Thursday, 21 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Ayaz Khawaja
  4. Dhalte Suraj Ke Taqub Mein (6)

Dhalte Suraj Ke Taqub Mein (6)

ڈھلتے سورج کے تعاقب میں (6)

5 - دھوپ کی واپسی

اگلی صبح فرح اٹھی تو وہ تازہ دم تھی۔ دن کا پہلا حصہ اس نے کزن اور دوستوں کے ساتھ گزارا۔ وہ سب فرح کی امریکا میں زندگی کے بارے میں جاننا چاہتے تھے، لیکن فرح کے گونگے اور بہرے پن کی وجہ سے وہ کچھ زیادہ نہیں بتا سکتی تھی۔ فرح نے ایک عرصے کے بعد خاندان کے ساتھ کھانا کھایا، پھر اسکے کزنز اور دوست اسے شہر گھومانے لے گئے۔ اس نے ایک مزے کا دن گزارا اور کچھ چیزیں بھی خریدیں۔ جب وہ بازار سے نکلے تو اندھیرا ہو چکا تھا۔ لڑکیوں کو نماز کے وقت سے پہلے گھر پہنچنے کی جلدی تھی۔ جب وہ اپنی گاڑی کے پاس پہنچے تو لڑکیاں پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئیں۔ وہ اپنی دن بھر کی شاپنگ کے بارے میں باتیں کرنے لگیں۔ وہ باتوں میں مصروف تھیں اس بات سے غافل کہ فرح کے ساتھ کیا ہو چکا تھا۔ جب فرح لڑکیوں کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ رہی تھی تو ایک تیز رفتار وین سے کسی نے فرح کا پرس چھیننے کی کوشش کی۔ فرح پرس بچانے کے لئے وین کے ساتھ بھاگی اور آخر وین کے پچھلے حصے میں بیہوش ہو کر گر گئی۔ وین ایک نامعلوم منزل کی طرف جا رہی تھی۔

ڈرائیور کو فرح کی منزل کا پتا تھا: وہ ایک بار پھر رحیمی سے ملنے اسکے اڈے کی طرف جا رہی تھی۔ تھکی ہوئی پریشان حال فرح نے جب ادھر ادھر دیکھا تو اسے رحیمی کہیں نظر نہ آیا۔ اسکے عالیشان بلکہ رحیمی کے عالیشان دیوان پر ایک جوان سا آدمی بیٹھا تھا۔ رحیمی کے آدمی اسکی خاطر مدارات کر رہے تھے۔ اس نے دیکھا کے یہ وہی لوگ تھے جب وہ پچھلی بار یہاں لائی گئی تھی۔ کچھ دیر بعد وہ سمجھ گئی کے وہ رحیمی کا بیٹا آدم رحیمی تھا۔ وہ چھبیس سالہ، بھوری آنکھیں، گھنگریالے بال اور بڑی بڑی مونچھوں والا نوجوان تھا۔ وہ فرح کو گہری نظروں سے دیکھتے ہوے اپنی جگہ سے اٹھا اور آہستہ آہستہ فرح کے پاس آنے لگا۔ وہ بہت ڈری ہوئی تھی اور اچانک چیخنے لگی۔

آدم رحیمی رک گیا، اپنی پگڑی ٹھیک کی اور کہنے لگا، "ایک بار پھر خوش آمدید اور ڈرو مت، تم یہاں محفوظ ہو۔ وہ کچھ دیر فرح کے گرد گھومتا رہا اور پھر پاس اکر بولا، "میں تمہیں پسند کرتا ہوں" وہ مسکرانے لگا۔ پھر وہ واپس دیوان پر جا کر بیٹھ گیا۔ ایک ریشمی سرخ گدی سے کھیلتے ہوے اس نے پوچھا، "کیا تم مجھ سے شادی کرو گی، خوبصورت لڑکی؟" جمال رحیمی کا بیٹا فرح کو شادی کی پیش کش کر رہا تھا۔ آدم رحیمی نے واضح کیا کے اگر وہ اس سے شادی کر لے گی تو وہ اسکے خاندان کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔ اس طرح تمام خاندانی جھگڑے ختم ہو جایئں گے، ورنہ سنگین نتائج کی ذمدار وہ خود ہوگی۔ فرح اس تمام نئی صورتحال پر سخت الجھن میں تھی۔ اگرچہ وہ زیادہ سن نہیں سکتی تھی پھر بھی یہ الفاظ بخوبی سمجھ گئی، "مجھ سے شادی کرو گی" فرح نے نفی میں سر ہلایا اور وہاں سے بھاگنے کی کوشش کی مگر رحیمی کے ایک آدمی نے اسکا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا اور اسکو بھاگنے نہ دیا۔

آدم رحیمی نے صورتحال سمجھتے ہوے اپنے آدمیوں کو اشارے سے کہا کہ فرح کو وہاں سے لے جایئں۔ رحیمی کے آدمی فرح کو کھنچتے ہوئے بیسمنٹ کی سیڑھیوں تک لے گئے۔ وہ فرح کو اندھیری راہداریوں سے ہوتے ہوے رحیمی مینشن کی بیسمینٹ میں لے گئے اور ایک چھوٹے سے تاریک کمرے میں بند کر دیا۔۔ فرح چیختی چلاتی رہ گئی لیکن انہوں نے اسے دھکا دے کر دروازے کو تالہ لگا دیا۔۔

فرح کئی گھنٹے تک وہاں بند روتی رہی آخر پانچ گھنٹے بعد اسے روشنی کی ایک لکیر دکھائی دی، ایک ٹرے میں کوئی اسکے لئے کھانا لایا تھا۔ جب کسی نے کھانے کی ٹرے کمرے کے دروازے پر نیچے زمین پر رکھی تو وہ بہت تھک چکی تھی۔ وہ کمرے کی دیوار کے ساتھ رینگتی ہوئی دروازے کے قریب آئی۔ اسکا بھوک پیاس سے برا حال تھا۔ وہ ہر ایک گھنٹے کے بعد روتی اور چلاتی رہی تھی۔ وہ رینگتے ہوے مشکل سے کھانے کی ٹرے تک پہنچی۔ اس نے اپنے ہاتھ بڑھایا اور روٹی کا ایک ٹکڑا اٹھایا۔ جب اس نے کھانے کی کوشش کی تو وہ ہاتھ سے گر گیا۔ اب بس وہ ایک نیلے رنگ کے پلاسٹک کے گھڑے سے پانی پی سکتی تھی۔ پلاسٹک کے گھڑے کو اٹھا کر پیالے میں پانی ڈال کر پینا آسان نہیں تھا، بہرحال اس نے پانی پی لیا۔۔

فرح کو بخار اور سر میں درد تھا، کیونکے وہ اپنی دوائیاں نہیں لے پا رہی تھی۔ فرح ایک نارمل لڑکی نہیں تھی، ایک تو وہ گونگی بہری تھی اس کے علاوہ اسے دورے بھی پڑتے تھے، جس سے بچنے کے لئے وہ دوائیں لیتی تھی۔ پیاس کی وجہ سے فرح کی آنکھ کھل گئی، پتا نہیں وہ کتنے گھنٹے سوتی رہی تھی۔ اس نے کچھ پانی پیا، اصل میں اسے بھوک لگ رہی تھی، بہت بہت بھوک۔ اس نے دیکھا کے کھانا ابھی بھی وہاں پڑا تھا۔ اب تک شائد وہ ٹھنڈا اور بدمزہ ہو چکا تھا لیکن لیکن وہ بیٹھ گئی اور روٹی کا ٹکڑا چبانے لگی۔ کچھ نوالے کھانے کے بعد اسے احساس ہوا کے بیسمینٹ میں اسکے علاوہ بھی کوئی ہے، لیکن وہ کچھ دیکھ یا جان نہیں سکتی تھی کیونکہ نیچے بہت اندھیرا تھا۔

اسکی آنکھیں کھل گئیں مگر وہ کچھ دیکھ نہ سکا۔ ان آدمیوں نے جب رائفل کا بٹ مارا تو ایک لمحے کو وہ سمجھا کے وہ اندھا ہوگیا ہے، لیکن پھر اسے روشنی کی ایک لکیر دکھائی دی، امید کی کرن، جس نے اسکو زندہ رہنے اور کوشش کرنے کا حوصلہ دیا۔ بیسمینٹ کی بدبو ناقابل برداشت تھی، جیسے وہاں جانوروں کو باندھ کر رکھا گیا ہو۔ اس نے کھڑے ہونے کی کوشش کی لیکن اسکا سر اس اندھیری کوٹھری کی چھت سے ٹکرا گیا اور وہ کراہتے ہوے زمین پر بیٹھ گیا۔ اسکا درد سے برا حال تھا۔ اس نے اپنے جسم کو بائیں جانب موڑا اور پھر سے اٹھنے کی کوشش کی۔ اس بار وہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ وہ اس روشنی کی لکیر کی طرف رینگنے لگا۔ اس نے محسوس کیا کے چھت میں ایک سوراخ تھا۔ اسکے ہاتھ بندھے ہوے تھے۔ لیکن اسکے پیر آزاد تھے۔ اس نے اپنے بندھے ہاتھوں سے چھت کو اپنے انگھوٹوں سے کھرچنے کی کوشش کی۔ وہ ایک بہت ہی چھوٹا اور تنگ ڈربہ نما سیل تھا۔ جسکے ہر طرف اینٹیں اور لکڑی لگی ہوئی تھی۔۔

اسکے دماغ میں سوچیں گھوم رہی تھی۔ اس نے دہرایا کے وہ یہاں کیسے پہنچا تھا۔۔ جب شہر کے باہر اسکی کرائے کی گاڑی خراب ہوگئی تو واپسی کا اسے کوئی طریقہ نظر نہیں آرہا تھا۔ آخر اس نے ایک وین والے کو روک کر قائل کر لیا کے اسے شہر تک لفٹ دے دے۔ دوسری طرف ڈرائیور نے اسے بٹھا تو لیا لیکن اسکی منزل کوئی اور تھی۔ اسے بلکل اندازہ نہ ہوا جب تک وہ کم آبادی والے علاقے میں ایک پرانی عمارت کے قریب رک نہ گئے۔ یہیں اسکے منہ پر رائفل کا بٹ مار کر بیہوش کر دیا گیا۔ وہ محسوس کر سکتا تھا کے اسکے بعد اسے گھسیٹ کر اس پرانی بلڈنگ سے کسی اور جگہ منتقل کیا گیا تھا۔

واشنگٹن ڈی- سی - امریکا

جنرل ڈینیسن پیپر ویٹ میز کی چمکدار سطح پر گھوما رہا تھا، پھر اپنا گلا صاف کرتے ہوے اپنی کسرسی سے اٹھا اور پریذیڈنٹ کے سامنے کھڑے ہو کر پر اعتماد انداز میں بولنے لگا، " مسٹر پریذیڈنٹ، ہمرے دو امریکی شہری افغانستان میں پھنس چکے ہیں، اس سلسلے میں ہمیں بہت جلد کاروائی کرنا ہوگی۔ ان کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ مس فرح علی اور اور مسٹر عمر لی، اس وقت افغانستان کے شہر کابل کے آس پاس کسی علاقے میں موجود ہیں۔ ہماری آخری اطلاعات کے مطابق، جمال رحیمی کے آدمی، جو طالبان کا اگلا لیڈر ہے، عمر لی کا پیچھا کر رہے ہیں۔ جبکہ فرح علی پہلے سے ان کے قبضے میں ہے"۔ جنرل بہت اعتماد کے ساتھ بات کر رہا تھا اور ہر طرح سے امریکی صدر، مسٹر جیف ہاورڈ کو قائل کرنے کی کوشش کر رہا تھا کے ان لوگوں کے خلاف کاروائی کی جائے۔ میٹنگ دو گھنٹے تک جاری رہی۔ یہ میٹنگ ہنگامی طور پر بلائی گئی تھی جس میں امریکی صدر، نائب صدر راجر فینبرگ اور سیکرٹری اف اسٹیٹ سوسن وارنر موجود تھیں۔

"جنرل ڈنیسن، ہم آپکے جذبات کی آپکی کوششوں کی اور آپکی حب الوطنی کی قدر کرتے ہے۔ بہرحال، چونکے امریکا ایسے بہت سے آپریشنز اور کاروایاں کر رہا ہے جن کا امریکی معیشت پر بہت برا اثر پڑا ہے، آپ کا کیا خیال ہے؟ کہ ہم اپنے مزید فوجی بھیجیں گے، ان لوگوں کو بچانے کے لئے، جو اپنے ذاتی مقاصد کے لئے ان غیر محفوظ ممالک میں جاتے ہیں"۔ جیف ہا ورڈ نے گلا صاف کرتے ہوئے پانی کا ایک گھونٹ لیا اور مزید کہا، "جنرل، کیا آپ نہیں سمجھتے کے یہ ان لوگوں کا اپنا فیصلہ ہے اور وہ اپنی ہی غلطیوں کی سزا بھگت رہے ہیں؟" امریکی صدر جنرل ڈنیسن کی باتوں سے بلکل متفق نہیں تھے۔

"مسٹر پریذیڈنٹ ہم نے ماضی میں بھی اپنے شہریوں کی جان بچائی ہے اور ہمیں اپنی روایات کو برقرار رکھنا چاہئے۔ امریکی شہری مختلف ملکوں میں گئے اور اغوا کر لئے گئے، ہماری دنیا 9/11 کے بعد بہت غیر محفوظ اور خطرناک ہو چکی ہے۔ ہمارے شہری جہاں کہیں بھی اغوا کیےگئے، امریکی حکومت نے اپنے تمام وسائل استعمال کرتے ہوے، انہیں بچانے میں کامیاب ہوئی ہے۔ ہم ان تمام افراد کی قدر کرتے ہے جو امریکی شہری ہیں"۔ جنرل ڈنیسن بہت مضبوط لہجے میں اپنے خیالات کا اظہار کر رہے تھے۔

تمام تر بحث کے بعد سیکرٹری اسٹیٹ سوزن وارنر کچھ قائل نظر آرہی تھیں لیکن پھر بھی حتمی فیصلے سے پہلے انکے کچھ سوال تھے۔ انہوں نے کہا، "میں آپکی باتوں سے کسی حد تک متفق ہوں۔ تاہم، ہمیں کتنی تعداد میں اپنے فوجی وہاں بھیجنے پڑیں گے؟ اس کے علاوہ، آپ نے سوچا کے اس سب پر کیا اخراجات ہوں گے اور اس آپریشن کا قومی اور بین الاقوامی طور پر امریکا پر کیا اثر پڑے گا؟"

اس بار مسٹر ڈینیسن اپنی کرسی سے اٹھے اور سیدھے صدر صاحب کے سامنے جا کر کھڑے ہو گئے جو نائب صدر فینبرگ کے ساتھ بیٹھے تھے۔ "میرے اعداد و شمار فوجی بجٹ کے حساب کے مطابق ہیں، فوجیوں کی تعداد، اسلحہ اور تمام دوسرے اخراجات پر لاکھوں ڈالرز خرچ ہوں گے، لیکن اس کاروائی کے لئے ہم بہت کم فوجیوں کا استمعال کریں گے۔ وہ ایک کمانڈو ایکشن کے ذریعے ہمارے شہریوں کو حفاظت سے ملک واپس لائیں گے"۔ مسٹر ڈینیسن پریذیڈنٹ ہاورڈ کے سامنے جھک گئے اور انکی آنکھوں میں دیکھتے ہوے کہنے لگے۔ "مسٹر پریذیڈنٹ، ہم دنیا کی بہترین تربیت یافتہ فورس، نیوی سیل کا استعمال کریں گے"۔

Check Also

Dhalte Suraj Ke Taqub Mein (6)

By Ayaz Khawaja