Hinglaj Mata Aur Nani Peer: Tareekh, Saqafati Rishta Aur Do Rawaiye
ہنگلاج ماتا اور نانی پیر: تاریخ، ثقافتی رشتہ اور دو رویے

بلوچستان کے خشک اور سنگلاخ پہاڑوں کے بیچوں بیچ بہتی ہنگول ندی اپنے اندر تاریخ کے وہ گہرے راز چھپائے ہوئے ہے جنہیں وقت کی دھول بھی دھندلا نہ سکی۔ یہ وہ مقام ہے جہاں جغرافیائی سرحدیں اور فکری تفریق دم توڑ دیتی ہے اور انسانی تاریخ کا ایک انوکھا منظر سامنے آتا ہے۔ یہ غار، جسے ہندو ہنگلاج ماتا کہتے ہیں اور مقامی مسلمان نانی پیر یا بی بی نانی کے نام سے پکارتے ہیں، برصغیر میں مسلمانوں کی اعلیٰ ظرفی، بین المذاہب رواداری اور فاتحینِ اسلام کے تحفظِ ورثہ کی ایک عظیم مثال ہے۔ یہ مقام دنیا کو یہ بتاتا ہے کہ اسلام نے ہمیشہ اقلیتوں کے حقوق اور ان کے مذہبی مقامات کو کس طرح اپنے سینے سے لگا کر تحفظ فراہم کیا۔
یہ غار تاریخ کا وہ انوکھا سنگم ہے جہاں قدیم ہندو کتب اور صوفیائے کرام کی تحریریں ایک ہی مرکز پر آکر ملتی ہیں۔ ہندو مت کی قدیم ترین کتاب رامائن، جسے رشی بالمیک نے سنسکرت میں تحریر کیا، کے مطابق، جب بھگوان رام نے لنکا کے راجہ راون کو میدانِ جنگ میں قتل کیا، تو ان پر ایک برہمن کو مارنے کے سبب ایک پاپ چڑھ گیا۔ اس گناہ کے کفارے اور تپسیا کے لیے بھگوان رام، ماتا سیتا اور لکشمن کے ہمراہ اسی مکران کے بنجر پہاڑوں میں واقع ہنگلاج غار میں آئے تھے۔ اسی طرح ہندوؤں کی دیگر کتب شیو پوران اور دیوی بھاگوت پوران میں لکھا ہے کہ یہ مقام زمین پر موجود اکیاون مقدس مقامات میں سے پہلا اور اہم ترین مقام ہے، جہاں ماتا ستی کا سر گرا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہندو یاتری صدیوں سے اسی راستے پر پیدل چل کر آتے ہیں۔
دوسری طرف، مسلم صوفیانہ تاریخ میں بھی اس مقام کو بلند مرتبہ حاصل رہا ہے۔ سندھ کے عظیم صوفی بزرگ اور شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی نے اپنے فکری شاہکار شاہ جو رسالو میں ایک پورا باب اسی سفر کے نام کیا ہے، جسے سر رام کلی کہا جاتا ہے۔ شاہ لطیف حیدرآباد، بھٹ شاہ، سے نکل کر خطے کے قدیم راستوں سے ہوتے ہوئے خود ان یاتریوں اور فقراء کے قافلوں کے ہمراہ لسبیلہ گئے تھے۔ انہوں نے اس آستانے کی تاریخی حیثیت کا ذکر کرتے ہوئے اسے مائی نانی اور نانی پیر کہہ کر پکارا اور فرمایا کہ یہ فقراء مٹی کے پجاری نہیں بلکہ حق کے تلاشی ہیں جنہوں نے اس غار کی خاموشی میں اس نور کو دیکھا ہے جو انسان کو مادی دنیا کے تعصبات سے آزاد کر دیتا ہے۔
یہاں تاریخ کا ایک اور اہم دستاویزی پہلو مسلمانوں کے مثالی کردار کو واضح کرتا ہے۔ مکران کا یہ خطہ کسی بعد کے دور میں نہیں، بلکہ عہدِ خلافتِ راشدہ میں ہی اسلام کے زیرِ نگین آ چکا تھا اور پہلی ہجری صدی میں ہی یہ دھرتی تابعینِ عظام اور اولیاء اللہ کا مسکن بن چکی تھی، جن کی برکت سے یہاں حق کا علم بلند ہوا۔ مسلم فاتحین اور صوفیا کا یہ طرہ امتیاز رہا ہے کہ انہوں نے کبھی محکوم قوموں کے مذہبی مقامات کو مسمار نہیں کیا، بلکہ ان کی حفاظت کیا۔ برطانوی دور کے مورخین کی مرتب کردہ لسبیلہ کی دستاویزات اور خطے کی قدیم تاریخ کے مطابق، مسلم اقتدار قائم ہونے کے باوجود اس مندر کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا گیا، بلکہ صوفیانہ مزاج رکھنے والے مسلمانوں نے اس قدیم ورثے اور مٹی کے رشتے کا احترام قائم رکھتے ہوئے اسے نانی پیر یا بی بی نانی کا خوبصورت اور محترم روپ دے دیا۔ آج بھی جب مقامی بلوچ مسلمان اس وادی سے گزرتا ہے، تو وہ ایک سچے مسلمان کی طرح اس جگہ کی تاریخی حیثیت کا احترام کرتا ہے اور زائرین کی حفاظت اور خدمت کو اپنا فرض سمجھتا ہے۔ یہ مسلمانوں کا وہ روشن چہرہ ہے جس پر تاریخ ہمیشہ ناز کرے گی۔
لیکن اس کے برعکس، جب ہم سرحد کے اس پار نظر دوڑاتے ہیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ ایک طرف پاکستان اور اس کے غیور مسلمان ہیں جنہوں نے ہزاروں سال پرانے ہندو مندر کو نانی پیر کہہ کر اپنے سینے سے لگا رکھا ہے اور دوسری طرف مودی کا سنگدل ہندوستان ہے جہاں کٹر ہندو انتہا پسند مسلمانوں کی مذہبی شناخت اور ان کے وجود کو مٹانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ آج کے نام نہاد سیکولر ہندوستان میں مسلمانوں پر زمین تنگ کر دی گئی ہے، ان کی صدیوں پرانی مساجد کو شہید کیا جا رہا ہے اور سرِ عام گلیوں میں نہتے مسلمانوں پر وحشیانہ تشدد کرکے ان سے زبردستی ماتا کا نعرہ کہلوانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مودی کی سرپرستی میں کام کرنے والے انتہا پسند تاریخ کو مسخ کرکے مسلمانوں کے شعائر پر حملے کر رہے ہیں، جبکہ پاکستان کے مسلمان صدیوں سے اپنے ماتھے پر رواداری کا جھومر سجائے ہنگلاج ماتا کے مندر کی چوکیداری کر رہے ہیں۔
مودی سرکار کی مسلم دشمنی صرف اپنے ملک تک محدود نہیں ہے، بلکہ پاکستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کے لیے وہ سرحد پار دہشت گردوں کی پشت پناہی بھی کرتی ہے۔ ابھی چند دن پہلے، چوبیس مئی کو کوئٹہ میں ایک بزدلانہ خودکش حملہ کرکے معصوم شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کو خون میں نہلایا گیا۔ پاکستان کے دشمن اچھی طرح جانتے ہیں کہ بلوچستان کا یہ پورا خطہ بین المذاہب رواداری کا گہوارہ ہے، اسی لیے مودی سرکار کے پالے ہوئے دہشت گرد یہاں بم دھماکے کرکے ہمارے امن کو نشانہ بناتے ہیں۔ لیکن ان بیرونی شہ یافتہ لٹیروں کے مقابلے میں پاکستانی قوم اور ہماری غیور سیکیورٹی فورسز سیسہ پلائی دیوار بنی ہوئی ہیں۔ پاکستان اپنے جوانوں کی جانیں قربان کرکے بھی ہنگلاج ماتا اور نانی پیر جیسے مقامات کو مکمل تحفظ فراہم کر رہا ہے۔
ہمارے خطے کی زبانی روایات میں اکثر یہ مشہور کر دیا گیا کہ یہ مزار شاید شیرِ خدا حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی دادی کا ہے، تاکہ اس جگہ کو ایک تقدس دیا جا سکے۔ حالانکہ اگر ہم مستند اسلامی تاریخ کا مطالعہ کریں، تو رسول اللہ اور حضرت علی کی دادی محترمہ کا نام فاطمہ بنت عمرو تھا، جو مکہ مکرمہ کے قبیلہ قریش سے تعلق رکھتی تھیں اور اسلام کی آمد سے بھی پہلے مکہ میں ہی وفات پا گئی تھیں۔ ان کی تدفین مکہ کے قدیم اور تاریخی قبرستان جنت المعلیٰ میں ہوئی تھی۔ ان کا بلوچستان کی اس دھرتی سے کوئی جغرافیائی یا تاریخی تعلق نہیں رہا۔ لسانیات کے بعض ماہرین کے مطابق، قدیم زبانوں میں بزرگ خاتون یا ماتا کے لیے استعمال ہونے والا لفظ وقت کے ساتھ مقامی زبان کے اثر سے نانی کے روپ میں ڈھل گیا، جسے صوفیا نے نانی پیر بنا دیا۔
ہنگلاج ماتا اور نانی پیر کا یہ تاریخی غار آج کی دنیا کے لیے اور خصوصاً مودی کے ہندوستان کے لیے ایک فکری تازیانہ اور ایک بہت بڑا سبق ہے۔ انسانی سیاست جب جنم لیتی ہے تو عقیدوں اور سرحدوں کی لکیریں کھینچ دیتی ہے، لیکن مٹی جب اپنی محبت لٹاتی ہے تو وہ تفریق نہیں کرتی۔ پاکستان کے مسلمانوں نے اس غار کو امن کا گہوارہ بنا کر ثابت کر دیا ہے کہ اسلام سلامتی کا مذہب ہے۔ مودی سرکار کو ہنگول کی اس وادی سے سیکھنا چاہیے کہ اقلیتوں کے حقوق کیا ہوتے ہیں اور مذہبی مقامات کا تحفظ کیسے کیا جاتا ہے۔ یہ غار اور اس سے جڑا احترام کا رشتہ مٹی کی اس لاشعوری یادداشت کا نام ہے جسے کوئی بھی فتوے باز یا مودی کی نظریاتی قینچی کاٹ نہیں سکتی۔

