Saturday, 30 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Idrees Abbasi
  4. Doobta Murree, Nawaz Sharif Aur Sheerazi Sahab

Doobta Murree, Nawaz Sharif Aur Sheerazi Sahab

ڈوبتا مری، نواز شریف اور شیرازی صاحب

تقریباً تین سال بعد میں مال روڈ مری میں داخل ہوا۔ عید کی دوسری رات کی بھیانک ٹریفک میں جکڑا ہوا ڈیڑھ گھنٹے کا جھیکا گلی چوک سے جی پی او تک کا سفر میرے لئے بے پناہ شاکنگ تھا۔ ملکہ کہسار جسے میں نوے کی دہائی میں سرسبز چھوڑ کر گیا تھا، آج ایک بالکل مختلف اور بے قابو تعمیراتی منظرنامے کے ساتھ میرے سامنے موجود تھی۔

جھیکا گلی چوک میں کھڑے ہوتے ہی "برج ظفر" کے نام سے دیو قامت بلڈنگ نظر آئی۔ پھر آگے بڑھتے ہی دائیں جانب جہاں کبھی صرف ایک چائنیز ریستوران ہوا کرتا تھا، اس سے قبل ایک کلومیٹر کے پیچ میں آٹھ آٹھ منزلہ ہوٹل نظر آئے جن کی پارکنگ بالکل برلب سڑک تھی۔ ٹریفک جام کی وجہ سے دھیرے دھیرے سرکتے شائید مجھے پہلی دفعہ مری کی اضافی تعمیرات نظر آئیں۔ جھیکا گلی سے جی پی او چوک جاتے ہوئے دائیں جانب کی پہاڑی جو کبھی حسن کا استعارہ تھی اور بیشتر خالی تھی، اب مکمل تاراج ہو چکی تھی۔

جیسے ہی میں جی پی او چوک کے قریب پہنچا، منظر مزید گھمبیر ہوتا گیا۔ جی پی او سے پہلے کے دونوں اطراف ہوٹلوں کی ایک قطار اور ان میں اضافہ شدہ منزلیں واضح طور پر نظر آنے لگیں۔ بعض عمارتوں کی بلندی اور حجم نے پرانے مری کے روایتی افق کو تقریباً چھپا دیا تھا۔ یہ وہ مقام تھا جہاں مری کی نوآبادیاتی منصوبہ بندی کا حسن سب سے زیادہ محسوس ہوتا تھا، مگر اب وہ حسن شدید دباؤ میں نظر آنے لگا۔

جی پی او چوک پر اتر کر جب میں نے واک شروع کی تو میرے اضطراب میں اور اضافہ ہوگیا۔ بائیں جانب ایمبیسیڈر ہوٹل کی بلند عمارت اور اس کے ساتھ ہی دی مال مری کی دیوہیکل بلڈنگ نے جی پی او کی تاریخی بلڈنگ کا تقریباً گلا گھونٹ دیا تھا۔ اس کے بعد مال روڈ کی دائیں جانب مسلسل تجارتی تعمیرات ایک نئے شہری دباؤ کی تصویر پیش کر رہی تھیں۔ جہاں پہ اب تجاوزات کے خلاف ضلعی انتظامیہ کا آپریشن جاری تھا۔

منظر مزید واضح ہوا جب واپسی پر کلڈنہ کی سمت واک کی۔ جی پی او کے عقب میں آسمان کو چھوتا موون پک ہوٹل اور پھر کلڈنے کی اترائی میں جو پہلے کھلے اور نسبتاً کم تعمیر شدہ علاقہ تھا، اب وہاں بھی بڑے ہوٹل اور کثیر المنزلہ عمارتیں نظر آئیں۔ اس سڑک پہ نیچے جاتے بائیں جانب مسلسل اضافی ہوٹل بلڈنگز نظر آئیں، جن کے اخیر میں پھر ایک دیو ہیکل لال رنگ کی بلڈنگ "فلیٹیز ہوٹل" کے نام سے نظر آئی جو کئی سو کمروں پہ مشتمل لگتی تھی۔ مجھے کسی نے بتایا کہ یہ ایک سفید ریش مقامی شخص کی ملکیت ہے۔ میں حیران ہوں، ٹی ایم اے حالیہ سالوں میں ان اضافی تعمیرات کی اجازت کیسے دیتی رہی، جب انھیں معلوم تھا مری میں پینے کے پانی کی قلت اور سیوریج کی بہتات سے ماحولیاتی آلودگی اپنے عروج پہ پہنچ چکی ہے۔

واپس آ کر میں جی پی او چوک میں بے دم ہو کے مسجد صدیق اکبر کے باہر لگے بیرئیر پہ بیٹھ گیا اور مظلوم تاریخی جی پی او کو دیکھنے لگا، لگتا تھا، رضیہ غنڈوں میں پھنس گئی۔ سوچ میں آیا اگر 1910 میں تعمیر شدہ جی پی او تاریخی بلڈنگ ڈکلئیرڈ ہے تو پنجاب انٹی کیوٹی ایکٹ کے تحت اس عمارت کے اردگرد دو سو گز کے ایریا میں بلند کمرشل عمارات کی تعمیر کی اجازت کیوں دی گئی؟

اب یہ واضح ہے کہ مری میں معاملہ غیر قانونی تعمیرات تک محدود نہیں رہا بلکہ "جائز تعمیرات" جنہیں میونسپل کمیٹی کے کارندے قانون کی آڑ میں اجازت دے چکے ہیں، اس سے بھی بڑا مسئلہ ہے۔ پیسے کی ہوس میں مبتلا ٹی ایم اے کے اہلکاران ہوٹل مافیا اور قبضہ گروپ کے ایماء پہ جب پاؤ گوشت کے لئے پوری بھینس ذبح کرتے ہیں تو پھر شہر کا یہی نقشہ ہوتا ہے جو اس وقت نظر آ رہا ہے۔

ماہرین ماحولیات کے مطابق اگر کسی پہاڑی شہر کے صرف 10 مربع کلومیٹر علاقے کو دیکھا جائے تو وہاں 150 سے 250 کے درمیان درمیانے سائز کے ہوٹل اور گیسٹ ہاؤسز زیادہ مناسب تصور کیے جا سکتے تھے، بشرطیکہ ان کے ساتھ جدید سیوریج ٹریٹمنٹ، بارش کے پانی کا ذخیرہ، پارکنگ اور گرین بیلٹس موجود ہوں۔ مگر رالیں ٹپکاتے یہ کارندے کہاں سوچتے ہوں گے کہ مری کے دس مربع کلومیٹر میں تعمیر شدہ چھ سو سے زائد ہوٹلز اب اس ناتواں پہاڑی ماحول کو تقریباً تباہ کر چکے ہیں اور مزید کی اجازت ہرگز نہیں دینی چاہیے۔ اگر کسی "نیک دل" اہلکار کو ایسا خیال آتا بھی ہوگا تو سفید ریش ہوٹل مالکان کھانے کی میز پہ ایک خفیہ ملاقات میں رستے طے کر لیتے ہوں گے اور پندرہ لاکھ روپے فی اضافی لینٹر دے کے اپنا مستقبل محفوظ بنا لیتے ہوں گے۔

مری سے دل گرفتہ واپسی پہ مجھے میجر جیمز ایبٹ اور سر ہنری لارنس پھر یاد آئے، جنہوں نے مری کو ایک منظم ہل ٹاؤن کے طور پر ترقی دی، جہاں کم منزلہ عمارتیں، کشادہ راستے، الگ رہائشی و تجارتی زون اور قدرتی ڈرین سسٹم بنیادی اصول تھے۔ پھر شملہ بھی یاد آیا۔ ہم اکٹھے آزاد ہوئے تھے، ہمارے ہاں سفید ریش دین دار مسلمان تھے اور ادھر بتوں کو پوجنے والے ہندو، مگر حیرت ہے شملہ میں گراؤنڈ پلس ٹو یا محدود منزلہ تعمیرات کے اصول پر مری کی نسبت کہیں زیادہ اور سختی سے عملدرآمد ہوا ہے، واٹر سپلائی نسبتاً بہتر پلاننگ کے ساتھ موجود ہے اور وہاں پہاڑی ڈھلوانوں پر "ہائی رائز" عمارتوں کی اجازت بہت محدود ہے اور بھارتی عدالتیں متعدد بار غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی بھی کر چکی ہیں۔ مگر مری؟

مری سے میرے دانشور دوست امجد بٹ بھی دل گرفتہ تھے۔ ان کے بزرگ مری کی ہریالی دیکھ کے سری نگر چھوڑ کر مری آئے تھے۔ وہ مری کی بربادی پہ متعدد کالم لکھ چکے ہیں اور موجودہ ڈپٹی کمشنر ظہیر شیرازی صاحب سے بھی امیدیں لگائے بیٹھے ہیں کہ شائید وہ اصلاح احوال کریں گے۔ شیرازی صاحب سے میں بھی خوش گمانی رکھتا ہوں، اللہ ان کے حج کو قبول کرے، وہ بخیریت واپس آئیں اور اپنی منجی تلے بھی ڈانگ پھیریں اور ان اہلکاروں کا قلع قمع کریں جو ان کے نام پہ کاروائی کی دھمکی پہ مال وصول کرتے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی میری نواز شریف صاحب کو ایک دفعہ پھر اپیل ہے کہ وہ دوبارہ جی پی او کی سیڑھیوں پہ بیٹھیں اور دائیں بائیں بلند قامت بلڈنگز دیکھ کے وہ گھٹن محسوس کریں جو ہم محسوس کر رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے اس دفعہ وہ بیس کنال کی بجائے کشمیر پوائنٹ سے پنڈی پوائنٹ تک سارے مری کی مکمل صفائی کا حکم دے دیں۔ لیکن نواز شریف کو پھر مری میں کہیں سے فرشتے ڈھونڈ کے لانے ہوں گے، ورنہ انہی بلدیہ کے اہلکاروں پہ رہے تو وہ پھر ناجائز بلڈنگوں کی تعداد 165 سے 65 کر دیں گے۔

واپس پنڈی اترتے ایکپریس وے پہ این ایچ اے کے بورڈ لگے نظر آئے، جن پہ لکھا تھا سڑک کی پہاڑی سائڈ پہ 66" اور ویلی سائڈ پہ 98" تک تعمیرات ممنوع ہیں۔ نواز شریف کو ایک فرشتوں کا جتھا ادھر بھی لا کے بٹھانا ہوگا، ورنہ اگلے پانچ سالوں میں یار لوگ اس کو بھی مال روڈ کی طرح راجہ بازار بنا دیں گے۔ اگر نواز شریف اور مریم نواز یہ کار خیر نہ کر سکے تو پھر ہمیں مری کے مستقبل پہ انا للہ پڑھ لینا چائیے، سفید ریش اگلے دس سالوں میں کسی ڈائنو سار کی طرح پورا مری کھا جائیں گے۔

About Muhammad Idrees Abbasi

Engineer Muhammad Idrees Abbasi is former advisor world bank and writes on politics and social topics.

Check Also

Hasraton Ka Bojh Aur Rasm e Taziyat

By Muhammad Anwar Bhatti