Saturday, 30 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Ammar Riaz Chohan
  4. Aath Usool Jo Zindagi Badal Dein

Aath Usool Jo Zindagi Badal Dein

آٹھ اصول جو زندگی بدل دیں

ایک دن حضرت شیخ شقیق بلخیؒ نے اپنے شاگرد سے پوچھا: تم کتنے عرصے سے میرے ساتھ ہو؟ انہوں نے عرض کیا: 32 سال سے۔ شیخ نے فرمایا: اتنے طویل عرصے میں تم نے کیا سیکھا؟ حضرت حاتمؒ نے نہایت ہی عاجزی سے جواب دیا: حضور! میں نے صرف آٹھ مسئلے سیکھے ہیں۔ یہ جواب سن کر شیخ کو حیرت ہوئی۔ 32 سال ایک بہت طویل عرصہ ہوتا ہے۔ عام طور پر انسان اس عرصے میں بے شمار علوم حاصل کر سکتا ہے۔ مگر حضرت حاتمؒ نے صرف اٹھ اصول سیکھنے کی بات کی۔ لیکن جب انہوں نے وہ اٹھ اصول بیان کے تو معلوم ہوا کہ دراصل یہی آٹھ اصول پوری زندگی بدلنے کے لیے کافی ہیں۔

پہلا اصول یہ تھا کہ انسان کا اصل محبوب اس کی نیکیاں ہونی چاہئیں۔ دنیا میں ہر انسان کسی نہ کسی چیز سے محبت کرتا ہے۔ کوئی مال سے محبت کرتا ہے، کوئی اولاد سے، کوئی شہرت سے، کوئی دنیاوی آسائشوں سے۔ مگر قبر میں انسان کے ساتھ نہ مال جاتا ہے، نہ آسائش، نہ دوست، نہ رشتہ دار، نہ دنیاوی عزت۔ صرف اعمال ساتھ جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ حضرت حاتمؒ نے نیکیوں کو اپنے محبوب بنا لیا۔ اگر آج انسان اس حقیقت کو سمجھ لے تو اس کی ترجیحات بدل جائیں۔ وہ دنیا کی فانی چیزوں کے بجائے آخرت کی تیاری پر توجہ دے گا۔

دوسرا اصول یہ تھا کہ اصل محفوظ خزانہ وہ ہے جو اللہ کی راہ میں خرچ کر دیا جائے۔ انسان پوری زندگی مال جمع کرتا رہتا ہے، مگر موت کے بعد وہ مال دوسروں کے ہاتھ میں چلا جاتا ہے۔ قران ہمیں بتاتا ہے کہ دنیا کی ہر چیز فانی ہو جائے گی، صرف وہ باقی رہے گا جو اللہ کی راہ میں خرچ کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ صدقہ، خیرات اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنا دراصل اپنے مال کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کرنا ہے۔

تیسرا اصول نفس کی خواہشات کو قابو میں رکھنا ہے۔ آج کا انسان اپنی خواہشات کا غلام بنتا جا رہا ہے۔ ہر شخص اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنا چاہتا ہے، چاہے وہ اللہ کی نافرمانی ہی کیوں نہ ہو۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ کامیاب وہی انسان ہوتا ہے جو اپنے نفس کو اللہ کے حکم کا پابند بنالے۔ خواہشات پر قابو پانا آسان نہیں، مگر یہی اصل جہاد ہے۔ جو شخص اپنے نفس کو قابو میں کر لے وہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہو جاتا ہے۔

چوتھا اصول تقوی اختیار کرنا ہے۔ آج کے معاشرے میں انسان مال، عہدے، خاندان اور شہرت پر فخر کرتا ہے۔ لوگ اپنی دنیاوی حیثیت کی بنیاد پر ایک دوسرے کو کمتر سمجھتے ہیں۔ حالانکہ اللہ کے نزدیک اصل عزت صرف تقوی کی بنیاد پر ہے۔ جس کے دل میں اللہ کا خوف اور نیکی کا جذبہ زیادہ ہوگا، وہی اللہ کے نزدیک زیادہ معزز ہوگا۔ اگر معاشرہ اس اصول کو اپنالے تو تکبر، غرور اور نفرتیں ختم ہو سکتی ہیں۔

پانچواں اصول حسد کو چھوڑ دینا ہے۔ آج انسان دوسروں کی کامیابی دیکھ کر پریشان دکھائی دیتا ہے۔ وہ یہ برداشت نہیں کر پاتا کہ کسی اور کے پاس زیادہ مال عزت یا کامیابی کیوں ہے؟ یہی حسد انسان کے سکون کو ختم کر دیتا ہے۔ حضرت حاتم نے قران مجید کی اس آیت کو سمجھ لیا کہ رزق اور نعمتوں کی تقسیم اللہ کے اختیار میں ہے۔ جب یہ یقین دل میں آجائے تو انسان دوسروں سے حسد نہیں کرتا بلکہ اللہ کے فیصلوں پر راضی رہتا ہے۔

چھٹا اصول یہ تھا کہ انسان کا اصل دشمن شیطان ہے۔ آج لوگ معمولی باتوں پر ایک دوسرے کے دشمن بن جاتے ہیں۔ بھائی بھائی سے لڑ رہا ہے، دوست دوست سے ناراض ہے، خاندان بکھر جا رہے ہیں۔ حالانکہ قران واضح طور پر کہتا ہے کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔ اگر انسانی حقیقت کو سمجھ لے تو وہ دوسروں کے بجائے شیطان کے وسویسوں سے بچنے کی کوشش کرے گا۔

ساتواں اصول رزق کے بارے میں اللہ پر یقین رکھنا ہے۔ آج بہت سے لوگ رزق کے لیے حرام راستے اختیار کرتے ہیں۔ جھوٹ بولتے ہیں، دھوکہ دیتے ہیں، اپنی عزت تک قربان کر دیتے ہیں۔ حالانکہ قران کہتا ہے ہر جاندار کا رزق اللہ کے ذ مہ ہے۔ اس کا ہے مطلب یہ نہیں کہ انسان کوشش کرنا چھوڑ دے، بلکہ اس کا یہ مطلب ہے کہ رزق کے معاملے میں حرام اور ذلت کا راستہ اختیار نہ کرے۔ حلال کم ہو تو بھی بابرکت ہوتا ہے۔ جبکہ حرام کثرت کے باوجود سکون نہیں دیتا۔

آٹھواں اور آخری اصول توکل علی اللہ ہے۔ آج انسان کا دولت، کاروبار، تعلقات اور اپنی طاقت پر بھروسہ کرتا ہے مگر یہ سب چیزیں عارضی ہیں۔ اصل سہارا صرف اللہ کی ذات ہے۔ جب انسان سچے دل سے اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو اللہ اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔ یہی توکل انسان کے دل کو سکون اور مضبوطی عطا کرتا ہے۔

حضرت شیخ شفیق بلخیؒ نے یہ جب یہ آٹھ اصول سنے تو فرمایا کہ قران اور تمام آسمانی کتابوں کا خلاصہ انہی اصولوں میں موجود ہے۔ حقیقت بھی یہی ہے اگر انسان ان آٹھ اصولوں کو اپنی زندگی میں اپنا لے تو اس کی سوچ، کردار، عبادات اور تعلقات سب بدل سکتے ہیں۔

اس تمام واقعے سے یہی سبق ملتا ہے کہ ہمارے پاس ڈگریاں اور علم تو بہت ہوتا ہے۔ لیکن ایسے علم کا کیا فائدہ؟ جو باعثِ نجات کے بجائے باعث عذاب بنے۔ جس کو علامہ اقبال نے کچھ یوں بتایا ہے:

اللہ سے کرے دور، وہ تعلیم بھی فتنہ
املاک بھی، اولاد بھی، جاگیر بھی فتنہ

ناحق کے لئے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ
شمشیر تو کیا نعرہ تکبیر بھی فتنہ

Check Also

Comedian?

By Rao Manzar Hayat