America Iran Muahida, Dunya Ne Sukh Ka Saans Liya
امریکا ایران معاہدہ، دنیا نے سکھ کا سانس لیا

پاکستان کی مدد سے طویل مذاکرات کے بعد آخرکار امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ ہوگیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو کھول جائے گا، جنگ بندی میں ساٹھ دن کی توسیع کی جائے گی اور ایران کے جوہری پروگرام پر باضابطہ مذاکرات کا آغاز ہوگا۔ لبنان میں امن بھی معاہدے کا حصہ ہے۔ پاکستان اور قطر کی ثالثی میں طے پانے والے اس معاہدے پر دستخط کی باضابطہ تقریب جمعہ کو سوئزرلینڈ میں متوقع ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ، وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی حکام کی جانب سے معاہدے کا اعلان تقریباً بیک وقت کیا گیا۔ صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ معاہدہ مکمل ہوچکا ہے اور آبنائے ہرمز کھلنے کے ساتھ عالمی جہاز رانی اور تیل کی ترسیل معمول پر آجائے گی۔ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل اور نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے بھی تصدیق کی کہ مفاہمتی یادداشت کا متن حتمی طور پر طے ہوچکا ہے۔
فائننشل ٹائمز نے رپورٹ کیا ہے کہ نئی مفاہمتی یادداشت کے مطابق ایران اگلے تیس دن کے دوران آبی راستے سے بارودی سرنگیں صاف کرے گا اور مرحلہ وار جہاز رانی بحال کی جائے گی۔ اس دوران ایران کسی قسم کا اضافی ٹول یا فیس وصول نہیں کرے گا جبکہ امریکا اپنی بحری ناکابندی ختم کرے گا۔ آبنائے ہرمز عالمی معیشت کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ دنیا کے تقریباً بیس فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔ جنگ کے دوران اس راستے کی بندش نے توانائی کی عالمی منڈیوں میں شدید بے چینی پیدا کردی تھی اور تیل کی قیمتیں کئی برسوں کی بلند ترین سطحوں تک پہنچ گئی تھیں۔
معاہدے کا دوسرا اہم پہلو ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ہے۔ دونوں فریقوں نے ساٹھ روزہ مذاکراتی مدت پر اتفاق کیا ہے جس کے دوران ایران کی یورینیم افزودگی، افزودہ یورینیم کے ذخائر اور مستقبل میں بین الاقوامی نگرانی کے طریقہ کار پر بات چیت ہوگی۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کا وعدہ کرے گا۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران کے پاس اس وقت نو ہزار کلوگرام سے زیادہ افزودہ یورینیم موجود ہے۔ اس میں سے تقریباً 440 کلوگرام مواد ہتھیار سازی کے قریب سمجھی جانے والی سطح تک افزودہ کیا جاچکا ہے۔ مجوزہ مذاکرات میں اس ذخیرے کو کم افزودگی والی سطح پر لانے، اسے محفوظ بنانے یا کسی متفقہ بین الاقوامی طریقہ کار کے تحت ٹھکانے لگانے کے امکانات پر غور کیا جائے گا۔ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی بھی ممکنہ نگرانی میں کردار ادا کرسکتی ہے۔
معاہدے میں ایران کو اقتصادی مراعات دینے کی بھی بات کی گئی ہے۔ امریکی ذرائع کے مطابق جنگ بندی کے دوران ایران کو تیل فروخت کرنے کے لیے خصوصی رعایت دی جاسکتی ہے۔ بعض ایرانی رپورٹس میں 24 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کی مرحلہ وار بحالی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ البتہ پابندیوں میں نرمی کا انحصار جوہری مذاکرات کی کامیابی اور ایران کی جانب سے طے شدہ شرائط پر عمل درآمد سے مشروط ہوگا۔
ہاریٹز کے مطابق معاہدے میں کئی حساس موضوعات کو جان بوجھ کر شامل نہیں کیا گیا۔ ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے مہر کے مطابق ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں اس کی حمایت یافتہ تنظیموں کے بارے میں کوئی شق شامل نہیں کی گئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ معاہدہ بنیادی طور پر جنگ بندی، جہاز رانی اور جوہری مذاکرات تک محدود ہے۔ اس نکتے پر اسرائیل اور امریکا کے بعض سخت گیر حلقوں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کے خیال میں اگر میزائل پروگرام اور ایران کے علاقائی اتحادیوں کا مسئلہ حل نہیں ہوتا تو خطے میں کشیدگی کے بنیادی اسباب برقرار رہیں گے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ موجودہ معاہدے کا مقصد فوری جنگ کا خاتمہ اور اعتماد سازی ہے، جبکہ دوسرے پیچیدہ مسائل بعد میں زیر بحث لائے جاسکتے ہیں۔
یہ معاہدہ آخری لمحات تک خطرے میں رہا۔ لبنان میں حزب اللہ کے ایک مبینہ مرکز پر اسرائیلی حملے کے بعد ایران نے مذاکرات سے دستبردار ہونے کی دھمکی دی تھی۔ امریکی، قطری اور پاکستانی سفارت کاروں نے فوری رابطوں کے ذریعے صورتحال کو سنبھالا۔ امریکی اور اسرائیلی ذرائع کے مطابق ایران نے اسرائیل کے خلاف ممکنہ جوابی کارروائی کی تیاریاں بھی شروع کردی تھیں، لیکن بالآخر سفارتی کوششیں کامیاب رہیں اور مذاکرات جاری رہے۔
معاہدے کی خبروں پر معاشی اثرات فوری طور پر ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 4.7 فیصد گر گئی جبکہ جاپان سمیت ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں نمایاں تیزی دیکھی گئی۔ سرمایہ کاروں نے اسے توانائی کے بحران میں ممکنہ کمی کی علامت قرار دیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلنے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی رسد میں اضافہ ہوگا اور نتیجے میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مزید کم ہوں گی۔ یورپ، ایشیا اور امریکا میں مہنگائی پر قابو پانے کی کوششوں کو بھی اس سے مدد ملے گی۔ ماہرین اس معاہدے کو صرف ایک سفارتی کامیابی نہیں بلکہ عالمی توانائی کی منڈیوں کے لیے خوشگوار موقع قرار دے رہے ہیں۔

