Wednesday, 27 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Idrees Abbasi
  4. Dawn Ke Ashar Rehman Se Murree Ki Sahafat Tak

Dawn Ke Ashar Rehman Se Murree Ki Sahafat Tak

ڈان کے اشعر رحمٰن سے مری کی صحافت تک

انیس سو ترانوے کا واقعہ ہے۔ میں لاہور میں اپنے ایک گم گشتہ اسکول فیلو اشعر رحمان کو ڈھونڈ رہا تھا، جس سے میری آخری ملاقات تقریباً پندرہ برس قبل، یعنی 1978 میں ہوئی تھی، جب وہ والد کی ٹرانسفر پہ اسلام آباد اسکول چھوڑ کر لاہور منتقل ہوگیا تھا۔ بہت جستجو کے بعد میں 5 ٹیمپل روڈ پر اس کے گھر پہنچا جو ریگل چوک کے قریب واقع تھا۔ گھنٹہ بھر ہم پرانی یادوں میں کھوئے رہے۔ اسی دوران میری نظر دیوار پر آویزاں ایک تصویر پر پڑی۔ میں نے اشعر سے پوچھا، "یہ کون ہیں؟"

لمبی زلفوں والے اشعر نے نہایت سادگی سے جواب دیا، "یہ میرے والد صاحب ہیں، آئی اے رحمان"۔

یہ سن کر میں چند لمحوں کے لیے ساکت رہ گیا۔ میرے لیے یہ ایک حیرت انگیز انکشاف تھا کہ میرا اسکول فیلو ایک ایسی علمی و صحافتی شخصیت کا بیٹا ہے جس کا نام پورے ملک میں دانش، شائستگی اور فکری وقار کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ مجھے اندازہ ہی نہ تھا کہ میرا دوست ایک ایسے گھرانے سے تعلق رکھتا ہے جہاں لفظوں کی حرمت کو عبادت کا درجہ حاصل ہے۔

پندرہ برس بعد کی اس ملاقات کے بعد اشعر مجھے اپنے دفتر لے گیا۔ وہ اس زمانے میں ڈان نیوز سے وابستہ تھا اور بعد ازاں ڈان لاہور کا ریذیڈنٹ ایڈیٹر بھی بنا۔ جب میں نیوز روم میں داخل ہوا تو میرے لیے وہ منظر کسی یونیورسٹی یا علمی درسگاہ سے کم نہ تھا۔ صحافی آپس میں ایک ایک لفظ پر بحث کر رہے تھے۔ کسی لفظ کے تاریخی پس منظر پر گفتگو ہو رہی تھی، کسی اصطلاح کے صحیح مفہوم پر۔ خبر محض لکھی نہیں جا رہی تھی بلکہ تراشی جا رہی تھی، جیسے کوئی سنار زیور تراشتا ہے۔

یہ وہ دور تھا جب نہ مصنوعی ذہانت تھی، نہ گوگل سرچ، نہ موبائل فون کی فوری سہولتیں۔ اگر کسی لفظ کا ماخذ جاننا ہوتا تو آکسفورڈ ڈکشنری کھولی جاتی، یا کسی سینئر صحافی کی دانش سے رجوع کیا جاتا۔ اسی روز واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والا ایک نیا لفظ وہاں زیرِ بحث تھا۔ اشعر اور اس کے ساتھی اس لفظ کو اردو صحافت کے تناظر میں سمجھنے اور آئندہ استعمال کے لیے اختیار کرنے پر غور کر رہے تھے۔ اس دریافت پر ان کے چہرے خوشی اور فخر سے دمک رہے تھے۔ اس دن میں نے پہلی بار صحافت کا اصل معیار دیکھا، ایسا معیار جہاں لفظ محض جملے نہیں بلکہ ذمہ داری ہوتے ہیں۔ وہیں پہ میں نے مشہور صحافی عامر متین، زبیدہ مصطفیٰ اور کالم نگار ایاز میر سے بھی ملاقات کی، وہ لوگ تھے جن کے نزدیک صحافت محض روزگار نہیں بلکہ ایک علمی ذمہ داری تھی۔ وہ لفظ کو چھاپنے سے پہلے اس کا وزن، اس کی تاریخ، اس کے سیاسی مضمرات اور اس کے سماجی اثرات تک پر غور کرتے تھے۔

صحافت کا دوسرا رخ میں نے دو ہزار دو کے لگ بھگ دیکھا، جب میں اپنے مقامی ایم پی اے شفقت عباسی کی انتخابی مہم کے سلسلے میں مختلف اردو اخبارات کے دفاتر جایا کرتا تھا۔ ان میں روزنامہ اوصاف، خبریں، ایکسپریس، جناح، نوائے وقت اور جنگ شامل تھے۔ اوصاف میں میرے دوست شفیق عباسی جو اس وقت اسائنمنٹ ایڈیٹر تھے، نے مجھے اردو صحافت کے عملی اسرار سے روشناس کرایا۔ اسی دور میں نوائے وقت کے ایڈیٹر جاوید صدیق سے بھی کثرت سے ملاقاتیں ہوئی جن سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔

وہ فیکس، کمپوزنگ اور ہاتھ سے لکھی خبروں کا زمانہ تھا۔ اسمارٹ فون ابھی دنیا میں نہیں آئے تھے۔ خبریں آتیں، ان کی ایڈیٹنگ ہوتی، پھر لفظوں کی کٹائی چھٹائی کا ایسا عمل شروع ہوتا کہ کبھی کبھی اصل خبر کا مفہوم ہی بدل جاتا۔ میں اکثر شفیق عباسی سے بحث کرتا کہ آپ لوگ خبر کو اتنا مختصر کرتے ہیں کہ اس کی روح ہی باقی نہیں رہتی۔ وہ ہنس کر کہتے، "خبر ہمیشہ الٹی قینچی سے کٹتی ہے، اس لیے اہم ترین بات شروع میں لکھا کرو"۔ رفتہ رفتہ میں نے سیکھ لیا کہ صحافت صرف لکھنے کا نام نہیں بلکہ یہ بھی ایک فن ہے کہ کون سا لفظ بچانا ہے اور کون سا قربان کرنا ہے۔ ایک وقت وہ آیا جب شفیق عباسی نے مجھے اسرار کیا آپ انجنئیرنگ چھوڑ کے صحافت میں آجاؤ۔

پھر دو ہزار دس کے بعد ایک تیسرا دور آیا، جس نے مجھے صحافت کے ایک نہایت تلخ اور خوفناک چہرے سے متعارف کرایا۔ میں اس وقت سرکاری ملازمت میں تھا۔ اس زمانے میں درجنوں نام نہاد صحافی، جو زیادہ تر شام کے اخبارات یا غیر معروف مقامی جرائد سے وابستہ ہوتے تھے، دفاتر میں آیا کرتے۔ ان کے ہاتھ میں پریس کارڈ ہوتا مگر نہ صحافت کی تعلیم، نہ تربیت، نہ اخلاقیات۔ ان کا اصل مقصد خبر نہیں بلکہ بلیک میلنگ ہوتا تھا۔

افسران ان کے آنے کی اطلاع سنتے ہی کمروں سے غائب ہو جاتے۔ ہر خبر کے عوض "معاوضہ" طلب کیا جاتا۔ اگر مطالبہ پورا نہ کیا جاتا تو اگلے دن کسی افسر کی کردار کشی پر مبنی سرخی اخبار میں لگی ہوتی۔ یہ وہ صحافت تھی جہاں قلم سچ کے لیے نہیں بلکہ خوف پیدا کرنے کے لیے استعمال ہو رہا تھا۔ بدقسمتی سے یہ دور اب تک چل رہا ہے۔

درحقیقت نوے کی دہائی تک کے بہتر صحافتی دور کے بعد پاکستان میں صحافت بھی کچھ اسی طرح پھیل کر زوال پذیر ہوئی ہے جیسے بے ہنگم انداز میں پراپرٹی ڈیلرشپ۔ نہ کوئی مضبوط لائسنسنگ سسٹم، نہ مؤثر کوڈ آف ایتھکس، نہ پیشہ ورانہ تربیت، نہ تعلیمی معیار۔ جس کے ہاتھ میں موبائل فون یا مائیک آیا، اس نے خود کو اینکر، تجزیہ نگار یا صحافی سمجھ لیا۔ جیسے ہر دوسرا شخص بغیر تربیت کے پراپرٹی ڈیلر بن بیٹھا، ویسے ہی ہر گلی محلے میں "ڈیجیٹل جرنلسٹ" پیدا ہوگیا۔

میں اس موضوع پر قلم اٹھانے ہی والا تھا، کیوں کہ کچھ روز قبل پراپرٹی ڈیلرز پر بھی لکھ چکا تھا، کہ اسی دوران مری سے متحرک نوجوان صحافی ارسلان ایاز نے "مری کی صحافت" کے موضوع پہ ڈان مری کے ہمارے دوست ڈاکٹر عابد عباسی کے ساتھ ایک پوڈ کاسٹ کر ڈالا۔ اگرچہ گفتگو مری تک محدود تھی، مگر اس کے ڈانڈے درحقیقت ملکی صحافت اور اس سے جڑے مسائل سے منسلک تھے۔ جس پہ ڈاکٹر عابد نے بڑی خوبصورتی سے روشنی ڈالی۔

آج مغرب میں سی این این، بی بی سی، وائس آف امریکہ، واشنگٹن پوسٹ، وال سٹریٹ جرنل، گارڈین، ٹیلیگراف جیسے ادارے اپنے صحافیوں کو برسوں تربیت دیتے ہیں۔ وہاں ایک رپورٹر کو خبر کی تصدیق، غیر جانبداری، قانونی حدود، انسانی حقوق، جنگی رپورٹنگ اور زبان کے استعمال تک کی تربیت دی جاتی ہے۔ صحافی کے لیے ضابطہ اخلاق موجود ہوتا ہے۔ غلط خبر اس کے پورے کیریئر کو ختم کر سکتی ہے۔

ان اداروں میں صحافیوں کو اچھی تنخواہیں، قانونی تحفظ، انشورنس، جدید سہولتیں اور پیشہ ورانہ عزت دی جاتی ہے۔ مگر بدلے میں ان سے دیانت، تحقیق اور ذمہ داری کا اعلیٰ معیار بھی طلب کیا جاتا ہے۔

پاکستان میں جب تک صحافت کے لیے واضح لائسنسنگ، مؤثر کوڈ آف ایتھکس، لازمی تعلیمی معیار اور سخت پیشہ ورانہ تربیت متعارف نہیں کرائی جاتی، تب تک صحافت کا وقار بحال نہیں ہو سکے گا۔ بین ہی جب تک صحافی کو مالی تحفظ، مناسب اجرت اور قانونی پروٹیکشن نہیں ملے گی، تب تک صحافت پیشہ کم اور مجبوری زیادہ بنی رہے گی اور جب تک قلم کو ذمہ داری کے بجائے ہتھیار سمجھا جاتا رہے گا اور صحافی غیر جانبدار ہو کے خبر نہیں بنائے گا، تب تک صحافت قوم کی رہنمائی کرنے کے بجائے خود بھٹکتی رہے گی۔

اب سب سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ کیا آئندہ الیکشن میں کوئی سیاسی جماعت اپنے منشور میں صحافت اور صحافی کے معیار اور ان کے حقوق کی پاسداری کی کوئی شق شامل کرے گی۔ میرا خیال ہے نہیں، کیونکہ پاکستانی سیاستدانوں کوایسی ہی صحافت سوٹ کرتی ہے جہاں سوشل میڈیا کی ایک پوسٹ بھی اگلے لمحے، بریکنگ نیوز بن جاتی ہے۔

اور ہاں صحافی اب ہوشیار رہیں، یہ ڈیجیٹل لٹریسی کا دور ہے، ان کی ایک ہی خبر یا پوڈ کاسٹ پہ جین زی ان کا ایکسرے کر لیتی ہے کہ وہ کس پارٹی سے ہیں اور پھر حصہ بقدر جثہ ان پہ تبرے بھی بھیجے جاتے ہیں۔

ویسے غیر جانبدار صحافی اب بقول ایک پہاڑی لفظ "دیلی بالنے" سے بھی نہیں ملتے، کیونکہ ان کی معاشی بقا کسی سے جڑنے میں ہی ہوتی ہے۔

باقی مری کے صحافیوں پہ میں کوئی تبصرہ نہیں کروں گا، اس پہ ڈاکٹر عابد پہلے ہی بول چکے ہیں۔ وہ میرے لئے چھوٹے بھائی بند ہیں اور کسی بھی چھوٹے ٹاؤن کی طرح ابھی ارتقائی مراحل میں ہیں۔ امید ہے وقت کے ساتھ ساتھ وہ بہت کچھ اچھا سیکھ جائیں گے۔

About Muhammad Idrees Abbasi

Engineer Muhammad Idrees Abbasi is former advisor world bank and writes on politics and social topics.

Check Also

Wadi e Soan Ki Tehzeeb

By Syed Jawad Hussain Rizvi