Kya Mazhab Jang Ka Baais Hai?
کیا مذہب جنگ کا باعث ہے؟

کیا مذہب جنگوں اور خون ریزی کا باعث بنا اور دنیا میں زیادہ جنگیں مذہب کے نام پر لڑی گئیں؟
ایک تاثر غلط العام ہے کہ مذہب نے لوگوں کے بیچ خون زیادہ بہایا اور محبت کم پیدا کی۔ جیسا کہ ہمارے ہاں چلن ہے کہ جو بات معروف ہو جائے لوگ اس پر بغیر غوروفکرکے نہ صرف یقین کر لیتے ہیں بلکہ اس کی تشہیر بھی کرتے ہیں۔ کسی مروجہ خیال کو قبول کرنا آسان ہوتا ہے کہ اس میں دماغی ورزش کا تردد نہیں کرنا پڑتا۔
آئیے حقیقت کو دیکھتے ہیں دلیل کا چشمہ لگا کر، جذبات سے بالاتر ہو کر۔
تاریخی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ جنگوں کی بنیادی وجہ بہت کم مواقع پر مذہب رہا ہے۔ انسانی تاریخ کی زیادہ تر جنگیں اقتدار کے حصول، زمین اور علاقوں کی توسیع، وسائل پر قبضے یا سیاسی غلبے کے لیے لڑی گئیں۔ البتہ بعض اوقات مذہب کو عوام کو متحرک کرنے یا جنگ کو جائز قرار دینے کے لیے ایک نعرے یا جواز کے طور پر ضرور استعمال کیا گیا۔
مورخین کی تحقیق اور دستیاب اعداد و شمار بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
معروف مورخ میتھیو وائٹ نے تاریخ میں درج بڑی جنگوں کا جائزہ لے کر یہ نتیجہ نکالا کہ صرف تقریباً چھ سے سات فیصد (6%، 7%) جنگیں ایسی تھیں جن میں مذہب بنیادی سبب تھا، جبکہ نوّے فیصد سے زیادہ جنگوں کے پیچھے سیاسی، معاشی، علاقائی یا خاندانی اقتدار کی وجوہات کارفرما تھیں۔ اسی طرح معروف اور معتبر "انسائیکلوپیڈیا آف وارز" میں تاریخ کی ایک ہزار سات سو تریسٹھ جنگوں کا تذکرہ ہے۔ ان کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ ان میں سے صرف ایک سو تئیس جنگیں بنیادی طور پر مذہبی نوعیت کی تھیں، جو کُل تعداد کا تقریباً سات فیصد بنتی ہیں۔
یقیناً تاریخ میں چند ایسی جنگیں ضرور موجود ہیں جن میں مذہب نے نمایاں کردار ادا کیا، جیسے صلیبی جنگیں جو گیارہویں سے تیرہویں صدی تک جاری رہیں یا یورپ کی تیس سالہ جنگ اور قرونِ وسطیٰ کے یورپ میں کیتھولک اور پروٹسٹنٹ ریاستوں کے درمیان ہونے والے بعض تنازعات۔ لیکن اگر تاریخ کی بڑی اور فیصلہ کن جنگوں پر نظر ڈالی جائے تو ان کی نوعیت زیادہ تر سیاسی یا سامراجی رہی ہے۔ پہلی عالمی جنگ قوم پرستی اور بین الاقوامی اتحادوں کی کشمکش کا نتیجہ تھی، دوسری عالمی جنگ فاشزم اور توسیع پسندانہ عزائم کا اظہار تھی، نپولینی جنگیں سلطنت اور اقتدار کے پھیلاؤ کی جدوجہد تھیں، منگول فتوحات وسیع علاقائی تسلط کے لیے لڑی گئیں، جبکہ سرد جنگ بنیادی طور پر نظریاتی اور سیاسی طاقت کی عالمی کشمکش تھی۔ ان میں سے کسی بھی بڑی جنگ کی اصل وجہ مذہب نہیں تھا۔
پھر بھی یہ خیال عام کیوں ہوگیا کہ زیادہ تر جنگیں مذہب کی وجہ سے ہوئیں؟
اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ مذہبی جنگیں تاریخی طور پر بہت نمایاں اور یادگار رہی ہیں، مثلاً صلیبی جنگیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ بہت سی جنگوں میں اصل محرکات سیاسی یا معاشی ہوتے ہیں لیکن عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے مذہبی جذبات کو استعمال کیا جاتا ہے۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ جدید فکری اور سیاسی مباحث میں بعض اوقات تنازعات کی وضاحت کرتے ہوئے مذہب کے کردار کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دے دی جاتی ہے۔ ایک وجہ اور بھی ہے کہ ایسی جنگوں کا تذکرہ زیادہ رومانی اور جذباتی لگتا ہے، ہمارے نسیم حجازی اور(خاصی حد تک بُھلا دیے گئے) الیاس سیتا پوری سے لے کر مغربی والٹر اسکاٹ نے صلیبی اور مذہبی جنگوں پر ناول لکھے اور ان پر فلمیں بنیں (پی ٹی وی پر ڈرامے بھی)، سو یہ زیادہ نمایاں ہوئیں۔
چنانچہ تاریخی شواہد کا مجموعی جائزہ یہی بتاتا ہے کہ مذہب کے سبب ہونے والی جنگیں مجموعی طور پر چھ سے سات فیصد کے لگ بھگ ہیں، جبکہ نوّے فیصد سے زیادہ جنگیں ایسی ہیں جن کی بنیادی وجوہات مذہب کے علاوہ سیاسی، معاشی یا علاقائی نوعیت کی تھیں۔ اس لیے یہ کہنا کہ تاریخ کی زیادہ تر جنگیں مذہب کے نام پر لڑی گئیں، تاریخی اعتبار سے درست بات نہیں ہے۔
گزشتہ چند دہائیوں کی جنگیں جیسا کہ ویت نام، کورین، روس و امریکہ کی افغانستان میں (کمیونزم و سرمایہ دارانہ نظام کے بیچ) جنگ(اس میں مذہب ایک جُز تھا)، یہاں تک کہ خاصی حد تک پاک و ہند کی (کشمیر و بنگلہ دیش - بھارتی فوج میں مسلمان فوجی بھی تھے اور دوسری میں تو بھارتی فوج خالصتاً بنگالی مسلمانوں کا ساتھ دے رہی تھی) جنگیں اور حالیہ پاکستان اور افغانستان کے مابین جھڑپیں خالصتاً مذہبی جنگوں کے ذیل میں نہیں آتیں۔
سو بہتر ہے کہ جب کوئی خیال سامنے آئے تو آدمی اس پر یقین کرنے سے پہلے اسے جانچ پرکھ لے۔

