستاویز میں محدود نہیں بلکہ ضمیر، برابری اور انسانی عزت جیسے اصولوں سے جنم لیتا ہے۔ اگرچہ انصاف کے حصول کے لیے قانون سب سے اہم ذریعہ ہے، لیکن دونوں ایک جیسی چیزیں نہیں ہیں۔ یہی فرق واضح کرتا ہے کہ کئی مرتبہ قانونی نظام درست طریقے سے چلنے کے باوجود بھی انصاف حاصل نہیں ہو پاتا، خصوصاً کمزور اور غریب طبقے کے لیے۔

قانون اپنی باقاعدہ ساخت میں ریاستی اختیار کی نمائندگی کرتا ہے، جس کا مقصد لوگوں کے رویوں کو منظم کرنا، تنازعات حل کرنا اور جرائم کی سزا دینا ہوتا ہے۔ اسی لیے قانون حقائق پر مبنی ہوتا ہے۔ ایک مضبوط قانونی نظام کے لیے ضروری ہے کہ فیصلے جذبات، ذاتی پسند و ناپسند اور تعصب سے پاک ہوں۔ پاکستان کا فوجداری نظامِ انصاف قانونِ شہادت، پاکستان پینل کوڈ (PPC) اور ضابطۂ فوجداری (CrPC) جیسے قوانین پر قائم ہے۔ ان قوانین کا مقصد شواہد اور قانونی طریقۂ کار کے ذریعے منصفانہ ٹرائل کو یقینی بنانا ہے۔ اس کے باوجود عام شہری اکثر عدالتی نتائج کو غیر منصفانہ تصور کرتے ہیں۔

یہ سوال اہم ہے کہ قواعد اور ثبوتوں پر مبنی نظام عوام کی انصاف سے متعلق توقعات پوری کرنے میں اکثر ناکام کیوں دکھائی دیتا ہے؟ اس کی ایک بڑی وجہ خود قانون کی فطرت ہے۔ قانون یہ سوال کرتا ہے کہ "کیا ہوا؟" اور "کیا قانون کی خلاف ورزی ہوئی؟" لیکن یہ ہمیشہ یہ نہیں دیکھتا کہ "کیا نتیجہ اخلاقی اور سماجی اعتبار سے منصفانہ بھی ہے؟" بعض اوقات عدالت کسی ایسے شخص کو بری کر دیتی ہے جسے عوام مجرم سمجھتے ہیں، صرف اس لیے کہ اس کے خلاف پیش کیے گئے ثبوت قانونی معیار پر پورے نہیں اترتے۔ یہ دراصل نظام کی کمزوری نہیں بلکہ ایک بنیادی اصول ہے تاکہ کسی بے گناہ کو سزا نہ دی جائے۔ مگر ایسے فیصلے قانونی درستگی اور عوامی اطمینان کے درمیان فاصلے کو نمایاں کر دیتے ہیں۔

یہ فرق حقیقی مقدمات میں مزید واضح نظر آتا ہے۔ 2021ء کے لاہور موٹروے ریپ کیس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ مجرموں کو بالآخر سزائے موت اور عمر قید دی گئی، لیکن یہ فیصلہ شدید عوامی اور میڈیا دباؤ کے بعد ممکن ہوا۔ اگر یہ دباؤ نہ ہوتا تو تفتیشی کمزوریوں اور سست عدالتی عمل کے باعث مقدمہ شاید برسوں التوا کا شکار رہتا۔ اسی طرح 2019ء کے ساہیوال مقابلہ کیس میں محکمہ انسدادِ دہشت گردی کے اہلکاروں نے ایک خاندان کو بچوں کے سامنے گولی مار دی۔ بعد میں مقتولین بے گناہ ثابت ہوئے، مگر ناکافی ثبوت کی بنیاد پر ملزمان بری ہو گئے۔ قانونی لحاظ سے یہ فیصلہ قواعد کے مطابق تھا، لیکن عوام کی نظر میں انصاف نہ ہو سکا۔

شاہ زیب خان قتل کیس میں ایک بااثر اور سیاسی تعلق رکھنے والے ملزم کو پہلے سزا دی گئی، مگر بعد ازاں قصاص و دیت کے قانون کے تحت سمجھوتے کی بنیاد پر رہائی مل گئی۔ یہ فیصلہ قانونی تھا، لیکن اس نے عوام کے اندر شدید مایوسی پیدا کی۔ اسی طرح دعا زہرہ کیس میں ایک کم عمر لڑکی کے لاپتہ ہونے، شادی کے دعووں، میڈیکل رپورٹس، عدالتی حدود اور سیاسی اثر و رسوخ نے حقیقت کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ ان تمام مقدمات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ صرف قانونی تقاضے پورے کر لینا ہمیشہ انصاف کی ضمانت نہیں بنتا۔

یہ واقعات کوئی نایاب مثالیں نہیں بلکہ ایک ایسے نظام کی عکاسی کرتے ہیں جو قانونی اصولوں پر تو قائم ہے، مگر ادارہ جاتی کمزوریوں کا شکار ہے۔ نچلی عدالتوں میں صورتحال مزید سنگین ہو جاتی ہے۔ ججز پر مقدمات کا بوجھ، تربیت کی کمی اور مسلسل تاخیر انصاف کے نظام کو کمزور کر دیتی ہے۔ 2023ء میں لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق ملک بھر کی عدالتوں میں بائیس لاکھ سے زائد مقدمات زیرِ التوا تھے، جن میں بڑی تعداد فوجداری مقدمات کی تھی۔ یہ صرف مقدمات کا بوجھ نہیں بلکہ انصاف میں تاخیر کی علامت ہے۔

بہت سے لوگوں کے لیے مقدمے کا عمل ہی سزا بن جاتا ہے۔ غریب ملزمان اگر بعد میں بری بھی ہو جائیں تو وہ برسوں جیل میں مقدمے کے انتظار میں گزار دیتے ہیں۔ دوسری طرف بااثر افراد قانونی خامیوں اور تاخیری حربوں سے فائدہ اٹھا لیتے ہیں۔ اگرچہ قانون ہر شخص کو وکیل رکھنے کا حق دیتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ بہت سے لوگ اچھا وکیل کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ سرکاری وکلاء اکثر وسائل اور وقت کی کمی کا شکار ہوتے ہیں۔ 2020ء کی انسانی حقوق کمیشن پاکستان کی رپورٹ کے مطابق دیہی اور پسماندہ علاقوں کے بیشتر ملزمان مؤثر قانونی دفاع سے محروم رہتے ہیں۔ امیر افراد مہنگے وکلاء اور میڈیا مہمات خرید سکتے ہیں، جبکہ غریب تنہا نظام کا سامنا کرتے ہیں۔ نظریاتی طور پر قانون سب کے لیے برابر ہے، مگر عملی طور پر ایسا دکھائی نہیں دیتا۔

انصاف کے لیے صرف قانون کافی نہیں ہوتا۔ اس کے لیے تربیت یافتہ ججز، آزاد پراسیکیوشن، مضبوط تفتیشی نظام اور مؤثر نگرانی ضروری ہے۔ پاکستان کا نظامِ انصاف ان تمام شعبوں میں کمزور نظر آتا ہے۔ پولیس پر اکثر تشدد، جھوٹے ثبوت گھڑنے اور ماورائے عدالت کارروائیوں کے الزامات لگتے رہتے ہیں۔ فرانزک لیبارٹریاں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں، جبکہ پراسیکیوشن مکمل طور پر آزاد نہیں۔ یہ تمام کمزوریاں قانون اور انصاف کے درمیان فاصلے کو مزید بڑھا دیتی ہیں۔

بعض اوقات نچلی عدالتوں کے ججز اخلاقی طور پر درست فیصلہ کرنے سے اس لیے ہچکچاتے ہیں کہ کہیں وہ قانونی طریقۂ کار سے انحراف نہ کر بیٹھیں۔ اپیلٹ عدالتیں اگرچہ غلطیاں درست کر دیتی ہیں، لیکن اکثر کئی سال بعد۔ بہت سے متاثرین کے لیے یہ طویل انتظار خود ایک نئی اذیت بن جاتا ہے۔ نتیجتاً لوگ صرف عدلیہ ہی نہیں بلکہ ریاست کے انصاف فراہم کرنے کے تصور پر بھی اعتماد کھونے لگتے ہیں۔

فوجداری عدالتوں میں کام کرنے والے وکلاء اسی پیچیدہ ماحول میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں۔ دفاعی وکیل کو اپنے مؤکل کے حقوق کا تحفظ کرنا ہوتا ہے، چاہے عوام اسے مجرم سمجھتے ہوں۔ پراسیکیوٹر کو شک سے بالاتر ہو کر جرم ثابت کرنا پڑتا ہے، صرف اخلاقی یقین کافی نہیں ہوتا۔ ججز کو عوامی غصے کے بجائے ریکارڈ اور قانون کی بنیاد پر فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ یہی توازن قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھتا ہے، اگرچہ بعض اوقات یہ انصاف کے متلاشی لوگوں کو مایوس بھی کر دیتا ہے۔

اس مسئلے کا حل یہ نہیں کہ عوامی خواہشات کے مطابق قانون کو کمزور کر دیا جائے، بلکہ ایسا نظام تشکیل دیا جائے جہاں قانونی نتائج اخلاقی اعتبار سے بھی قابلِ قبول ہوں۔ پولیس اصلاحات، جدید فرانزک نظام، آزاد پراسیکیوشن اور ججز کی بہتر تربیت ناگزیر ہیں۔ قانونی تعلیم میں صرف قوانین ہی نہیں بلکہ اخلاقیات، ہمدردی اور عوامی خدمت کے اصول بھی شامل ہونے چاہئیں۔ ریاست کو قانونی امداد اور عوامی مفاد کے مقدمات کے مواقع بڑھانے چاہئیں۔ جدید ٹیکنالوجی، جیسے ویڈیو گواہیاں، ڈیجیٹل کیس سسٹم اور آن لائن قانونی ریکارڈ، عدالتی عمل کو تیز اور شفاف بنا سکتے ہیں۔ یہ محض خواب نہیں بلکہ وقت کی ضرورت ہیں۔

ساتھ ہی معاشرے کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ انصاف کا مطلب صرف بدلہ لینا نہیں۔ انصاف ہمیشہ وہ نہیں ہوتا جو اکثریت چاہتی ہو۔ انصاف دراصل حقوق اور ذمہ داریوں کے درمیان توازن کا نام ہے۔ جب عدالت ناکافی ثبوت کی بنیاد پر کسی کو بری کرتی ہے تو وہ انصاف کے بنیادی اصول کی حفاظت کرتی ہے، نہ کہ ناکامی کا اظہار۔ لیکن جب نظام صحیح تفتیش نہ کرے، مقدمات میں غیر ضروری تاخیر کرے یا غریب کی آواز دب جائے، تو انصاف کا راستہ بند ہو جاتا ہے۔

قانون فیصلے سناتا ہے، مگر انصاف انسانی عزت کو یقینی بناتا ہے۔ اگر پاکستان کو ترقی یافتہ اور منصف معاشرہ بننا ہے تو قانون اور انصاف کو ساتھ ساتھ چلنا ہوگا۔

حقیقت یہ ہے کہ قانون کو حقائق، طریقۂ کار اور غیر جانبداری پر قائم رہنا چاہیے کیونکہ یہی اس کی اصل طاقت ہے۔ لیکن انصاف ایک اعلیٰ اخلاقی مقصد ہے، جو اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ قانونی نظام جوابدہ، منصفانہ اور سب کے لیے قابلِ رسائی ہو۔ اصل چیلنج قانون کو جذباتی بنانا نہیں بلکہ اسے عوام کے لیے مؤثر، شفاف اور قابلِ اعتماد بنانا ہے۔ حقائق کو صرف آخری منزل نہیں بلکہ انصاف تک پہنچنے کی بنیاد سمجھنا چاہیے۔ ہر بار جب ایک وکیل عدالت میں داخل ہوتا ہے تو اس کے کندھوں پر دوہری ذمہ داری ہوتی ہے: قانون اس کا ذریعہ ہے، مگر انصاف اس کا مقصد۔ جب تک ہمارا قانونی نظام اس فرق کو پوری طرح نہیں سمجھے گا، عوام کی جدوجہد جاری رہے گی، اس لیے نہیں کہ قانون موجود نہیں، بلکہ اس لیے کہ انصاف اب بھی قانون کے پیچھے کھڑا انتظار کر رہا ہے۔

Check Also

Digital Tanhai Screen Ki Chaka Chond Mai Dhundatay Rishtay

By Unzila Siddiqui