Mosam Badal Raha Hai
موسم بدل رہا ہے

بقول اقبال "ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں" کے مصداق جشنِ بہاراں کی آمد کی ساتھ موسم بدل رہا ہے۔ سیاسی موسم میں بھی تبدیلی محسوس ہو رہی ہے۔ ایک سین ہے جو ہمارے سامنے چل رہا ہے۔ پسِ پردہ کیا چل رہا ہے اس کا بھید تب کھلے گا جب کھیل ختم ہوگا۔
ایک اوسط درجے کے صحافی اسد اللہ خان وہ خبر دیتے ہیں جو کوئی بڑا صحافی اپنے تمام تر وسائل و تعلقات کے باوجود نہیں دے سکا۔ خبر یہ کہ عمران خان صاحب کو اڈیالہ سے پمز ہسپتال آنکھ کے علاج کے لیے لایا گیا۔ اس خبر پر تحریک انصاف تشویش کا اظہار کرتے احتجاج کرنا شروع ہوتی ہے۔ جب اسد اللہ خان سے پوچھا جاتا ہے آپ کو یہ خبر کس نے دی؟ تو وہ ذو معنیٰ جواب دیتے فرماتے ہیں پمز ہسپتال کے باہر کسی بندے نے دیکھ کر دی۔ اس خبر کے بعد اگلے دو روز میں سلمان اکرم راجہ سمیت کچھ رہنما سپریم کورٹ کے باہر کچھ گھنٹوں کا دھرنا دیتے ہیں اور چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملاقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اس مطالبے کو رجسٹرار سپریم کورٹ پہلی بار میں مسترد کرتے ہیں لیکن پھر چیف جسٹس ان کو ملاقات کے لیے بلا لیتے ہیں۔
ملاقات کے بعد اگلے روز چیف جسٹس عدالت لگاتے ہیں۔ عمران خان صاحب کے مقدمات میں وکیل سلمان صفدر کو "فرینڈ آف کورٹ" مقرر کیا جاتا ہے اور ان کی خان صاحب سے ملاقات کے واسطے آرڈر جاری ہوتا ہے۔ سلمان صفدر اڈیالہ میں طویل ملاقات کرتے ہیں۔ پھر عدالت میں وہ رپورٹ پیش کرتے ہیں جو تشویشناک ہے۔ رپورٹ کے مطابق دائیں آنکھ کی 85 فیصد بینائی ختم ہو چکی ہے۔ اس رپورٹ کو عدالت پبلک کرتے ہوئے حکومت کو سولہ فروری تک میڈیکل بورڈ بنا کر علاج کرنے کی ہدایات جاری کرتی ہے۔ اس رپورٹ کے بعد ملکی سیاست میں ہیجان طاری ہونے لگتا ہے۔ تحریک انصاف کے راہنما مشتعل بیانات دینے لگتے ہیں۔ پارلیمان لاجز کے باہر دھرنا دیتے ہیں۔ کارکنان اسلام آباد پشاور موٹر وے کو بند کرتے ہیں۔ تازہ خبر یہ ملی ہے کہ شاید الشفاء ہسپتال کو سب جیل قرار دے کر علاج کی غرض سے وہاں منتقل کیا جائے۔
اس سارے جھٹ پٹے سین کو آپ جیسے بھی دیکھتے ہوں وہ آپ دیکھیں۔ میں اس منظر کو اور ڈھنگ سے دیکھتا ہوں۔ خان صاحب کی آنکھ کا مسئلہ حقیقی ہے اور ان کو علاج کی ضرورت ہے۔ اس میں دو رائے نہیں ہے۔ البتہ جیسے یہ سب منظر نامہ ڈویلپ ہوا ہے اس پر بہت سے سوالات ہیں۔
اسد اللہ خان کو کس نے خبر فیڈ کی۔ ایسی خبر جو بڑے صحافیوں تک نہ پہنچ پائی۔ وہی چیف جسٹس صاحب جن کو تحریک انصاف ظالم، یزیدیت کا ساتھی اور نجانے کیا کیا کہہ رہی تھی وہ اچانک "حق سچ" کے جج کیسے بن گئے۔ چلیں یہ خوش آئند ہے کہ وہ حق سچ کے جج بن گئے۔ اٹارنی جنرل آف پاکستان یا کسی ایسے نامور بیرسٹر کو جس کی کوئی سیاسی وابستگی نہ ہو اس کی بجائے سلمان صفدر صاحب کو "فرینڈ آف کورٹ" بنانے میں کیا حکمت پوشیدہ ہے اور یہ تخمینہ کیسے لگایا جا سکتا ہے کہ آنکھ کی بینائی 85 فیصد ختم ہوگئی ہے۔ یہ کس ڈاکٹر نے بینائی کے متعلق اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ آنکھ کا علاج ہر صورت ممکن بنایا جائے۔ اس امر میں کوئی ریلیف دینا مقصود ہو تو وہ بھی دے دیا جائے۔ ملک میں سالوں سے جاری سیاسی افراتفری کو جیسے بھی کم کیا جا سکے کرنا چاہئیے۔ ڈیل ہو یا ڈھیل ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا بلآخر یہی راہ ہوتی ہے۔ سب اسی راہ کے مسافر ہوئے تو ہی بچ پائے۔ ہر سیاسی جماعتوں کی قیادت نے بھی وہی راہ اختیار کی ہے۔ فریقین بند گلی میں پھنس چکے تھے ایک دوسرے کو راستہ دے کر ہی نکلا جا سکتا ہے۔
تاحال میں نہیں سمجھتا کہ کوئی ڈیل ہے یا کہیں ڈیل ہو رہی ہے۔ البتہ میں اس سارے پراسس کو ایک دوجے پر اعتماد سازی کی ایک شکل کے طور پر دیکھتا ہوں۔ کچھ عرصہ اگر اعتماد سازی کی فضا رہی یا اس میں اضافہ ہوا تو آگے چل کر معاملات حتمی طور پر "سیٹل" ہو سکتے ہیں اور اگر اس بیچ پھر سے شعلہ بیانی کی گئی یا ایک دوسرے پر زبانی توپیں داغیں گئیں تو معاملات ریورس ہو جائیں گے۔ ابھی تک تو اعشاریے مثبت ہیں۔ تحریک انصاف کا مؤقف تھا کہ اڈیالہ جیل کے سپریٹنڈنٹ کی کیا اوقات ہے، اس کو تو جیل میں بیٹھا ایک کرنل ہدایات دیتا ہے اور کرنل کو فیلڈ مارشل صاحب ہدایات دیتے ہیں۔ مگر اب وہ صرف و صرف سابقہ جیل سپریٹنڈنٹ غفور انجم کا نام لے رہے ہیں۔ اس پر مقدمہ بنانے کا کہہ رہے ہیں۔ کسی کرنل کا ذکر نہیں کر رہے اور کرنل کے باس عاصم منیر کا ذکر نہیں کر رہے۔ خیبرپختونخوا میں بھی سہیل آفریدی صاحب کور کمانڈر پشاور کے ساتھ مثبت پیش رفت کرتے دکھائی دے رہے ہیں اور بھی بہت سے معاملات "درست" سمت میں چل رہے ہیں جن کو قلمبند کرنے میں تحریر طویل ہو جائے گی وہ پھر سہی۔
مل ملا کر لگ رہا ہے موسم بدل رہا ہے۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ واقعی تحریک انصاف کے لیے بھی بہار موسم آتا ہے یا پھر کسی حرکت، کسی بیان یا شعلہ بیانی کے سبب سردیاں لوٹ آتی ہیں اور ژالہ باری شروع ہو جاتی ہے۔ یہ تو آنے والا وقت ہی بتا سکے گا۔ میری رائے میں فریقین کے آپسی معاملات جس قدر جلد بہتر ہو جائیں اتنا ہی ملک کے لیے نیک شگون ہوگا۔ سب اپنی اپنی سمت درست کریں۔ سیاست کو سیاست تک محدود رکھیں۔ باہمی عزت و احترام کا دائرہ نہ پھلانگیں۔ ایک دوجے کے سیاسی وجود کو تسلیم کرنا سیکھیں۔ جنرل صاحبان سپیس پیدا کریں اور سیاسی جماعتوں کو آپس میں مقابلہ کرنے دیں۔ ان کے لیے اپنے پھیلے ہوئے سٹیکس کو سمیٹنا ناممکن حد تک مشکل ہے مگر اتنا تو کر سکتے ہیں کہ دو قدم پیچھے ہٹ کر ہر کسی کو اس کی راہ دیں، موقع دیں۔ یہ سبق سب ہر سیاسی جماعت نے سیکھ لیا ہے کہ سانڈ کے ساتھ سینگ پھنسانا نرا توانائی و وقت کا ضیاع اور مشکلات کو دعوت دینے کے برابر ہے۔ یہی اس ملک کے پتھریلے زمینی حقائق ہیں۔

