Thursday, 21 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Ashfaq Inayat Kahlon
  4. Kilo Gosht Wala Shopper

Kilo Gosht Wala Shopper

کلو گوشت والا شاپر

برصغیر بالخصوص پاکستان میں ایک دلچسپ قسم کا معاشرتی فلسفہ پایا جاتا ہے کہ اگر کوئی بچہ پڑھائی میں دل نہ لگائے، صبح دس بجے تک سویا رہے، ہر وقت دوستوں کے ساتھ گلی کے نکڑ پر سیاسی تجزیے کرتا پھرے اور گھر والے یہ سمجھ جائیں کہ اب یہ قومی اثاثہ بننے سے رہا، تو فوراً خاندان کا کوئی بزرگ عینک اتار کر سنجیدہ لہجے میں کہتا ہے کہ اسے سعودیہ بھیج دو، وہاں جا کر سیدھا ہو جائے گا، جیسے سعودی عرب انسانی ریفارم سینٹر ہے، جہاں جہاز سے اترتے ہی نکھٹو نوجوان کے اندر اچانک ذمہ داری، محنت اور وقت کی پابندی انسٹال ہو جاتی ہے، ہمارے ہاں تو بعض اوقات بچے کے رزلٹ سے زیادہ اس کے پاسپورٹ کی فکر کی جاتی ہے، امّی کہتی ہیں کہ بیٹا پڑھ لو، ورنہ سعودیہ جانا پڑے گا اور لڑکا جواب دیتا ہے کہ امی فکر نہ کریں، ویزہ لگ گیا تو پھر دیکھنا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی آوارہ لڑکا جب سعودیہ پہنچتا ہے تو چند مہینوں بعد اس کی تصویریں آنا شروع ہو جاتی ہیں:

سفید شلوار قمیض، ہاتھ میں قہوہ، چہرے پر سنجیدگی اور کیپشن:

Life teaches you everything.

وہی بندہ جو پاکستان میں دوپہر سے پہلے بیدار نہیں ہوتا تھا، سعودیہ میں فجر سے پہلے اٹھ کر ڈیوٹی پر جا رہا ہوتا ہے، خاندان حیران ہو کر کہتا ہے کہ ماشاء اللہ، عرب کی ہوا ہی ایسی ہے، اصل میں بات یہ ہے کہ پردیس انسان کو ذمہ داری سکھا دیتا ہے، جب بندہ گھر کی بریانی، دوستوں کی محفل اور رشتے داروں کی حاسد نگاہوں سے دور ہوتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ زندگی صرف موبائل، چائے اور گپوں کا نام نہیں، اسی لیے بہت سے نوجوان جو پاکستان میں لاپرواہ دکھائی دیتے تھے، خلیجی ممالک جا کر نہ صرف خود بدلتے ہیں بلکہ اپنے خاندانوں کا سہارا بھی بن جاتے ہیں، لہٰذا یہ جملہ اگرچہ مزاحیہ انداز میں بولا جاتا ہے کہ نکھٹو ہو تو سعودیہ بھیج دو، مگر اس کے پیچھے ایک حقیقت بھی چھپی ہے کہ پردیس بہت سے لوگوں کو سنجیدہ، مضبوط اور ذمہ دار بنا دیتا ہے، جبکہ تصویر کا دوسرا رُخ یہ بھی ہے کہ جو گھر میں بُرے وہ مکہ پہنچ کر بھی بُرے ہی رہتے ہیں۔

سعودی عرب میں اگر کسی بندے کو کمپنی کی نوکری کے ساتھ رہائش بھی مل جائے تو سمجھیں زندگی کا آدھا امتحان پاس ہوگیا، کم از کم کرائے، بجلی، پانی اور آج دال بنے گی یا صرف چائے پر گزارا ہوگا جیسے سوالات سے وقتی نجات مل جاتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اکثر تنخواہیں بندے کو صرف زندہ رکھنے کے لیے ہوتی ہیں، امیر بنانے کے لیے نہیں، چنانچہ کچھ ذہین اور حرکت میں رہنے والے لوگ جلد سمجھ جاتے ہیں کہ صرف تنخواہ پر گزارہ کرتے رہے تو ساری عمر مہینے کے آخر میں اے ٹی ایم مشین کو ایسے دیکھتے رہیں گے جیسے وہ ان کا سگا ماموں ہو، پھر یہ لوگ آہستہ آہستہ کفیل سے ساز باز، منتھلی سیٹنگ یا کسی درمیانی راستے کے ذریعے اپنے ذاتی کام دھندے کی طرف نکل پڑتے ہیں، کوئی موبائل بیچ رہا ہے، کوئی پارسل سروس چلا رہا ہے، کوئی شام کے بعد فری لانس الیکٹریشن بن جاتا ہے اور کچھ تو ایسے کاروباری ذہن کے مالک ہوتے ہیں کہ دن میں کمپنی کے ملازم اور رات میں پورے CEO لگتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی واقعی کامیاب بھی ہو جاتے ہیں، پہلے ایک موبائل، پھر دو، پھر ایک گاڑی، پھر چھوٹا سا بزنس، خاندان پاکستان میں بیٹھ کر خوش ہو جاتا ہے کہ ماشاء اللہ، لڑکا سیٹ ہوگیا لیکن اصل امتحان کامیابی کے بعد شروع ہوتا ہے، بہت سے لوگ ابتدائی کامیابی ملتے ہی خود کو ریٹائرڈ نوجوان سمجھنے لگتے ہیں، دو پیسے کیا آئے، فوراً نیند لمبی ہوگئی، پہلے جو فجر سے پہلے اٹھتا تھا اب ظہر کے بعد آنکھ کھولتا ہے، پھر محفلوں میں ایک ہی جملہ دہراتا ہے:

"یار، بہت تھک گیا ہوں، زندگی نے بڑا رگڑا لگایا ہے!"

حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ کامیابی کا سب سے خطرناک دشمن غربت نہیں بلکہ قبل از وقت اطمینان ہے، بندہ جیسے ہی یہ سوچ لیتا ہے کہ اب تو کافی ہے، وہیں سے اس کی ترقی بریک لگانا شروع کر دیتی ہے، بعض لوگ ہر وقت ناآسودہ حالات کا رونا روتے رہتے ہیں، کمرے کا اے سی کمزور ہے، مارکیٹ سست ہے، گرمی زیادہ ہے، لوگ ساتھ نہیں دیتے، قسمت خراب ہے، حالانکہ سعودی عرب میں برسوں رہنے والے پرانے لوگ جانتے ہیں کہ یہاں صرف وہی بندہ آگے نکلتا ہے جو تھکن کے باوجود حرکت میں رہتا ہے، کیونکہ پردیس میں کامیابی اکثر اُن لوگوں کے حصے میں آتی ہے جو آرام کو انعام سمجھتے ہیں، عادت نہیں۔

پردیس کی زندگی بھی عجیب کھیل دکھاتی ہے، بندہ برسوں تپتی دھوپ، اوور ٹائم اور کفیل کے موڈ برداشت کرتا ہے، پھر کہیں جا کر جیب میں تھوڑا وزن آتا ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بعض لوگ جیب بھاری ہوتے ہی دماغ ہلکا کر بیٹھتے ہیں، کل تک جو بندہ پانچ ریال بچانے کے لیے دو کلومیٹر پیدل چلتا تھا، آج وہی ہر رات شاہانہ موڈ میں بیٹھا ہوتا ہے، پہلے چائے پر گزارا تھا، اب محفل کے بغیر نیند نہیں آتی اور کچھ لوگ تو وقتی آسودگی ملتے ہی نشے کو کامیابی کا جشن سمجھ لیتے ہیں۔

ہمارا ایک دوست بھی انہی نابغہ روزگار شخصیات میں شامل ہے، مفت نشہ، لمبی لمبی باتیں اور دوسروں کی جیب کا حساب لگانا اس کی شخصیت کے بنیادی ستون ہیں، وہ ایسا فلسفی ہے کہ اگر آپ اس کے ساتھ صرف دس منٹ بیٹھ جائیں تو آپ کو محسوس ہوگا کہ دنیا کی تمام دولت بس اگلے ہفتے اس کی جیب میں آنے والی ہے، اس کا سب سے بڑا ہنر یہ ہے کہ ہر گفتگو میں کسی نہ کسی کی جیب سے تگڑا مال نکلوانے کی پلاننگ جاری ہوتی ہے، کبھی کہتا ہے:

"بس ایک عربی ہاتھ آ جائے، پھر دیکھنا کھیل بدل دوں گا!"

کبھی اعلان کرتا ہے کہ یار ایک زبردست بزنس آئیڈیا آیا ہے، صرف سرمایہ چاہیے اور سرمایہ ہمیشہ دوسروں نے لگانا ہوتا ہے، جبکہ مشورے، خواب اور فضائی قلعے وہ خود فراہم کرتا ہے، اس کی گفتگو سن کر لگتا ہے کہ بندہ نہیں، چلتی پھرتی کاروباری کانفرنس ہے، مگر افسوس یہ کہ برسوں کی پلاننگ، فلسفہ اور زبانی جمع تفریق کے باوجود حاصل اب تک صرف ایک پرانا موبائل اور تین نامکمل اسکیمیں ہیں، مزے کی بات یہ ہے کہ ایسے لوگ ہر ناکامی کا ذمہ دار قسمت، زمانے، مارکیٹ یا دشمنوں کو قرار دیتے ہیں، اپنی سستی؟ کبھی نہیں، اپنا جھوٹ؟ ہرگز نہیںِ ، اپنی تن آسانی؟ استغفراللہ!

حالانکہ حقیقت بڑی سادہ ہے کہ پردیس میں صرف خواب دیکھنے سے کچھ نہیں بنتا، وہاں الارم بھی خود لگانا پڑتا ہے اور صبح اٹھ کر بھاگنا بھی خود پڑتا ہے، کیونکہ زندگی اُن لوگوں کو آگے لے جاتی ہے جو منصوبے کم اور عمل زیادہ کرتے ہیں، قصہ مختصر، غلط فیصلوں اور نیند نہ پوری ہونے باعث مہینوں گزرتے گئے اور ہمارے ایک دوست نے جو کمایا، وہ دکھاوے کی نظر ہوگیا یا عارضی خوشیوں کے دھوئیں میں تحلیل ہوگیا، ہر مہینے ایک نیا منصوبہ، ہر ہفتے نئی قسم کی قسمیں اور ہر رات مستقبل کے ایسے خواب جنہیں سن کر لگتا تھا کہ اگلے مہینے بندہ دبئی خریدنے والا ہے، لیکن حقیقت یہ تھی کہ جیب ہمیشہ اسی رفتار سے خالی رہتی جس رفتار سے اس کے دعوے بھرے ہوتے تھے، پھر عیدالاضحی کا مبارک چاند نمودار ہوا، گھر سے والد محترم کا فون آیا، آواز میں شفقت بھی تھی اور ہلکی سی امید بھی: "بیٹا، اس بار سوچ رہے ہیں قربانی کر لیں"۔

دوست فوراً ساری صورتحال سمجھ گیا، اس کے ذہن میں بجلی کی طرح وہ تاریخی واقعہ چمکا جب فرزندِ شاعرِ مشرق، جسٹس جاوید اقبال نے لندن میں جیب خرچ مانگا تھا، صاحب پر اچانک ادبی کیفیت طاری ہوگئی، گلا صاف کیا، سگریٹ ایک طرف رکھی اور نہایت فلسفیانہ انداز میں علامہ اقبال کی غزل میں ہلکی سی معاشی ترمیم کرتے ہوئے فرمایا:

میرا طریق امیری نہیں فقیری ہے
بکرا نہ مانگ، کیلو کیلو گوشت والا شاپر تلاش کر

چند لمحوں کے لیے فون پر خاموشی چھا گئی، ادھر والد صاحب شاید یہ سوچ رہے تھے کہ انہوں نے بیٹا سعودیہ روزگار کے لیے بھیجا تھا یا جدید مزاحیہ شاعری کے فروغ کے لیے، آخری اطلاعات کے مطابق والد محترم گھر سے خاموشی سے نکلے، قبرستان کی طرف گئے اور وہاں کافی دیر تک ایک مناسب علامتی قبر کی جگہ تلاش کرتے رہے، تاکہ لکھ سکیں:

"یہاں ایک باپ کی قربانیوں، امیدوں اور عید کے بکرے کے خواب دفن ہیں"۔

Check Also

Chanakya, Khula Dimagh Ya Khud Gharz Chalaki?

By Asif Masood