Thursday, 21 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Unzila Siddiqui
  4. Digital Tanhai Screen Ki Chaka Chond Mai Dhundatay Rishtay

Digital Tanhai Screen Ki Chaka Chond Mai Dhundatay Rishtay

ڈیجیٹل تنہائی: سکرین کی چکا چوند میں دھندلاتے رشتے

آج کے دور میں جہاں ٹیکنالوجی کی اہمیت و افادیت ہے اور اب ہماری ضرورت بھی بن چکی ہے، اس کا اثر ہماری زندگی میں بہت حائل ہو چکا ہے۔ گزشتہ چند سال قبل ٹی وی اسکرین پر ایک آئس کریم کا اشتہار نظر سے گزرا تھا۔ آج وہی اشتہار اپنی آنکھوں سے سچ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

کل ہی کا واقعہ ہے۔ ڈائننگ ٹیبل (dining table) پر کھانا لگایا جا رہا تھا۔ سب کو اپنے اپنے کمروں سے آوازیں دے کر بلایا گیا۔ ہر فرد اپنے کمرے سے نکلا، ہاتھ میں موبائل فون تھام رکھا تھا۔ کچن سے ڈائننگ ٹیبل اور پورے کمرے میں کھانے کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ لیکن کھانے کی ٹیبل پر عجیب خاموشی تھی۔ گھر کا ہر فرد سر جھکائے بیٹھا ہوا تھا، آپس میں بات چیت کے بجائے ہاتھوں میں اسمارٹ فون تھام رکھا تھا، انگلیاں موبائل پر ٹک ٹک چل رہی تھیں، سر جھکائے آنکھیں موبائل فون پر ٹکائے بیٹھے ہوئے تھے اور کسی نے کانوں میں ایئر پوڈز لگائے ہوئے تھے۔ حتیٰ کہ خاموشی اتنی گہری تھی کہ ایک دوسرے کی موجودگی کا بھی پتہ نہیں چل رہا تھا۔ ایک ہی چھت کے نیچے ہو کر بھی ایک دوسرے کے لیے انجان ہو چکے تھے۔

ٹیکنالوجی نے میلوں دور کے فاصلوں پر ہمیں جوڑا تو ہے لیکن رشتوں کی کوالٹی، اہمیت و وقت ختم کر دیا ہے۔ گھر میں رونق، ساتھ مل کے بیٹھنا اور بیٹھک میں باتوں کی گونج اب سنائی نہیں دیتی۔ قریب ہو کر بھی میلوں کی دوری ہے۔ آج بظاہر سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی نے ہمیں جوڑا تو ہے لیکن ہمیں اپنے ساتھ بیٹھے والدین، بہن بھائیوں سے ناآشنا کر دیا ہے۔ جہاں آج کے دور میں وائی فائی کے سگنل مضبوط ہوئے اور ہم میلوں دور بیٹھے لوگوں کی پوسٹ کو دھیان سے پڑھ رہے ہیں اور ان کی اسٹوریز کو لائیک (like) اور کمنٹ (comments) کر رہے ہیں، وہیں دلوں کے سگنل کمزور ہو گئے ہیں۔ اپنے ساتھ رہنے والے گھر کے افراد اور والدین کو وقت و اہمیت نہیں دیتے اور بچوں پر توجہ نہیں دیتے۔ وہیں پیچیدہ مسائل جنم لیتے ہیں اور گھریلو جھگڑوں کو جگہ ملتی ہے۔

جہاں موبائل فون کے اتنے فائدے ہیں، وہیں اس کے نقصانات بھی ہماری زندگیوں میں مائل ہو گئے ہیں۔ موبائل فون ہاتھ میں ہو تو ہماری نیندیں غائب ہو جاتی ہیں۔ ذاتی زندگی میں اس کا اثر بہت گہرا ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ ایک گھر میں رہتے ہوئے کال پر گفتگو ہوتی ہے۔ شوہر و بیوی کے درمیان بات چیت کی جگہ اب واٹس ایپ (WhatsApp) اسٹیٹس نے لے لی ہے۔ بزرگوں کی بات نہیں سنی جاتی، بچوں کی پرورش پر توجہ نہیں۔ جب بچے اپنے سامنے والدین کو موبائل فون استعمال کرتے دیکھتے ہیں اور اپنے پیرنٹس (parents) سے اگنور ہوتے ہیں، تو توجہ نہ ملنے کی صورت میں وہ نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس کے باعث ان کا ذہن کمزور ہوتا ہے اور اس سے ان کی پرسنیلٹی (personality) پر اثر پڑتا ہے، جس کے باعث وہ چڑچڑاپن کا شکار ہو جاتے ہیں اور ان کی صحت بھی متاثر ہوتی ہے۔

سوشل میڈیا پر ہم اپنی خوشیاں تو دکھاتے ہیں مگر اصل زندگی میں ہم اکیلے پن اور تنہائی (loneliness) کا شکار ہیں۔ ایک دوسرے سے برتری حاصل کرنے کی دوڑ میں اور سوشل میڈیا پر اسٹیٹس آپ لوڈ کرنے کے چکر میں ہم نے اپنے آپ کو اس کا غلام بنا لیا ہے۔ اس کے باعث آج اپنے آپ کو ہم نے خود ذہنی دباؤ میں ڈال دیا ہے اور بچوں کی بدتمیزی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ہمیں تھوڑا ڈیجیٹل ڈیٹوکس (digital detox) کی ضرورت ہے۔ اپنے آپ کو بہتر بنانے کے لیے اپنے اوپر توجہ دینی ہوگی اور اپنے گھر کے ماحول کو بہتر بنانے کے لیے اپنے اردگرد کے لوگوں کو وقت دینا ہوگا۔ ہر چیز کو بیلنس میں رکھنا ضروری ہے۔ کھانے کی ٹیبل پر موبائل فون استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ اپنے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کرنی چاہیے۔ قریبی ساتھیوں کے حال اور احوال معلوم کرنے کے لیے ان سے ملنا چاہیے۔ کہیں ایسا نہ ہو لائیکس بٹورنے کے چکر میں ہم اپنی اصل زندگی کی محبتیں کھو بیٹھیں۔ بہتر مستقبل کے لیے بہترین ماحول کا ہونا لازمی ہے، اس کی شروعات مجھے، آپ کو، ہم سب کو کرنی ہوگی۔

کیسی اداسی ہے کہ الفاظ بھی خاموش ہیں
رشتے بھی ادھورے اور احساس بھی خاموش ہیں

Check Also

Panch So Dollar

By Javed Chaudhry