Saturday, 30 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Shair Khan
  4. Election Nahi Selection Hai

Election Nahi Selection Hai

الیکشن نہیں سلیکشن ہے

پاکستان کو دنیا کے نقشے پر ایک جمہوری ریاست کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، مگر زمینی حقائق اکثر اس دعوے سے مختلف تصویر دکھاتے ہیں یہاں جمہوریت کا نام تو لیا جاتا ہے انتخابات بھی ہوتے ہیں اسمبلیاں بھی بنتی ہیں اور حکومتیں بھی قائم ہوتی ہیں مگر عوام کے دلوں میں یہ سوال مسلسل زندہ رہتا ہے کہ اصل اختیار کہاں ہے اور فیصلے کون کرتا ہے؟

یہ ایک عجیب ملک ہے جہاں آئین کی کتاب ہر میز پر رکھی ہوتی ہے مگر اس کی روح اکثر طاقت کے ایوانوں میں گم ہو جاتی ہے۔ قانون کی بالادستی کا درس دیا جاتا ہے مگر قانون کی گرفت کمزور پر سخت اور طاقتور پر نرم دکھائی دیتی ہے۔ انصاف کے بلند و بانگ دعوے کیے جاتے ہیں مگر انصاف کا ترازو اکثر جھکا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرنے والے ادارے قومی سلامتی کے ضامن ہیں اور ان کی خدمات سے انکار ممکن نہیں لیکن ایک جمہوری معاشرے میں یہ توقع بھی کی جاتی ہے کہ سیاسی معاملات کا فیصلہ عوام کی رائے سے ہو، نہ کہ طاقت کے مراکز کی پسند و ناپسند سے۔ جب عوام کو یہ محسوس ہونے لگے کہ سیاسی عمل میں غیر مرئی قوتیں اثرانداز ہو رہی ہیں تو جمہوریت پر اعتماد کمزور پڑنے لگتا ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان کی سیاسی تاریخ بار بار یہی سوال دہراتی رہی ہے کہ اقتدار عوام کے ووٹ سے منتقل ہوتا ہے یا طاقت کے اشاروں سے۔ ہر دور میں کچھ چہرے ابھرتے ہیں، کچھ غائب ہو جاتے ہیں کچھ جماعتیں مقبول قرار پاتی ہیں اور کچھ اچانک ناقابلِ قبول بن جاتی ہیں اس سارے کھیل میں سب سے زیادہ نقصان عام آدمی کا ہوتا ہے جو ہر الیکشن میں بہتر مستقبل کے خواب دیکھتا ہے مگر جاگنے پر خود کو وہیں کھڑا پاتا ہے جہاں برسوں پہلے تھا آج ملک کا عام شہری مہنگائی بے روزگاری اور معاشی مشکلات کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔

بازاروں میں رونق کم اور پریشانی زیادہ نظر آتی ہے نوجوان ڈگری ہاتھ میں لیے روزگار کی تلاش میں دربدر ہیں مزدور دن بھر مشقت کے باوجود اپنے گھر کا چولہا جلانے کے لیے فکر مند ہے۔ کسان اپنی فصل کا مناسب معاوضہ نہیں پا رہا اور متوسط طبقہ مسلسل سکڑتا جا رہا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں اکثر اصل مسائل کے بجائے اقتدار کے کھیل کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ عوام روٹی، روزگار، صحت اور تعلیم کی بات کرتے ہیں جبکہ سیاسی اشرافیہ اقتدار کی بساط بچھانے اور سمیٹنے میں مصروف رہتی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ نظام کمزور ہوتا جاتا ہے اور ریاستی ڈھانچے پر عوام کا اعتماد بھی متزلزل ہوتا جاتا ہے۔

کسی بھی ملک کی ترقی کا راز مضبوط اداروں آزاد سیاسی عمل قانون کی یکساں حکمرانی اور عوامی اعتماد میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ جب ادارے اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کریں جب عوام کی رائے کا احترام کیا جائے اور جب احتساب سب کے لیے برابر ہو تبھی جمہوریت مضبوط ہوتی ہے ورنہ جمہوریت صرف ایک نعرہ بن کر رہ جاتی ہے اور عوام خود کو ایک ایسے نظام کا قیدی محسوس کرتے ہیں جس میں ان کی آواز تو سنی جاتی ہے مگر اس پر عمل کم ہوتا ہے۔ پاکستان کو آج نعروں سے زیادہ اصلاحات کی ضرورت ہے دعوؤں سے زیادہ عمل کی ضرورت ہے اور طاقت کے کھیل سے زیادہ عوامی فلاح کی ضرورت ہے کیونکہ ریاستیں صرف طاقت سے نہیں بلکہ انصاف، اعتماد اور عوامی رضامندی سے مضبوط بنتی ہیں۔

گلگت بلتستان میں انتخابی گہماگہمی اپنے عروج پر ہے سڑکوں پر بینرز آویزاں ہیں جلسے جلوس جاری ہیں امیدوار عوام کے دروازوں پر دستک دے رہے ہیں اور ہر سیاسی جماعت اپنے منشور اور نعروں کے ساتھ میدان میں موجود ہے۔ بظاہر یہ ایک جمہوری عمل کا منظر پیش کرتا ہے مگر بعض واقعات اس پورے عمل کی شفافیت پر سنجیدہ سوالات اٹھا رہے ہیں۔ تازہ واقعہ گلگت پولیس کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے ان عہدیداروں کی گرفتاری کا ہے جو خیبر پختونخوا سے انتخابی مہم کے سلسلے میں گلگت بلتستان آئے تھے۔ اس اقدام نے عوامی حلقوں میں یہ تاثر مزید گہرا کر دیا ہے کہ شاید یہاں الیکشن نہیں بلکہ سلیکشن کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ سوال بالکل سادہ ہے اگر دیگر تمام سیاسی جماعتوں کو جلسے کرنے کارکنوں سے ملاقات کرنے اور انتخابی مہم چلانے کی مکمل آزادی حاصل ہے تو پھر صرف ایک جماعت کے کارکنوں اور عہدیداروں کے راستے میں رکاوٹیں کیوں کھڑی کی جا رہی ہیں؟ اگر قانون موجود ہے تو اس کا اطلاق سب پر یکساں ہونا چاہیے اور اگر ضابطے نافذ ہیں تو ان کی گرفت بھی سب کے لیے برابر ہونی چاہیے یکطرفہ اقدامات ہمیشہ شکوک و شبہات کو جنم دیتے ہیں۔

جمہوریت کی اصل روح مساوی سیاسی مواقع میں پوشیدہ ہے۔ جب ایک فریق کو کھلا میدان دیا جائے اور دوسرے کے لیے رکاوٹوں کی دیواریں کھڑی کر دی جائیں تو پھر مقابلہ برابر نہیں رہتا ایسے ماحول میں عوام کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ کیا واقعی فیصلہ بیلٹ باکس کرے گا یا کہیں اور پہلے ہی فیصلے لکھے جا چکے ہیں۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف انتخابی عمل کو متنازع بناتے ہیں بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی غیر جانبداری پر بھی سوالیہ نشان لگا دیتے ہیں پولیس کا کام امن و امان قائم رکھنا ہے سیاسی انجینئرنگ کا حصہ بننا نہیں جب عوام کو یہ محسوس ہونے لگے کہ قانون سب کے لیے برابر نہیں تو ریاستی اداروں پر اعتماد بھی متاثر ہوتا ہے۔

گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہیں وہ سیاسی اختلاف کو سمجھتے ہیں اور جمہوری مقابلے کی اہمیت سے بھی آگاہ ہیں۔ اگر کسی جماعت کی مقبولیت کم ہے تو اس کا فیصلہ عوام ووٹ کے ذریعے کر دیں گے اگر کوئی جماعت واقعی عوامی حمایت رکھتی ہے تو اسے انتظامی ہتھکنڈوں سے روکنا ممکن نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ عوامی رائے کو دبانے کی ہر کوشش نے مزید سوالات اور مزید مزاحمت کو جنم دیا ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع فراہم کیے جائیں گرفتار کارکنوں اور عہدیداروں کے معاملے کو شفاف انداز میں دیکھا جائے اور انتخابی عمل کو ہر قسم کے جانبدارانہ اقدامات سے پاک رکھا جائے بصورت دیگر یہ تاثر مزید مضبوط ہوگا کہ گلگت بلتستان میں جمہوریت کا جشن نہیں بلکہ نتائج کو ایک خاص سمت میں لے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

عوام صرف ایک چیز چاہتے ہیں انہیں آزادانہ فیصلہ کرنے دیا جائے کیونکہ جمہوریت کی طاقت ووٹ میں ہوتی ہے۔ گرفتاریوں میں نہیں عوامی رائے میں ہوتی ہے انتظامی دباؤ میں نہیں اگر واقعی الیکشن ہو رہے ہیں تو پھر میدان سب کے لیے برابر ہونا چاہیے اور اگر میدان برابر نہیں تو سوال اٹھیں گے کہ یہ الیکشن ہیں یا سلیکشن؟

جب تک عام آدمی دو وقت کی عزت کی روٹی، انصاف اور اپنے ووٹ کی حقیقی طاقت محسوس نہیں کرے گا تب تک جمہوریت کے دعوے ادھورے اور سوالات باقی رہیں گے۔

Check Also

Doobta Murree, Nawaz Sharif Aur Sheerazi Sahab

By Muhammad Idrees Abbasi