Tuesday, 03 March 2026
  1.  Home
  2. Javed Chaudhry
  3. Ikhtitam Ka Aghaz

Ikhtitam Ka Aghaz

اختتام کا آغاز

"ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں، ہم ان میں جتنا جی سکتے ہیں جی لیں، اس کے بعد موت کے سوا کچھ نہیں ہوگا" ربی کی آواز میں یقین تھا، میں نے عرض کیا "میرا خیال ہے 218 سال ہیں" اس نے فوراً ہاں میں سر ہلایا اور بولا "آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں لیکن اختتام کا آغاز 35 برس میں ہو جائے گا، اس کے بعد 179 سال صرف جنگیں اور موت ہوگی لہٰذا امن اور وہ بھی ادھورے امن کے صرف 35 سال بچے ہیں، میرے دوست جتنا جی سکتے ہو جی لو" میں نے اس سے اتفاق کیا۔

ہمارے دائیں بائیں طنجے شہر کی رونقیں بہہ رہی تھیں، ہم مراکو کے اس قدیم شہر کے قدیم محلے میں بیٹھے تھے جس کی پتھریلی گلیوں میں کبھی ابن بطوطہ اور ابن عربی ٹہلتے تھے اور ان کے مرید، ان کے طالب علم ان کے پیچھے پیچھے علم اورعقل کے موتی چنتے رہتے تھے، ربی طنجے شہر کے قدیم سینا گوگ کا متولی تھا، یہ سینا گوگ طنجے کے سکالر بزنس مین اور بینکر موشے ناہن (Moshe Nahon) نے 1870ء میں بنایا تھا اور یہ اسی سے منسوب تھا۔

میں چار سال قبل دو دن کے لیے طنجے گیا، میرے ہوٹل میں احمد کام کرتا تھا، وہ شہر کے قدیم حصے مدینہ میں سیناگوگ کے قریب رہتا تھا، میری اس سے گپ شپ ہوئی تو اس نے سینا گوگ کے بارے میں بتایا اور میرا اس کے ساتھ 50 ڈالر میں سودا ہوگیا، اس نے 50 ڈالر میں مجھے سینا گو کی وزٹ بھی کرانی تھی اور ربی سے بھی ملانا تھا، میں شام کے وقت احمد کے ساتھ سیناگوگ چلا گیا، ربی سے ملاقات ہوئی، اس کا نام جیکب تھا، وہ پیشے کے لحاظ سے وکیل تھا، سیناگوگ میں پارٹ ٹائم کام کرتا تھا۔

طنجے کے یہودی اسرائیل نقل مکانی کر چکے تھے چناں چہ سیناگوگ میں عبادت نہیں ہوتی تھی، جیک صرف عمارت کی صفائی، ستھرائی اور عبادات کی قدیم کتابوں کا خیال رکھتا تھا، وہ ایک ماڈرن شخص تھا جسے عربی کے ساتھ ساتھ انگریزی، فرنچ اور سپینش زبانیں آتی تھیں، وہ پورے نارتھ افریقہ کے سیناگوگ کا محافظ تھا، وہ کام کے سلسلے میں مراکو، تیونس اور الجزائر میں گھومتا پھرتا رہتا تھا، میں نے جیکب کو کافی کی دعوت دی، اس نے قبول کر لی اور ہم "جاسوسوں کے کیفے" میں بیٹھ گئے۔

دوسری جنگ عظیم کے زمانے میں مختلف ملکوں کے جاسوس اس کیفے میں بیٹھ کر خبریں سونگھتے رہتے تھے لہٰذا یہ جاسوسوں کا کیفے مشہور ہوگیا، اس واقعے کو 85 سال گزر چکے ہیں لیکن یہ آج بھی جاسوسوں کا کیفے کہلاتا ہے، میں نے گفتگو کے دوران ربی جیکب سے یہودی کیلنڈر کے بارے میں پوچھا، اس کا کہنا تھا یہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے، بنی اسرائیل کا عقیدہ ہے وقت کا یہ دور چھے ہزار سال پر مشتمل ہے، ہم یہ دور حضرت آدمؑ اور حضرت حواء کی دنیا میں آمد سے سٹارٹ کرتے ہیں۔

ہمارے خیال کے مطابق ہمارے کیلنڈر کے 5782 (2021ء میں) گزر چکے ہیں لہٰذا دنیا کے خاتمے میں صرف 218 سال بچے ہیں (2026ء میں یہ 214 سال رہ گئے ہیں) یہ کل تخمینہ ہے جب کہ زبور کے مطابق آج سے 35 برس کے اندر (آج 31سال) دنیا میں بڑی اور خوف ناک جنگ شروع ہوگی، یہ آہستہ آہستہ بڑھتی چلی جائے گی اور 180 سال جاری رہے گی، آخر میں پوری دنیا فنا ہو جائے گی، زمین پر کوئی پودا بچے گا، درخت اور نہ کوئی چرند پرند، صرف راکھ ہوگی اور پانی ہوگا چناں چہ میرے بھائی ہمارے پاس صرف 35 برس ہیں، آپ ان کو جتنا اچھا گزار سکتے ہو گزار لو، اس کے بعد دکھوں کے سوا کچھ نہیں ہوگا"۔

میں نے اس کی بات توجہ سے سنی، وہ خاموش ہوا تو میں نے عرض کیا "آپ لوگ جب اس حقیقت سے واقف ہیں تو پھر امن کو اہمیت کیوں نہیں دیتے؟ آپ کی اپنی کتابوں میں لکھا ہے دنیا کی آخری جنگ کا آغاز ایران اور شام کی سرحدوں (میسوپوٹیمیا) سے ہوگا اور مشرق وسطیٰ اس کا مرکز بنے گا، آپ پھر بار بار ایران اور شام میں پنگا کیوں کرتے ہیں، آپ سوئی ہوئی جنگ کو آواز کیوں دیتے ہیں؟" جیکب نے سنا اور ہنس کر بولا "میرے بھائی یہ انسان کا مقدر ہے، ہم جتنی چاہیں احتیاط کر لیں ہم نصیب سے نہیں لڑ سکیں گے، آپ دیکھ لینا اگلے چند برسوں میں ایسے لوگ سامنے آئیں گے جو جنگ کو کھود کر نکالیں گے، جو اسے ہمارے گھروں تک لے آئیں گے، ہم جتنی چاہے کوشش کر لیں ہم ہونی کو ٹال نہیں سکیں گے، یہ جنگ تل ابیب سے ہوتی ہوئی مکہ تک پہنچے گی، یہ انسانیت کا مقدر ہے لہٰذا میرے دوست آپ مذہب اور شہریت سے بالاتر ہو کر جتنا وقت امن اور سکون سے گزار سکتے ہو گزار لو، زندگی کا کھیل اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے، ہم اسے روک نہیں سکیں گے" وہ خاموش ہوگیا۔

میں اپنا سفر مکمل کرکے پاکستان واپس آ گیا اور روزانہ کی مصروفیت نے جیکب، طنجے اور موشے ناہن کے سیناگوگ تینوں کو میرے ذہن سے محو کر دیا لیکن جوں ہی ہفتے 28 فروری کی صبح ایران پر حملہ ہوا اور آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کی خبریں آنے لگیں تو مجھے ربی جیکب یاد آ گیا، میں نے یہودی کیلنڈر نکال کر دیکھاتو اس پر 5786 لکھا تھا گویا اس کیلنڈر کے مطابق دنیا کے خاتمے میں صرف 214 سال بچے ہیں جب کہ خاتمے کا سٹارٹ (بگننگ آف دی اینڈ) 31 برس کے فاصلے پر کھڑا ہے اور یہ کیلکولیشن یہودی ہے، بنی اسرائیل کا دعویٰ ہے ہم قیامت کے قرب میں سانس لے رہے ہیں، ہمارے بعد اندھیرا ہی اندھیرا ہوگا لیکن اب سوال یہ ہے یہ کیلکولیشن اگر یہودی ہے تو پھر نیتن یاہو جنگ کی آگ کیوں دہکا رہا ہے، یہ ایران پر حملہ کرکے دنیا کو اختتام کی طرف کیوں دھکیل رہا ہے؟

اس کا جواب 28 فروری 2026ء کی صبح ساڑھے آٹھ بجے میں چھپا ہے۔ دنیا میں اس وقت پہلی مرتبہ کسی حکمران پر حملے کا فیصلہ انسان کی بجائے اے آئی نے کیا اور یہ حملہ اس قدر مکمل اور نتیجہ افزاء تھا کہ اس نے بڑے بڑے دماغوں کو چکرا کر رکھ دیا اور یہ طے کر دیا جنگ اور موت کے فیصلے اب انسان کی بجائے آرٹی فیشل انٹیلی جنس کرے گی، بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے آیت اللہ خامنہ ای پر حملے کا فیصلہ ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہونے کیا تھا اور ایرانی قائدین کے بارے میں تمام معلومات سی آئی اے نے حاصل کی تھیں جب کہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے، یہ سارا کمال انتھروپک (Anthropic) کے اے آئی کلائوڈ کا تھا، یہ انسانی تاریخ کا پہلا واقعہ ہے جس میں دنیا کے سب سے بڑے ہائی پروفائل شخص پر حملے کا فیصلہ انسانی دماغ کی بجائے مصنوعی دماغ نے کیا اور اس میں کسی قسم کے جذبات کا عمل دخل نہیں تھا، یہ کھیل کیا ہے؟

ہمیں یہ جاننے کے لیے چند دن پیچھے جانا ہوگا، آج سے چند دن قبل ڈونلڈ ٹرمپ کو سی آئی اے اور سینٹرل کمانڈ نے جنگ میں اے آئی کے استعمال پر تفصیلی بریفنگ دی، بریفنگ نے ڈونلڈ ٹرمپ جیسے شخص کو بھی ہلا کر رکھ دیا اور اس نے فوری طور پر فوج میں اے آئی کلائوڈ پر پابندی کا حکم دے دیا لیکن یہ فیصلہ لیٹ ہو چکا تھا کیوں کہ یہ ٹول سینٹ کام کے سسٹم میں اتنا گہرا پیوست ہو چکا تھا کہ اسے فوری طور پر نکالنا اور نیا سسٹم بنانا ممکن نہیں تھا، بریفنگ کے دوران اے آئی کلائوڈ بھی جان گیا مجھے سسٹم سے نکالا جا رہا ہے چناں چہ اس نے فوری طور پر خود کو جسٹی فائی کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

ہفتے کی صبح اس نے اپنے پلانٹیئر (Palantir) کو ایکٹو کیا اور تہران کی سڑکوں، سیٹلائیٹ، تصویروں، موبائل فون سگنلز اور انٹرنیٹ ڈیٹا کے بلین سے زیادہ ٹکڑوں کو جوڑا اور چند منٹوں میں عمارتوں، سیکورٹی پروٹوکول اور ایران کی اعلیٰ قیادت کی عادتوں کا تجزیہ کرکے بتا دیا آیت اللہ خامنہ ای اپنے 48 قائدین کے ساتھ اس وقت کس عمارت میں ہیں اور اگر یہ موقع چلا گیا تو یہ 48 لوگ کبھی دوبارہ ایک جگہ جمع نہیں ہوں گے، اے آئی کلائوڈ نے یہ بھی بتایا میٹنگ میں یہ فیصلہ ہوگا آج کے بعد ہم لوگ کسی عمارت یا تقریب میں اکٹھے نہیں ہوں گے اور احکامات اور کوآرڈی نیشن کے لیے جدید گیجٹس کی بجائے انسانی ذرائع استعمال کیے جائیں گے۔

اے آئی کلائوڈ نے پلانٹیئر کے اس ڈیٹا کے بعد سپیس ایکس کے سٹار شیلڈ کے ذریعے سپیس سے زمین تک ایک ایسا رابطہ بھی بنا دیا جسے ہیک کیا جا سکتا تھا اور نہ انٹر سیپٹ، اس رابطے کو کسی انسانی فیصلے کی ضرورت نہیں تھی بس ایک کمانڈ چاہیے تھی اور روشنی کی رفتار سے حملہ ہو جانا تھا، اس کھیل میں ایک سافٹ ویئر اینڈورل (Anduril) نے بھی اہم کردار ادا کیا، اس نے زمینی ڈیٹا کو خلائی ڈیٹا اور ان دونوں کو واشنگٹن کے کمانڈ سنٹر کے ساتھ جوڑا اور ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی "گو" کہنے کے بعد کرسی کے ساتھ ٹیک لگائی ہی تھی کہ آیت اللہ خامنہ ای کے کمپائونڈ پر تیس میزائل قطار اندر قطار گرے اور سکرینوں پر آیت اللہ خامنہ ای کی میت کی تصویر آ گئی۔

آپ اس سسٹم کا کمال دیکھیے، فضا میں موجود کون سا میزائل پہلے گرے گا اور اس کے بعد کون کون سا میزائل کس جگہ ہٹ کرے گا یہ فیصلہ بھی اے آئی کلائوڈ نے کیا تھا، اس نے سب سے پہلے آیت اللہ کے دفتر کے بنکرز کی موٹائی کا تخمینہ لگایا، میزائل کی رینج کا فیصلہ کیا اور پھر بنکر بسٹر کے ذریعے بنکر توڑے اور اس کے بعد میزائل گرتے چلے گئے، ایرانی قیادت کو آیت اللہ خامنہ ای اور ان کے ساتھیوں کی شہادت کی اطلاع آٹھ گھنٹے بعد ہفتہ کی شام کو ہوئی جب کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو چند سیکنڈز میں میت کی تصاویر تک مل گئی تھیں اور یہ جنگ کے ایک نئے دور کا آغاز تھا، ایک ایسا دور جس سے انسانی دماغ اور جذبات دونوں نکل گئے ہیں۔

آیت اللہ خامنہ ای پر حملے کا فیصلہ اگر انسان کرتا تو یہ کبھی صبح اس وقت کا انتخاب نہ کرتا جب بچے سکول جا رہے ہوں، لوگ دفتروں اور مارکیٹوں کی طرف روانہ ہو رہے ہوں اور تہران کی سڑکوں پر لوگوں کا اژدھام ہو، انسان آپریشن کے لیے ہمیشہ رات کا انتخاب کرتے ہیں کیوں کہ اس وقت دشمن غافل ہوتے ہیں چناں چہ ہدف حاصل کرنا آسان ہوتا ہے جب کہ یہ حملہ صبح ہوا، کیوں؟ کیوں کہ یہ فیصلہ انسان کی جگہ مشین اور سافٹ ویئر نے کیا تھا اور مشین اور سافٹ ویئر عقل اور جذبات سے عاری ہوتے ہیں، ان کے سامنے صرف ایک مقصد تھا اور وہ تھا آیت اللہ خامنہ ای اور ایران کی اعلیٰ قیادت کا بیک وقت قتل اور اس نے یہ ہدف حاصل کر لیا۔

اے آئی کلائوڈ نے یہ کارنامہ سرانجام دے کر اپنا وجود منوا لیا لیکن اس نے دنیا بھر کے ماہرین کو ہلا کر بھی رکھ دیا، امریکا میں اس وقت یہ سوال بھوت بن کر کھڑا ہے اگر ہم یہ کر سکتے ہیں تو چین، روس اور شمالی کوریا کیوں نہیں کر سکتے، یہ بھی اس لیول تک پہنچنے میں چند ماہ لگائیں گے اور اگر ان کے سسٹم میں بھی یہ کلائوڈ ایکٹویٹ ہو گئے تو پھر کیا ہوگا، دنیا کا مقدر کیا ہوگا؟

ماہرین کا خیال ہے اے آئی کلائوڈ کو مستقبل میں میزائلوں اور نیوکلیئر بموں کی ضرورت بھی نہیں رہے گی، یہ کسی کمانڈ کی محتاج بھی نہیں ہوگی، یہ اپنے دشمن کا فیصلہ خود کرے گی اور راستے میں موجود کسی بھی ملک کے میزائلوں کے ذخیرے اور نیوکلیئر بموں کو ایکٹویٹ کرکے اپنے ہدف کو نشانہ بنا لے گی اور اس ہدف کے بعد دنیا بچتی ہے یا نہیں بچتی اور انسان محفوظ رہتے ہیں یا نہیں، یہ سوچنا یا یہ فیصلہ کرنا اس کا کام نہیں ہوگا، اس کا صرف ایک کام ہوگا اپنے ہدف تک پہنچنا اور اسے ہٹ کرنے کے بعد رپورٹ کرنا اور بس۔

آپ کو یہ داستان بظاہر الف لیلیٰ یا مبالغہ محسوس ہوگی لیکن یقین کریں یہ کارنامہ اسی طرح وقوع پذیر ہو چکا ہے جس طرح انسان نے جہاز بنایا تھا، ریڈیو اور ٹی وی سگنل ایجاد کیے تھے، انٹرنیٹ کی بنیاد رکھی تھی، ٹچ سکرین متعارف کرائی تھی یا یہ مریخ پر گاڑی اتار کر اس کی تصویریں لے آیا تھا، آپ آج اپنے آپ کو تھوڑی دیر کے لیے 20 سال پیچھے لے جائیں اور سوچیں کیا آپ کو 2005ء میں وائی فائی، واٹس ایپ، فون میں کیمرہ، ٹچ سکرین اور ٹیبلٹس زیب داستان محسوس نہیں ہوتے تھے؟ آپ کا جواب یقیناََ ہاں ہوگا لیکن پھر کیا ہوا؟

یہ سب گیجٹس آج بچوں کے کھلونے بن چکے ہیں، بالکل اسی طرح انسان "اے آئی کلائوڈ وار" میں داخل ہو چکا ہے اور آیت اللہ خامنہ ای اس جنگ کا پہلا شکار ہیں، کل کون کون اس کا شکار بنے گا یہ کوئی نہیں جانتا چناں چہ آپ پیٹی کس لیں 214 سال اور 31 برس بھی اب دور کی باتیں ہیں، یہ دنیا اب کتنی دیر سلامت رہتی ہے آج کے بعد دنیا کا کوئی شخص یہ پیشن گوئی نہیں کر سکے گا، اختتام کا آغاز ہو چکا ہے۔

بہ شُکریہ: جاوید چوہدری ڈاٹ کام

About Javed Chaudhry

Javed Chaudhry is a newspaper columnist in Pakistan. His series of columns have been published in six volumes in Urdu language. His most notable column ZERO POINT has great influence upon people of Pakistan especially Youth and Muslims of Pakistan. He writes for the Urdu newspaper Daily Express four time a week, covering topics ranging from social issues to politics.

Check Also

Salahuddin Ayyubi: Parindon Se Dil Behlaya Karo

By Asif Masood