Khaleej Ke Hukumrano Ke Liye Aik Sanjeeda Sawal
خلیج کے حکمرانوں کے لیے ایک سنجیدہ سوال

ایران نے چاہے عسکری یا سفارتی میدان میں کوئی بڑی کامیابی حاصل کی ہو یا نہ کی ہو لیکن ایک کام ضرور کیا ہے۔ اس نے خلیجی ریاستوں کے سامنے امریکا کی ترجیحات کو بے نقاب کر دیا ہے۔
خلیج کے حکمران برسوں سے یہ یقین رکھتے آئے ہیں کہ امریکا ان کی سلامتی کا ضامن ہے۔ تیل، اسلحہ اور دفاعی معاہدوں کی بنیاد پر قائم اس رشتے کو ایک مضبوط اسٹریٹجک اتحاد سمجھا جاتا تھا۔ لیکن حالیہ حالات نے اس تصور میں دراڑ ڈال دی ہے۔ ایران کے حملوں اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران جو منظر سامنے آیا اس نے خلیجی ریاستوں کے سامنے بہت سے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ یعنی سینٹ کام نے خود اعتراف کیا کہ عرب ممالک اپنے دفاع کے لیے جو انٹرسپٹر میزائل استعمال کر رہے ہیں وہ دراصل وہی نظام ہیں جو انہوں نے امریکا سے خریدے تھے۔ بظاہر یہ بیان ایک تکنیکی وضاحت تھا مگر اس کے اندر ایک بڑی سیاسی حقیقت چھپی ہوئی ہے۔ اس بیان کا مقصد یہ تھا کہ امریکا کے پاس اپنے انٹرسپٹر میزائلوں کا ذخیرہ موجود ہے وہ خلیجی ریاستوں کے دفاع کے لیے استعمال نہیں ہو رہا۔ یعنی جن ممالک نے اربوں ڈالر خرچ کرکے امریکی دفاعی نظام خریدے وہ آج اپنی حفاظت خود کرنے پر مجبور ہیں۔
خلیج میں تعینات امریکی تھاڈ اور پٹریاٹ دفاعی نظام بھی اس حقیقت کو واضح کرتا ہے۔ یہ سسٹمز بنیادی طور پر امریکی اڈوں کے تحفظ کے لیے استعمال ہو رہے ہیں نہ کہ ان ممالک کے دفاع کے لیے جنہوں نے امریکا کو اپنی سرزمین پر جگہ دی اور اس کے ساتھ دفاعی معاہدے کیے۔
نتیجہ یہ ہے کہ خلیجی ریاستیں نہ صرف عسکری دباؤ کا سامنا کر رہی ہیں بلکہ انہیں بھاری معاشی نقصان بھی اٹھانا پڑ رہا ہے۔ میزائل دفاعی نظام کے استعمال کی قیمت، فضائی حدود کی بندش، سرمایہ کاری کا خوف اور تیل کی منڈیوں میں عدم استحکام یہ سب ان ممالک کے لیے ایک بڑا معاشی بوجھ بن رہا ہے۔ یہ صورتحال خلیج کے حکمرانوں کے لیے ایک سنجیدہ سوال چھوڑ جاتی ہے کہ کیا امریکا واقعی ان کا محافظ ہے یا صرف اپنے مفادات اور اسرائیل کے دفاع کو ترجیح دیتا ہے؟ ایران نے شاید میدانِ جنگ میں کوئی فیصلہ کن کامیابی حاصل نہ کی ہو لیکن اس نے ایک زبردست سفارتی وار ضرور کیا ہے۔ اس نے خلیجی ریاستوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ امریکا کسی کا دوست نہیں۔
یہی آج کی دنیا کی ننگی حقیقت بھی ہے کہ اپنا دفاع خود کرنا ہوتا ہے۔ آپ کسی کے سہارے نہیں بیٹھ سکتے۔ پاکستان نے اور کچھ کیا ہو یا نہ کیا ہو مگر سنہ 71 کے بعد سے اس نے یہ سبق ضرور سیکھ لیا تھا کہ امریکا اس کا محافظ نہیں بن سکتا۔ امریکی بحری بیڑہ پاکستان کی مدد کو کبھی نہیں پہنچ پایا۔ آج اگر اس گھمسان میں پاکستان جنگی محاذ کی بجائے اہم سفارتی محاذ پر سرگرم ہے تو یہ اس کی کامیابی ہے۔ ایران سے پاکستان کو ڈر نہیں ہے بلکہ وہ اس کے لیے سفارتی حل نکالنے کوششوں میں عمان کے ساتھ مل کر مصروف ہے۔
یہ وہی ایران ہے جس نے پاکستان پر سرجیکل سٹرائک کی تھی اور جواباً پاکستان نے اچھا سبق بھی سکھا دیا تھا۔ یہ وہی ایران ہے جس نے کلبھوشن نیٹورک کو پناہ دے رکھی تھی۔ چاہ بہار بندرگاہ پر را کے آپریٹیوز موجود رہا کرتے تھے۔ بھارت سے اس کی دوستی گہری تھی۔ لیکن گذشتہ ڈیڑھ سال میں پاکستان نے ایران کی آنکھیں اچھے سے کھلوائی ہیں اور گذشتہ ایران اسرائیل بارہ روزہ جنگ کے خاتمہ پر ایران کی اسمبلیوں اور سفارتخاتوں سے تشکر پاکستان کا نعرہ گونجا ہے۔
پاکستان نے ایران کے لیے آؤٹ آف وے جا کر سفارتکاری کی ہے۔ مقصد ایران بھارت گٹھ جوڑ کا خاتمہ کرنا اور ایران کو احساس دلانا تھا کہ آپ کے ہمسائے مشکل میں آپ کی مدد کر سکتے ہیں بھارت نہیں کرے گا۔ آج کا ایران بھارت سے بہت دور جا چکا ہے۔ کل اس نے بھارتی سفیر کو طلب کرکے ایرانی جہاز کو بھارتی پانیوں میں نشانہ بنانے پر جواب طلب کیا ہے۔ مودی اور بھارت نے خامنہ ای صاحب کی شہادت پر مذمتی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

