Monday, 09 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Syed Mehdi Bukhari
  4. Sab Pareshan Hain

Sab Pareshan Hain

سب پریشان ہیں

امریکا نے اشارہ دیا ہے وہ ایران میں سپیشل دستے اتارنے کا سوچ رہا ہے جن کا کام ایران کے پاس موجود 450 کلو گرام 60 فیصد افزودہ یورنیم کو قبضے میں لے کر اس کو محفوظ مقام تک پہنچانا ہوگا۔ اس پر ایرانی نائب وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ آ جا تینوں اکھیاں اُڈیکدیاں دل واجاں ماردا۔

سعودیہ نے بھائی صاحب کو پھر پیغام بھیجا ہے کہ او باز نئیں آ رے۔ بھائی صاحب نے کہا ہے بہت برا ہو رہا۔ آپ کے سامنے ٹویٹ تو ان سے کرا دی تھی۔ کال بیک کرتا ہوں آپ فون بند کریں۔ پھر سے ایران رابطہ کیا گیا ہے کہ خدارا ہماری مجبوری سمجھیں۔ انہوں نے پھر کہا ہے کہ وہ تو ٹھیک ہے آپ ہمارے بھائی ہیں لیکن پاسداران انقلاب کے اہلکار سینٹرل کمانڈ کے نہ ہونے کے سبب آزاد امیدوار کے طور پر جگہ جگہ ٹولیوں میں بٹ چکے ہیں اور ان کے ہاتھ میں چھوٹے بڑے میزائلز ہیں۔ تسی دسو میں کی کراں؟

صورتحال عرب لیگ کے اجلاس میں ڈسکس ہونے پہنچ گئی ہے۔ بہرحال، بھائی صاحب پریشان ہیں، ولی عہد زیادہ پریشان ہیں اور ایرانی سب سے زیادہ پریشان ہیں اور ٹرمپ بھی واش روم میں جا کر روتا ہے۔ مڈل ایسٹ میں آٹھ تھاڈ سسٹمز انسٹال تھے جن میں سے چار کو ایران کامیابی سے نشانہ بنا کر اڑا چکا ہے۔ جنگ سب کے دائرے سے باہر ہوگئی ہے۔

چینی بھائیوں کے ہاتھ سے وینزویلا جا چکا ہے۔ وہ وینزویلین آئل کے سب سے بڑے گاہک تھے۔ اس کے بعد وہ ایرانی تیل کے گاہک تھے۔ چینی بھائی بھی سخت پریشان ہیں۔ وہ ایران میں امریکا نواز رجیم دیکھنا چاہتے ہیں نہ ایران میں امریکی شہہ پر کوئی خانہ جنگی افورڈ کر سکتے ہیں۔ البتہ ان کو ایک بات کی راحت ہے کہ تائیوان کے دفاع واسطے نصب کیے گئے اینٹی میزائل سسٹم امریکا منتقل کر رہا ہے۔ تاحال تائیوان کا دفاع کمزور ہو رہا ہے البتہ چین اس موقع سے فائدہ اٹھا کر تائیوان کا محاذ نہیں کھولنا چاہے گا۔ اس کا ملٹری ڈاکٹرائن ایکسپنشن اور جنگ لگانے کے خلاف ہے۔ چائنہ کا مفاد صرف و صرف عالمی تجارت میں ہے جو اسے معاشی سپرپاور بنا رہا ہے۔ جنگیں اس کے مفاد کے خلاف ہیں اور ایران میں کوئی بھی تبدیلی یا جنگی صورتحال بھی اس کے مفادات کے خلاف ہے۔

جاپانی اور ساؤتھ کورین بھائی بھی پریشان ہو چکے ہیں۔ وجہ تائیوان کے دفاعی نظام کو مڈل ایسٹ کی جانب منتقل کرنا ہے۔ یہ دفاعی نظام جاپان اور کوریا کا بھی راکھا تھا۔ گویا ان کے لیے تو ایسا ہے جسے ابا نے سر سے ہاتھ اُٹھا لیا ہو۔ وہ دونوں امریکا کو واٹس ایپ کر رہے ہیں کہ مرو ساڈا کی قصور اے؟

اس سارے جنجال پورے میں اگر کوئی خوش ہے تو وہ پوٹن ہے۔ پوٹن بھیا کے لیے خوشخبری ہے۔ یوکرین سے توجہ ہٹ رہی ہے اور یوکرین کا ساز و سامان بھی منتقل کیا جا رہا ہے۔ امریکا نے اس سے ایرانی شاہد ڈرونز کے توڑ واسطے مدد مانگی ہے۔ زلینسکی نے بھی موقع پر چوکا لگاتے کہا ہے ہاں ہاں کیوں نہیں مدد لے لو مگر سالو، ہماری باری تو ہاتھ اُٹھا دیتے ہو۔ دراصل یوکرین کو روسی ایم نائن ڈرونز سے نپٹنے کا تجربہ ہے۔ ایم نائن دراصل ایرانی شاہد ڈرونز کا ہی دوسرا نام ہے۔ وہی ٹیکنالوجی، وہی ساخت۔ بس نام تبدیل ہیں۔ جنگ کا پھیلاؤ پوٹن کے حق میں ہے۔ کئی ممالک تیل کی خریداری کے لیے اس کی جانب دیکھنے پر مجبور ہوں گے۔

اور آپ پاکستانیو، آپ کے لیے آنے والے دن بہت زیادہ مالی پریشانیاں لانے والے ہیں۔ تُسی اودوں تائیں ریلز ویخو، میزائل اڈدے انجوائے کرو، زندہ باد مردہ باد دے نعرے لاؤ۔ والسلام

Check Also

Beti, Qalam Aur Tareekh Ka Qarz

By Peer Intizar Hussain Musawir