Thursday, 21 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Sadiq Anwar Mian
  4. Ziadti Cases Mein Izafa Tasveeshnak

Ziadti Cases Mein Izafa Tasveeshnak

زیادتی کیسز میں اضافہ تشویشناک

ویسے تو معاشرے میں برائیاں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی، روز روز نئے نئے کیسز سامنے ارہے ہیں۔ ظلم، بربریت، بے حیائی چوری ڈکیتی وغیرہ آپنے حدود عبور کر چکے ہیں۔ ہر روز ہمیں نئے نئے کیسز دیکھنے کو ملتے ہیں کہ فلاں جگہ میں یہ ہوا فلاں میں یہ ہوا۔ فلاں شخص نے ایسے کیا۔ آخری دور ہے نشانیاں آہستہ آہستہ سامنے ارہے ہیں۔

ہم جب چھوٹے تھے تو ہم کچھ اس طرح کے باتیں سنتے تھے بہت کم سنتے تھے کہ فلاں جگہ میں یہ واقعہ پیش آیا یہ ظلم ہوا۔ تو ہم اس وقت بڑے حیران رہ جاتے تھے اور تقریباً ہر شخص حیران رہ جاتا کہ یہ دیکھیں یہ کتنا عجیب کام ہوا ہے۔ فلانے نے ظلم کی ہے۔ فلانے نے چوری کی ہے۔ یہ معاشرے میں بڑی حیران کن کام ہوا کرتی تھی۔ لوگ ڈرتے تھے۔ لوگ شرم سے علاقے کی عزت کی وجہ سے گاؤں محلے میں شرم کی وجہ سے کوئی ایسے کام نہیں کرسکتے تھے جس سے محلے میں اس کی عزت کو خطرہ لگ رہا ہوتا۔ لیکن اب وہ دور نہیں رہا کہ لوگ عزت کے بارے میں سوچیں گے، کہ ہمارے عزت کو کوئی نقصان پہنچے گا۔

آج کل زنا بالجبر کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ ایسے کیسز ہیں کہ اس کام کو کرتے ہوئے لوگ ہزار بار سوچتے ہیں کہ یہ سب سے بڑا جرم اور سب سے زیادہ غلط کام ہے۔ لیکن آج کل یہ کام بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے۔ یہ ہمارے معاشرے کیلئے انتہائی تشویشناک ہے۔ اگر اس طرح سے یہ کیسز جاری رہے تو اللہ نہ کرے کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ ویسے تو ان تمام برائیوں کی جڑ یہ موبائل فون ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ والدین کی غیر ذمہ داری ہے۔

والدین آج کل بچوں کا زرا بھی خیال نہیں رکھتے۔ والدین نے بچوں کو آزادانہ زندگی گزارنے کی اجازت دی ہے۔ کوئی بھی اپنے بچوں سے ان کی تعلیم کے بارے میں ان کی زندگی کے بارے میں نہیں پوچھتے۔ بس والدین احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ سب سے پہلی ذمہ داری ریاست کی ہے، کہ وہ اس طرح کے واقعات پر قابوں پائے اور دوسری ذمہ داری والدین کی ہے کہ وہ اپنے بچوں پر کڑی نظر رکھیں۔

ہم جس معاشرے، جس گاؤں شہر میں رہتے ہیں۔ آج کل اس قسم کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ہمارا معاشرہ ایساکبھی نہیں تھا۔ پرامن لوگ تھے، عزت دار لوگ تھے۔ ایک دوسرے کے خدمت کرنے والے لوگ تھے۔ ایک دوسرے کے عزت بچانے والے لوگ تھے، لیکن آج کل سب کچھ الٹ ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دیگر علاقوں سے لوگ آتے ہیں اور آباد ہوتے ہیں۔ ہمارے شہر کے مستقبل باشندے خواہ وہ کتنی بار کچھ غلط کام کے بارے میں سوچے، لیکن علاقے کی عزت کی وجہ سے وہ نہیں کرسکتے۔ یہ کام وہی لوگ زیادہ تر کرتے ہیں۔ جن کو نہ معاشرے کی پرواہ، نہ عزت کی پرواہ، نہ شرم کی پرواہ اور بس آپنے غلط کاموں کو کرتے رہتے ہیں۔

حال ہی میں ہمارے معاشرے میں اس قسم کی دو تین کیسز سامنے آئے ہیں۔ جس کی وجہ سے علاقے میں بے چینی ہے، خوف و ہراس ہے۔ سب لوگ پریشان ہے۔ کہ آخر یہ ہو کیا رہا ہے۔ ہم جا کہاں رہے ہیں۔ لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے، کہ والدین پھر بھی نہیں سمجھتے کہ اس میں ہمارا بھی قصور ہے اور قصور کیا ہے، میں نے اوپر بیان کیا ہے۔ اگر والدین نے اپنے بچوں پر کڑی نظر نہیں رکھی تو خدا نخواستہ یہ واقعات مزید بھی بڑھتے رہے گے اور یہ معاشرہ ایک جنگلی معاشرہ بن جائے گا۔ کوئی کسی کا پوچھے گا بھی نہیں کہ کیا ہوا ہے۔ سب کچھ والدین کے ہاتھوں میں ہیں۔

Check Also

Dhalte Suraj Ke Taqub Mein (6)

By Ayaz Khawaja