Saturday, 07 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mehran Khan
  4. America, Iran Aur Badalta Aalmi Manzar Nama

America, Iran Aur Badalta Aalmi Manzar Nama

امریکہ، ایران اور بدلتا عالمی منظر نامہ

بچپن میں سنتے تھے کہ جنگ میں جو پہلا وار کرتا ہے وہ ہی بازی جیتتا ہے لیکن یہ بات بس معمولی ہاتھا پائی کی حد تک تھوڑی بہت درست تھی۔ ملکوں کے درمیان جب جنگ چھڑتی ہے تو پہلا وار اکثر پاؤں پر کلہاڑی کی طرح ثابت ہوتا ہے جو ملک بہتر جنگی حکمتِ عملی رکھتا ہو آخر میں وہ ہی سر خرو ہوتا ہے لیکن جنگ میں فتح اور ہار کی برابر قیمت ہوتی ہے جو انسانی جان کے ضیاع، معیشیت کے زوال، بھوک و افلاس، مہنگائی، نفسیاتی بحران اور انفراسٹرکچر کی تباہی کی صورت میں ادا کی جاتی ہے۔

جنگ کا تجزیہ کرنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ جنگ کے حوالے سے کچھ باتیں جان لی جائے جیسے جنگ کے اغراض و مقاصد کیا ہیں، دونوں ملکوں کے جنگی وسائل کیا ہیں، کس ملک کا جغرافیہ جنگ میں کس حد تک اس کا مددگار ہوسکتا ہے، ٹاپ لیڈر شپ کیسی ہے اور کیا اسے عوام کی تائید حاصل ہے؟ جنگ کے آس پاس کے ممالک پر کیا اثرات ہے اور وہ جنگ میں اپنا فائدہ ڈھونڈ رہے ہیں یا اس سے ان کا نقصان ہو رہا ہے۔

جنگ کے مقاصد کی اگر بات کی جائے تو امریکہ کسی بھی صورت میں حکومت کی تبدیلی چاہتا ہے تاکہ خطے میں اس کی حاکمیت قائم ہوسکے اور چین کے بڑھتے ہوئے تسلط کو روکا جاسکے۔ لیکن فی الحال بھرپور ایرانی مزاحمت کی وجہ سے امریکہ کو مایوسی ہورہی ہے اور یہ مایوسی بڑھتی جارہی ہے کیوں کہ اس کے توقعات پر ایران مسلسل پانی پھیر رہا ہے۔

ایران سے امریکہ نے سانس لینے کی آزادی تک چھین لی تھی اور اسے اس حد تک دیوار سے لگایا کہ آخرکار وہ دیوار ہی گر گئی۔ اب ایران مسلسل چائنیز ٹیکنالوجی کی مدد سے calculated attacks کرکے امریکہ اور اسرائیل کو تنگ کررہا ہے۔ صدر ٹرمپ پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے کیوں کہ اس نے امریکی پارلیمنٹ کو بائی پاس کرکے امریکہ کو جنگ میں دھکیلا۔ جنگ اگر مزید طول پکڑ لے تو 1960 کے ویت نام جنگ کے خلاف امریکہ میں جو مظاہرے ہوئے تھے وہی صورتحال پھر بن سکتی ہے اور صدر ٹرمپ کی ممکنہ impeachment بھی ہوسکتی ہے۔

جنگی ٹیکنالوجی کی اگر بات کی جائے تو ایران کے پاس جدید بیلسٹک میزائل ہے جس کی رینج دو ہزار کلومیٹر ہے اور پورے میڈل ایسٹ میں ایران سب سے زیادہ بیلسٹک میزائل بنانے والا ملک ہے۔ لیکن صدر ٹرمپ سے بس یہی خطرہ ہے کہ وہ تینتیسویں امریکی صدر ہیری ٹرومین سے زیادہ سنکی ہے۔ صدر ٹرومین نے دوسرے جنگ عظیم کے اختتام پر یعنی جاپان کے ہتھیار ڈالنے کے بعد اک جیتی ہوئی جنگ کے آخر میں ایٹم بم کا تجربہ کرکے ہیروشیما اور ناگاساکی کی اینٹ سے اینٹ بجادی تھی، تو ٹرمپ کے حرکات و سکنات تو اس سے زیادہ پاگلوں والے ہیں۔

جیسے جیسے جنگ آگے بڑھ رہی ہے ایران کی پوری قوم مزید متحد ہوتی جارہی ہے۔ ایران کا جغرافیہ بھی اس کا ساتھ دے رہا ہے کیوں کہ آبنائے ہرمز ایران کے قبضے میں ہے۔ ایران نے عالمی معیشت کی شہہ رگ پہ دانت رکھے ہوئے ہیں۔ تیل کی ترسیل بند ہونے کے روس کی قسمت جاگ جائے گی اور وہ بھارت اور دوسرے ممالک کو تیل کی ترسیل شروع کردے گا۔ جنگ جتنا طول پکڑے گئی امریکہ اتنا کمزور ہوتا جائے گا اور اک نظریاتی حریف کے لئے دشمن کے نقصان سے بڑھ کر کوئی خوشی نہیں ہوتی۔

چین پر آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات سب سے زیادہ پڑے گیں لیکن چین میں اس بحران سے نمٹنے کی صلاحیت موجود ہے۔ چین کے BRI منصوبہ پر بھی اس جنگ اور رجیم چینج منصوبہ کے منفی اثرات پڑنے والے ہیں اور حتی کہ سی پیک بھی متاثر ہوسکتا ہے اور چنگاریاں گوادر تک سلگ سکتی ہے۔ اس سے پہلے وینزویلا کو بھی چین کو تیل کی ترسیل کی سزا ملی کیوں کہ وینزویلا سے سب زیادہ تیل چین ہی خریدتا تھا اور نئے سرد جنگ کے رو سے یہ سارا کھیل بھی چین کے لئے ہی رچایا گیا ہے لیکن چین فی الحال اک دو تالیاں بجانے کے علاؤہ بس خاموشی سے تماشہ دیکھ رہا ہے۔ پاکستان کی بے چینی بھی مسلسل بڑھتی جارہی ہے کہ ایسا کیا کرے کہ سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے لیکن فی الحال پاکستان افغان طالبان سے نمٹنے میں مصروف ہے۔ یہ مصروفیت بھی غنیمت سہی وگرنہ ہم چپ رہنے والوں میں سے کہاں ہے! افغان جنگ کی تاریخ ہی دیکھ لیجئے۔

امریکہ اور اسرائیل پریشان ہے، خلیجی ممالک اپنی دفاع کے لئے ادھر ادھر دیکھ رہے ہیں، ایران کا عزم مزید پختہ ہوتا جارہا ہے، روس خوش ہے، چین خاموش ہے اور پاکستان مصروف ہونے کے باوجود بھی تذبذب میں ہے۔ دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے۔

Check Also

Istemar Ki Musalat Karda Jang Mein Khaleeji Mumalik Ki Mumkina Shamooliat

By Syed Jawad Hussain Rizvi