Saturday, 14 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Noorul Ain Muhammad
  4. Ilzam Ka Daagh

Ilzam Ka Daagh

الزام کا داغ

معاشروں کی بنیاد صرف قانون یا طاقت پر نہیں بلکہ اعتماد اور عزت پر قائم ہوتی ہے۔ جب کسی انسان کی عزت کو بے بنیاد الزام کے ذریعے مجروح کیا جاتا ہے تو یہ صرف ایک فرد کی تذلیل نہیں ہوتی بلکہ پورے معاشرے کی اخلاقی بنیادوں کو ہلا دیتی ہے۔ ہمارے دیہات اور چھوٹے معاشروں میں عزت اور ساکھ کی اہمیت اور بھی زیادہ ہوتی ہے، جہاں ایک لفظ یا ایک خبر پورے علاقے میں بجلی کی طرح پھیل جاتی ہے۔

ایک گاؤں کی پنچائیت میں پیش آنے والا واقعہ اس حقیقت کو بڑی شدت سے واضح کرتا ہے۔ گاؤں کے مولوی صاحب جو لوگوں کے مذہبی رہنما تھے، جن کے پاس لوگ اپنے تنازعات کے فیصلے کروانے آتے تھے، اچانک ایک الزام کی زد میں آ گئے۔ ایک میراثی نے سب کے سامنے بلند آواز میں اعلان کر دیا کہ چوری کی بھینس مولوی صاحب کے باڑے سے نکلی ہے۔ یہ جملہ گویا ایک تیر کی طرح تھا جو سیدھا مولوی صاحب کی عزت پر جا لگا۔

پنچائیت کا ماحول یکدم بدل گیا۔ جو لوگ ابھی تک احترام سے مولوی صاحب کی بات سن رہے تھے وہ خاموشی سے اٹھنے لگے۔ کسی نے سوال نہیں کیا، کسی نے تحقیق کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ صرف ایک الزام نے برسوں کی عزت کو چند لمحوں میں مشکوک بنا دیا۔

کچھ دیر بعد جب میراثی واپس آیا اور اس نے معافی مانگتے ہوئے بتایا کہ بھینس دراصل مولوی صاحب کے ہمسائے کے باڑے سے ملی ہے اور اس سے غلطی ہوگئی تھی، تو بظاہر معاملہ ختم ہو جانا چاہیے تھا۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ تلخ تھی۔ مولوی صاحب نے بڑے کرب کے ساتھ کہا کہ اب چاہے جو ہو جائے، لوگ انہیں باقی زندگی "چور مولوی" ہی کہیں گے۔

یہ جملہ ہمارے معاشرے کی ایک تلخ سچائی کو عیاں کرتا ہے۔ الزام لگانا بہت آسان ہے، مگر اس کے اثرات کو مٹانا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔ لوگ خبر کو سننے میں جلدی کرتے ہیں لیکن سچائی جاننے میں نہیں۔ بدنامی کی خبر ہوا سے بھی تیز پھیلتی ہے جبکہ صفائی کی آواز اکثر لوگوں تک پہنچ ہی نہیں پاتی۔

بدقسمتی سے آج کے دور میں یہ مسئلہ مزید سنگین ہو چکا ہے۔ سوشل میڈیا کے زمانے میں بغیر تحقیق کے کسی پر الزام لگانا، جھوٹی خبریں پھیلانا یا کردار کشی کرنا عام ہوگیا ہے۔ ایک پوسٹ، ایک ویڈیو یا ایک افواہ کسی کی برسوں کی محنت سے کمائی ہوئی عزت کو لمحوں میں خاک میں ملا سکتی ہے۔

اسلام بھی ہمیں یہی تعلیم دیتا ہے کہ کسی پر الزام لگانے سے پہلے تحقیق کی جائے اور کسی کی عزت کو نقصان پہنچانے سے بچا جائے۔ قرآن کریم میں بھی واضح ہدایت ہے کہ اگر کوئی خبر آئے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم نادانی میں کسی کو نقصان پہنچا بیٹھو۔

لہٰذا ضروری ہے کہ ہم اپنے الفاظ کی ذمہ داری کو سمجھیں۔ کسی پر الزام لگانے سے پہلے سو بار سوچیں، کیونکہ عزت ایک نازک شیشے کی طرح ہوتی ہے۔ یہ اگر ٹوٹ جائے تو اسے جوڑنا ممکن تو ہوتا ہے، مگر اس کی دراڑیں ہمیشہ باقی رہتی ہیں۔

معاشرے کی بھلائی اسی میں ہے کہ ہم سچائی، تحقیق اور انصاف کو اپنی عادت بنائیں، تاکہ کسی بے گناہ کی عزت محض ایک غلط جملے کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے داغدار نہ ہو۔

Check Also

Qalam Se Inqilab

By Nouman Ali Bhatti