Saturday, 30 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Anwar Bhatti
  4. Hasraton Ka Bojh Aur Rasm e Taziyat

Hasraton Ka Bojh Aur Rasm e Taziyat

حسرتوں کا بوجھ اور رسمِ تعزیت

انسان کی بے حسی، المیہ اور زندگی کے آخری لمحات کا وہ سچ جو کفن کی تہوں میں ہمیشہ کے لیے دفن ہو جاتا ہے ایک ایسا موضوع ہے جو روح کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے۔ جب سانسوں کی ڈور ٹوٹتی ہے تو پیچھے صرف ایک خاموش وجود رہ جاتا ہے جس کی بند آنکھیں اور ساکت لب ان گنت رازوں، حسرتوں اور پکاروں کے امین ہوتے ہیں جنہیں دنیا والے کبھی نہیں سن پاتے۔ پسماندگان صرف روایتی کلمات ادا کرکے اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو جاتے ہیں لیکن اس رخصت ہونے والی روح کا اصل بوجھ کیا تھا اس کا ادراک کسی کو نہیں ہوتا۔

بندن میاں اجنبیت کی ایک ایسی چادر اوڑھے شہر کے قدیم ریلوے اسٹیشن کے آخری پلیٹ فارم پر بیٹھے تھے جہاں اب ریل گاڑیاں رکتی نہیں تھیں بلکہ صرف گزر جاتی تھیں بالکل اسی طرح جیسے زندگی انسان کے پاس ٹھہرنے کے بجائے اس کے سامنے سے گزر جاتی ہے اور وہ صرف ہاتھ ملتا رہ جاتا ہے۔ ان کے سامنے ایک پرانی شکستہ لکڑی کی بنچ تھی جس پر وقت کی دیمک نے اپنے گہرے نشانات چھوڑے تھے اور ان کے ہاتھ میں مٹی کا ایک کورا کلوت تھا جس سے اٹھتا ہوا دھواں فضا میں بکھر کر اپنی بساط کا اعلان کر رہا تھا مگر بندن میاں کی نظریں سامنے بکھرے ہوئے سوکھے پتوں پر ٹکی تھیں جنہیں ہوا کا ہر جھونکا ایک نئی سمت میں گھسیٹ کر لے جا رہا تھا۔

انہوں نے اپنی سفید گھنی بھنووں کے نیچے چمکتی ہوئی سنجیدہ آنکھوں کو تھوڑا سا سیکڑا اور اپنے دائیں ہاتھ کی لکڑی کو زمین پر ٹکاتے ہوئے ایک گہرا سانس لیا جو ان کے سینے کے اندر چھپے ہوئے کسی پرانے درد کی غمازی کر رہا تھا۔ انہوں نے مٹی کے برتن کو ایک طرف رکھا اور اپنے کرتے کی آستین کو الٹتے ہوئے اداسی سے زمین کو تکنے لگے جہاں موت اور زندگی کے اسرار ایک دوسرے میں گندھے ہوئے محسوس ہو رہے تھے۔ ان کے ذہن میں یہ خیال گونج رہا تھا کہ انسان کی سب سے بڑی لغزش یہ ہے کہ وہ موت کو صرف ایک جسم کا ساکت ہو جانا سمجھتا ہے حالانکہ موت تو اس طویل خاموشی کا نقطہ آغاز ہے جس کے پیچھے ان گنت چیخیں اور پکاریں ہمیشہ کے لیے قید ہو جاتی ہیں۔

شہر کے مضافات میں مٹی کا ایک نیا ڈھیر نمودار ہوا تھا جہاں چند لمحے پہلے ایک وجود کو منوں مٹی تلے دبا دیا گیا تھا اور لوگ اپنے کپڑوں سے گرد جھاڑتے ہوئے واپس لوٹ رہے تھے۔ بندن میاں بھی اسی ہجوم کے ایک کونے میں خاموش کھڑے اس منظر کو دیکھ رہے تھے جہاں رخصت ہونے والے کے قریبی عزیز نہایت تندہی سے اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَيُهِ رَاجِعُوُنَ پڑھ رہے تھے اور ان کے چہروں پر ایک ایسی مصلحت آمیز سنجیدگی تھی جو صرف رسم دنیا نبھانے کے لیے ادھار لی جاتی ہے۔

بندن میاں نے اپنے دل میں سوچا کہ یہ دو لفظی تسلی کتنی آسان ہے جو زبان سے ادا ہوتے ہی انسان کو ہر اس قرض سے سبکدوش کر دیتی ہے جو اس کا اس مرنے والے پر واجب تھا لیکن اس چادر کے نیچے جو آخری ہچکی دبی تھی اس کا حساب کتاب کون کرے گا۔ مرنے والے نے جب آخری بار اپنی بند ہوتی ہوئی آنکھوں سے کمرے کی چھت کو تکا ہوگا تو اس کے ذہن کے پردے پر کتنے چہرے ابھرے ہوں گے اس نے کتنے ایسے نام لیے ہوں گے جو اس کی زندگی کا حاصل تھے مگر وہ نام لبوں تک آتے آتے حلق کے تالاب میں ہی غرق ہو گئے کیونکہ باہر کھڑے لوگ صرف سانسوں کے اکھڑنے کا تماشا دیکھ رہے تھے ان کے اندر کی پکار کو سننے والا کوئی کان وہاں موجود نہیں تھا۔

انسانی معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم چہرے کے خدوخال کو سچ مان لیتے ہیں اور کفن کے اندر چھپی اس کائنات کو نظرانداز کر دیتے ہیں جو حسرتوں کی راکھ سے بنی ہوتی ہے اور جس کا وزن اٹھانے سے زمین بھی انکار کر دیتی ہے۔ بندن میاں نے اپنے چلو میں مٹی لی اور اسے قبر پر آہستہ آہستہ گراتے ہوئے کہنے لگے کہ جب انسان بستر مرگ پر لیٹا ہوتا ہے اور اس کے گرد تیمارداروں کا ہجوم ہوتا ہے تو وہ ہجوم دراصل ایک دیوار کی مانند ہوتا ہے جو مرنے والے اور زندگی کے درمیان کھڑی کر دی جاتی ہے۔ اس آخری لمحے میں انسان تنہا نہیں ہوتا بلکہ اس کے ساتھ اس کی پوری زندگی کے پچھتاوے، اس کی ادھوری باتیں، اس کی وہ معافیاں جو وہ مانگنا چاہتا تھا اور وہ شکوے جو وہ دور کرنا چاہتا تھا سب ایک لائن میں کھڑے ہوتے ہیں۔ وہ شخص جو بظاہر خاموش لیٹا ہوتا ہے وہ دراصل اپنے اندر ایک ایسی جنگ لڑ رہا ہوتا ہے جہاں ہر ہتھیار ٹوٹ چکا ہوتا ہے اور وہ اپنے حلق سے ایک ایسی آواز نکالنے کی کوشش کرتا ہے جو اس کے پیاروں کو روک سکے انہیں بتا سکے کہ میں ابھی جانا نہیں چاہتا یا یہ کہ مجھے اس بات کا افسوس ہے مگر وہ آواز ہوا کے دوش پر سوار ہونے سے پہلے ہی اس کے سینے کے قفس میں دم توڑ دیتی ہے۔ زندہ لوگ صرف اس کے لبوں کی جنبش کو دیکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ شاید وہ کلمہ پڑھ رہا ہے حالانکہ وہ اپنے گزرے ہوئے کل کو پکار رہا ہوتا ہے جو اب کبھی لوٹ کر نہیں آ سکتا۔

تاریخ کے صفحات پلٹ کر دیکھیں تو ہمیں ایسی ان گنت مثالیں ملتی ہیں جہاں بڑے بڑے سلاطین اور مفکرین اپنے آخری وقت میں اس قدر بے بس نظر آئے کہ ان کے پاس اپنے اقتدار اور علم کے باوجود ایک جملہ کہنے کی مہلت نہیں تھی اور ان کے اندر کا سچ ان کے ساتھ ہی منوں مٹی تلے سو گیا۔ سکندر اعظم نے جب دنیا سے کوچ کیا تو اس کے کھلے ہوئے ہاتھ اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ وہ دنیا سے خالی ہاتھ جا رہا ہے لیکن اس کا ایک دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ وہ کھلے ہاتھ دراصل اس پکار کا اظہار تھے جو وہ اپنی ماں کے لیے اپنے دوستوں کے لیے چھوڑ گیا تھا وہ ایک ایسی التجا تھی جو وہ مالکِ حقیقی کے حضور کر رہا تھا کہ مجھے چند سانسیں اور دے دی جائیں تاکہ میں اپنے کیے کی تلافی کر سکوں اور اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر سکوں۔ لیکن دنیا نے صرف اس کے خالی ہاتھوں کو دیکھا اور ایک اخلاقی سبق اخذ کرکے اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئی کسی نے اس وزن کو محسوس نہیں کیا جو اس کے دل پر اس وقت تھا جب اس کی روح اس کے جسم کے قفص کو چھوڑ رہی تھی۔ اسی طرح جب ہم کسی عام انسان کے جنازے میں شریک ہوتے ہیں تو ہم صرف اس کے قد و قامت، اس کے عہدے یا اس کی دولت کا تذکرہ کرتے ہیں کوئی یہ نہیں سوچتا کہ اس سفید کپڑے کے اندر جو دل اب ہمیشہ کے لیے ساکت ہو چکا ہے وہ اپنی آخری گھڑی میں کتنی بار دھڑکا ہوگا اور ہر دھڑکن کے ساتھ اس نے کس کس کو پکارا ہوگا۔

بندن میاں اکثر شہر کے چوراہے پر بیٹھ کر لوگوں کے چہروں کو پڑھنے کی کوشش کرتے تھے اور انہیں ہر چہرے کے پیچھے ایک چلتی پھرتی قبر نظر آتی تھی جس میں انسان اپنی خواہشات کو زندہ دفن کرکے گھوم رہا ہوتا ہے۔ انہوں نے ایک بار اپنے ایک مرید سے کہا تھا کہ میاں یہ جو تم روز بازاروں میں رونق دیکھتے ہو یہ دراصل ان لوگوں کا ہجوم ہے جو اپنے اندر کی موت کو چھپانے کے لیے باہر کا شور ادھار لیتے ہیں اور جب ان کا اپنا وقت آتا ہے تو وہ اس شور کو واپس لوٹا کر بالکل اکیلے رہ جاتے ہیں۔ جب کسی کی میت گھر کے صحن میں رکھی ہوتی ہے اور عورتیں بین کر رہی ہوتی ہیں مرد حضرات باہر شامیانہ لگا کر بیٹھ جاتے ہیں اور چائے کے دور چل رہے ہوتے ہیں تو اس وقت اس بند کمرے میں مرنے والے کا وجود ایک ایسی گواہی بن جاتا ہے جہاں وہ خود ہی اپنی بے بسی کا مشاہدہ کر رہا ہوتا ہے۔ وہ اپنے اندر ان تمام لمحوں کا حساب کر رہا ہوتا ہے جہاں اس نے کسی کا دل دکھایا تھا جہاں اس نے کسی کا حق مارا تھا یا جہاں وہ کسی سے محبت کا اظہار نہیں کر سکا تھا اور وہ چاہتا ہے کہ کوئی اس کے کفن کو ہٹا کر اس کے دل پر ہاتھ رکھے اور کہے کہ میں نے تمہیں معاف کیا مگر زندہ لوگ صرف اس کے چہرے کی زردی کو دیکھ کر افسوس کا اظہار کرتے ہیں اور گھی کے چراغ جلانے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔

یہ بے حسی اس وقت اور بھی سنگین ہو جاتی ہے جب ہم رخصت ہونے والے کے ساتھ اپنے تعلقات کا موازنہ اس کی موت کے بعد کرنے بیٹھتے ہیں اور اپنی انا کو تسکین دینے کے لیے اس کے عیوب کو اچھالتے ہیں یا پھر اس کی اچھائیوں کا ایسا مبالغہ آمیز تذکرہ کرتے ہیں جس کا اس کی حقیقی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ یہ صورتحال ہمیں مجبور کرتی ہے کہ ہم موت کو ایک سماجی رسم کے بجائے ایک انفرادی اور لرزہ خیز حقیقت کے روپ میں دیکھیں جہاں ہر انسان کو اپنے حصے کا بوجھ خود ہی اٹھانا پڑتا ہے۔

بندن میاں نے ایک بوڑھے لکڑہارے کی مثال دی جو عمر بھر جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر شہر میں بیچتا رہا اور جب اس کا آخری وقت آیا تو اس کے پاس اپنے بچوں کے لیے کوئی وصیت نہیں تھی لیکن اس کی آنکھوں سے بہنے والا ایک آنسو اس بات کا ثبوت تھا کہ وہ ان لکڑیوں کے بوجھ سے زیادہ اس خاموشی کے بوجھ سے دبا ہوا تھا جو اس نے اپنے خاندان کے تحفظ کے لیے عمر بھر اپنے سینے میں چھپائے رکھی تھی۔ اس نے کتنی بار اپنے بچوں کو گلے سے لگانا چاہا ہوگا کتنی بار ان سے اپنے دکھ بانٹنے چاہے ہوں گے مگر معاشرے کے بنائے ہوئے اصولوں اور مردانگی کے جھوٹے معیار نے اس کے لبوں پر تالے لگا دیے تھے اور جب وہ مرا تو لوگوں نے صرف یہ کہا کہ بیچارہ بڑا صابر انسان تھا کسی نے اس صابر کے اندر چھپے ہوئے طوفان کا سراغ لگانے کی زحمت نہیں کی۔

ہماری زبانوں سے نکلنے والے تعزیتی کلمات جیسے اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَيُهِ رَاجِعُوُنَ دراصل ایک الٰہی حقیقت کا اعتراف ہیں لیکن ہم نے انہیں ایک ایسی ڈھال بنا لیا ہے جس کے پیچھے ہم اپنی اخلاقی اور جذباتی ذمہ داریوں کو چھپا لیتے ہیں۔ بندن میاں کے فلسفے کے مطابق جب کوئی انسان یہ آیت پڑھتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہونا چاہیے کہ وہ اس بات کو تسلیم کر رہا ہے کہ جو گیا وہ تو اپنے ربِ رحیم کی طرف لوٹ گیا جو کائنات کا سب سے بڑا سہارا اور بخشنے والا ہے لیکن جو پیچھے رہ گئے ہیں ان کے لیے اب ہماری ذمہ داری کیا ہے اور جو ادھورا پن وہ اپنے پیچھے چھوڑ گیا ہے اس کا مداوا کون کرے گا۔

ہم صرف افسوس کے چند بول بول کر جنازے کو کندھا دے کر اور قبرستان کی مٹی سے اپنے ہاتھ دھو کر یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنا حق ادا کر دیا حالانکہ اصل امتحان تو اس وقت شروع ہوتا ہے جب اس مرنے والے کی یادیں اس کے ادھورے خواب اور اس کے بچوں کی ویران آنکھیں ہمارے سامنے سوال بن کر کھڑی ہوتی ہیں۔ جو بوجھ وہ اپنی قبر تک ساتھ لے کر گیا اس کا کچھ حصہ اگر ہم اس کی زندگی میں ہی اٹھا لیتے اس کی تنہائی کو اپنی گفتگو سے بدل دیتے اس کی خاموش پکار کو سن لیتے تو شاید اس کے آخری لمحات اتنے اذیت ناک نہ ہوتے اور اس کا حلق اس طرح آوازوں کا مزار نہ بنتا۔

تعلیماتِ انسانی کا یہ نچوڑ ہے کہ زندگی کی اصل خوبصورتی ایک دوسرے کے احساس کو سمجھنے میں ہے نہ کہ موت کے بعد بڑے بڑے مقبرے تعمیر کرنے یا تعزیتی جلسوں میں لمبی لمبی تقریریں کرنے میں۔ بندن میاں نے گفتگو کے آخری زاویے کو ایک مثبت اور اصلاحی روشنی کی طرف موڑتے ہوئے کہا کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے آخری لمحات حسرتوں کا مجموعہ نہ بنیں تو ہمیں آج سے ہی اپنے رویوں میں تبدیلی لانا ہوگی اور اپنے اردگرد موجود لوگوں کی زندگیوں میں اس وقت شامل ہونا ہوگا جب انہیں ہماری ضرورت ہوتی ہے نہ کہ اس وقت جب وہ ہماری پہنچ سے دور ہو چکے ہوں۔

ہمیں اپنے پیاروں کے دلوں کے اندر جھانکنے کی عادت ڈالنی ہوگی ان کے ان الفاظ کو بھی سننا ہوگا جو وہ زبان پر نہیں لاتے اور ان کے چہروں پر لکھی ہوئی اس تحریر کو پڑھنا ہوگا جو وہ دنیا سے چھپاتے پھرتے ہیں۔ جب ہم ایک دوسرے کے وجود کا حصہ بن جائیں گے اور ہماری ہمدردی صرف رسمی کلمات تک محدود نہیں رہے گی تو موت کا خوف بھی کم ہو جائے گا اور رخصت ہونے والی روح کو یہ اطمینان ہوگا کہ اس نے ایک ایسی دنیا میں سانس لی جہاں اس کے جذبات کی قدر کی جاتی تھی اور جہاں اس کی پکار کو سننے کے لیے زندہ دل موجود تھے۔

اصلاح کا یہ عمل کسی دوسرے سے نہیں بلکہ اپنے آپ سے شروع ہوتا ہے اور جب تک ہم اپنے اندر کی انا اور غفلت کے پردوں کو چاک نہیں کریں گے ہم کبھی بھی اس سچے انسانی مرتبے کو حاصل نہیں کر سکتے جو کائنات کا اصل مقصود ہے۔ بندن میاں نے اپنی لکڑی کو دوبارہ ہاتھ میں لیا مٹی کے کورے کلوت کو دیکھا جو اب پوری طرح ٹھنڈا ہو چکا تھا اور ایک دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ اٹھے جیسے انہوں نے کائنات کا ایک بہت بڑا راز پا لیا ہو اور وہ راز یہی تھا کہ زندگی کو اس کی تمام تر سچائیوں کے ساتھ اسی لمحے میں جی لینا چاہیے اور دوسروں کے لیے اس طرح آسانیاں پیدا کرنی چاہئیں کہ جب ہمارا اپنا آخری وقت آئے تو ہمارے لبوں پر کوئی حسرت نہ ہو اور نہ ہی ہمارا حلق ہماری ہی آوازوں کا مزار بنے۔ انہوں نے اپنے قدم آگے بڑھائے اور پلیٹ فارم کی ویرانی میں گم ہو گئے لیکن ان کے پیچھے چھوڑی ہوئی سوچ فضا میں ایک ایسی لہر پیدا کر گئی جو ہر سننے والے کے دل پر دستک دے رہی تھی اور اسے جھنجھوڑ کر کہہ رہی تھی کہ اٹھو اور اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے اپنے اردگرد موجود زندوں کی قدر کرنا سیکھو کیونکہ مرنے کے بعد تو صرف افسوس رہ جاتا ہے اور بوجھ قبر تک ساتھ چلا جاتا ہے۔

Check Also

Comedian?

By Rao Manzar Hayat